قدیم ترین بدھ عبادت گاہ دریافت

آثار قدیمہ کے ماہرین نے بدھ مذہب کے بانی مہاتما بدھ کی جائے پیدائش پر کھدائی کے دوران اب تک کی قدیم ترین عبادت گاہ کی باقیات دریافت کی ہیں۔
انھوں نے نیپال میں لمبنی کے مقام پر مایا دیوی مندر میں چھٹی صدی قبل مسیح کی ایک تعمیر دریافت کی ہے۔ یہ عمارت لکڑی کی بنی ہوئي ہے۔
کھدائی کی جانے والی عمارت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ایک پیڑ بھی تھا جس سے اس روایت پر روشنی پڑتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گوتم بدھ کی ماں نے ان کی پیدائش کے وقت ایک پیڑ کی ڈال پکڑ رکھی تھی۔
آثار قدیمہ کے ایک جرنل ’اینٹی کوئٹی‘ میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دریافت سے مہاتما بدھ کی پیدائش سے متعلق تنازع ختم ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ہر سال بدھ مت کے پیروکار زیارت کے لیے لمبنی آتے ہیں جہاں سدھارتھ گوتم کی پیدائش ہوئی تھی جو بعد میں مہاتما بدھ کہلائے۔
ان کی زندگی اور تعلیمات کے سلسلے میں بہت سے متون کی موجودگی کے باوجود یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس زمانے میں گزرے ہیں۔
بہت سے اندازوں کے مطابق ان کی پیدائش 623 قبل مسیح میں ہوئی تھی لیکن سکالروں کا خیال ہے کہ وہ 340-390 قبل مسیح کے درمیان زندہ ہوں گے۔

اب تک لمبنی میں کوئی بھی تعمیر تیسری صدی قبل مسیح یعنی راجا اشوک کے زمانے سے پہلے کی دریافت نہیں ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بابت مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے آثار قدیمہ کے ماہرین نے مندر کے اندر کھدائی شروع کی جہاں بدھ راہب، راہبائیں اور زائرین اپنے دھیان میں غرق رہا کرتے تھے۔
انھیں وہاں ایک لکڑی کا بغیر چھت والی عمارت ملی جو کہ بعد میں تعمیر ہونے والی اینٹ کی عمارت کے مرکز میں تھی۔
ابھی تک اس عمارت کے ٹکڑوں، تارکول اور ریت کی باقیات کی کئی سائنسی تکنیک کے تحت جانچ کی گئی ہے۔
ڈرہم یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کے پروفیسر اور کھدائی کرنے والی ٹیم کے سربراہ روبن کننگھم نے کہا ہے: ’اب پہلی بار ہمارے پاس آثارِ قدیمہ پر مشتمل ثبوت ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہاں چھٹی صدی قبل مسیح میں بھی عمارت تھی۔‘
واضح رہے کہ اس کھدائی میں نیشنل جیوگرافیکل سوسائٹی کا بھی تعاون حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دنیا میں یہ بدھوں کے قدیم ترین مندر کا ثبوت ہے۔ یہ اس طویل بحث پر روشنی ڈالتا ہے جس کے دوران بدھ مت کی تعلیمات اور روایات میں اختلاف پیدا ہوئے تھے۔‘
اس کھدائی میں اس قدیم پیڑ کی جڑوں کے آثار بھی ملے ہیں جو اس مرکزی عمارت کے مرکز میں موجود خالی جگہ میں تھے۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پیڑ والا مندر تھا۔
روایت کے مطابق رانی مایا دیوی نے سدھارتھ کو ایک پیڑ کی ٹہنی پکڑ کر اس وقت جنم دیا تھا جب وہ لمبنی کے باغ میں ٹہل رہی تھیں۔
اس دریافت کے بعد یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اب اس مقدس مقام کے تحفظ کی کوشش کی جائے گی ہر چند کہ یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں ہونے کے باوجود یہ عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔
نیپال کے سیاحت اور ثقافت کے وزیر رام کمار شریسٹھ نے کہا: ’اس دریافت سے مہاتما بدھ کی جائے پیدائش کے بارے میں بہتر معلومات ملیں گی۔‘







