سونیا گاندھی کے خلاف گواہی پر 20 ہزار ڈالر کا انعام

امریکی قانون کے تحت سونیا گاندھی کو یہ عدالتی سمن ذاتی طور پر پہنچانے کی ذمہ داری مقدمہ دائر کرنے والوں کی ہوتی ہے
،تصویر کا کیپشنامریکی قانون کے تحت سونیا گاندھی کو یہ عدالتی سمن ذاتی طور پر پہنچانے کی ذمہ داری مقدمہ دائر کرنے والوں کی ہوتی ہے
    • مصنف, سلیم رضوی
    • عہدہ, نیویارک

امریکہ میں سکھوں کی تنظیم ’سکھس فار جسٹس‘ نے ایک مقدمے میں بھارت کی کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے خلاف شواہد فراہم کرنے والے کے لیے 20 ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے اور تنظیم نے اس سلسلے میں اشتہار پر اخبار میں چھپوایا ہے۔

یہ مقدمہ سنہ 1984 میں سکھ مخالف فسادات کے سلسلے میں تیار کیا گیا تھا۔

عدالت نے اس سلسلے میں گذشتہ سال ستمبر میں سونیا گاندھی کے خلاف سمن جاری کیے تھے اور مقدمہ دائر کرنے والوں کو یہ سمن سونیا گاندھی تک پہنچانے تھے۔

سونیا گاندھی کے خلاف یہ مقدمہ خارج ہونے کے قریب ہے کیونکہ عدالت میں مقدمہ دائر کرنے والے یہ ثابت نہیں کر پا رہے ہیں کہ انھوں نے سونیا گاندھی کو عدالتی سمن پہنچا دیےتھے۔

دوسری جانب سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہ سمن وصول نہیں کیے کیونکہ وہ گذشتہ سال دو سے نو ستمبرکے دوران امریکا میں موجود ہی نہیں تھیں۔

اس بات کو ثابت کرنے کے لیے نیو یارک کے ایک اخبار میں اشتہار شائع کروایا گیا ہے کہ جو بھی سونیا گاندھی کے گذشتہ سال دو سے نو ستمبرکے دوران امریکا میں موجودگی کی گواہی عدالت میں دے گا تو اسے 20 ہزار ڈالر انعام دیا جاےگا۔

اس اشتہار میں سونیا کی تصویر بھی شائع کی گئی ہے اور سکھ مخالف فسادات کی مختصر معلومات کے ساتھہ مقدمے کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

سکھوں کی تنظیم ’سكھس فار جسٹس‘ کے وکیل گرپتوت پانن کہتے ہیں ’سونیا گاندھی کے خلاف مقدمے میں چونکہ ان کے اس دعوے کی بہت اہمیت ہے کہ جب ان کو عدالتی سمن دیےگئے تھے تب وہ امریکہ میں تھیں ہی نہیں۔ اس لیے ہم نے انعام کا اعلان کیا ہے‘۔

پانن کہتے ہیں ’ہم تو بھارت کے اخبارات میں سونیا گاندھی کے نیویارک آنے کے بارے میں شائع خبروں کی بنیاد پر اس ہسپتال میں ان کے خلاف عدالتی سمن پہنچا کر آئے تھے تاہم ہم نے ان کو دیکھا تو نہیں تھا‘۔

سکھوں کی تنظیم کی جانب سے نیو یارک شہر کے ایک اخبار ’اے ایم نیویارک‘ میں ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں سونیا گاندھی کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے ’اگر آپ نے سونیا گاندھی کو دو سے نو ستمبر سنہ 2013 کے درمیان امریکہ میں دیکھا ہے اور آپ امریکی عدالت میں جج کے سامنے گواہی دے دیں تو سكھس فار جسٹس کی جانب سے آپ کو 20 ہزار ڈالرانعام دیا جائے گا‘۔

اندازہ کے مطابق، نیو یارک شہر میں اس اخبار کے قارئین کی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ ہے.

سکھ تنظیم کے وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ سونیا گاندھی گذشتہ سال ستمبر میں امریکہ میں موجود ہونے کے بارے میں بہت سے بیان دے چکی ہیں۔

سونیا گاندھی نے گزشتہ سال 28 دسمبر کو کانگریس پارٹی کے لیٹر ہیڈ پر لکھے ایک خط میں اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے جج کو اپنے وکیل کے ذریعہ بتایا تھا کہ وہ گذشتہ سال دو سے نو ستمبر کے دوران نیو یارک میں موجود نہیں تھیں اور انھیں کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔

سونیا گاندھی کے اس خط کے ساتھ کئی دیگر حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے وکیل روی بترا نے رواں برس دو جنوری کو عدالت سے یہ مقدمہ ختم کرانے کی اپیل بھی کی تھی۔

عدالت نے اس سلسلے میں ’سكھس فار جسٹس‘ اور مقدمہ دائر کرنے والے دوسرے افراد کو جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ جس کے بعد تنظیم نے اس طرح اشتہارات کے ذریعہ ثبوت اکٹھے کرنے کی مہم شروع کی۔

سکھ تنظیم کے وکیل کا کہنا ہے کہ صرف ایک خط لکھ دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ستمبر میں امریکہ میں ہی نہیں تھی بلکہ سونیا گاندھی کو عدالت میں ایک حلفیہ بیان داخل کروانا چاہیے تھا۔

یہ سمن سکھ تنظیم اور سنہ 1984 کے فسادات کے دو متاثرین موہندر سنگھ اور جسبیر سنگھ کی جانب سے عدالت میں سونیا گاندھی کے خلاف مقدمہ دائر کئے جانے کے بعد جاری کیےگئے تھے۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سونیا گاندھی اپنی پارٹی کے ان کارکنوں اور رہنماؤں کو بچا رہی ہیں جو سنہ 1984 کے فسادات میں مبینہ طور پر شامل تھے۔

امریکی قانون کے تحت سونیا گاندھی کو یہ عدالتی سمن ذاتی طور پر پہنچانے کی ذمہ داری مقدمہ دائر کرنے والوں کی ہوتی ہے۔

مقدمے میں سونیا گاندھی سے سنہ 1984 کے فسادات کے متاثرین کے لیے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

سنہ 1984 میں دہلی میں ہونے والے سکھ مخالف فسادات میں تقریباً تین ہزار سکھ مارے گئے تھے۔