بھارت میں سونیا گاندھی کے مندر کی تعمیر

- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, حیدرآباد
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کی مورتی والے ایک مندر کی تعمیر ہو رہی ہے۔
اس مندر کی تعمیر سونیا گاندھی کے مداحوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ایک سابق وزیر پی شنکر راؤ نے بتایا کہ اس مندر میں سونیا گاندھی کا نو فٹ کا مجسمہ نصب کیا جائے گا جو سونیا گاندھی کے لیے ان کے لیے اظہارِ عقیدت کا مظہر ہوگا۔
واضح رہے کہ 67 سالہ اطالوی نژاد سونیا گاندھی بھارت کی اہم ترین سیاسی شخصیتوں میں سے ایک ہیں اور ان کا تعلق ملک کے سب سے بااثر نہرو گاندھی خاندان سے ہے جس نے اب تک ملک کو تین وزیر اعظم دیے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی سیاست دان کے لیے اس ریاست میں مندر تعمیر کیا گیا ہو۔
اس سے قبل آندھرا پردیش میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اور سیاست میں آنے والے معروف اداکار این ٹی راما راؤ کے مندر تعمیر کیے جا چکے ہیں۔
مسٹر شنکر راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس مندر کی تعمیر محبوب نگر ضلع میں کر رہے ہیں، اور اس کے ذریعے وہ مسز گاندھی کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے پارٹی میں آندھرا پریش کی تقسیم کا فیصلہ کیا اور نئی ریاست تلنگانہ وجود میں آئی۔
تلنگانہ میں آندھر پردیش کے 23 میں سے دس اضلاع آتے ہیں جن میں بھارت کا چھٹا بڑا شہر حیدرآباد بھی شامل ہے۔ اس کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر راؤ نے کہا: ’مسز سونیا گاندھی کا شکریہ ادا کرنے کا یہ ہمارا اپنا طریقہ ہے کیونکہ انھوں نے کئی دہائیوں سے دیکھے جانے والے تلنگانہ کے خواب کو پورا کرنے میں تاریخی کردار نبھایا ہے۔‘
علاقائی کاریگر اور فنکار مسز گاندھی کے مجسمے کی تیاری میں لگے ہیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں ایک نوخیز پودا ہے اور دوسرے ہاتھ میں پھلوں کا ایک خوان ہے۔

انھوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ یہ مندر پھلے پھولے گا اور لوگ یہاں مسز گاندھی کی پوجا کرنے آئیں گے۔‘
دوسری جانب بعض لوگوں نے مندر کی تنقید کی ہے اور اسے چاپلوسی کی انتہا سے تعبیر کیا ہے۔
ریاست میں سینیئر کمیونسٹ رہنما راماکرشنن نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ اپنے مفاد حاصل کرنے کے لیے چاپلوسی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ بھارت ایک جمہوریہ ہے اور یہاں ایسی نامعقول باتوں کی گنجائش نہیں ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی عزت تو کی جاسکتی ہے لیکن ان کی خدا کی طرح عبادت نہیں کی جاسکتی۔‘
انھوں نے کہا: ’شاید سونیا گاندھی کو اس کی خبر نہ ہو۔ اگر انھیں خبر ہوگی تو وہ اسے روک دیں گی۔‘
واضح رہے کہ سونیا گاندھی حکومت میں کسی عہدے پر فائز نہیں ہیں لیکن انھیں بہت سے لوگ حقیقی سربراہ تسلیم کرتے ہیں۔







