تاریخی نالندہ یونیورسٹی کی یاد میں

نالندہ یونیورسٹی
،تصویر کا کیپشنپانچویں صدی عیسوی میں بھارت میں ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی نالندہ ہوا کرتی تھی

یورپ کی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے بھی کئی صدی قبل بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کی نالندہ یونیورسٹی تعلیم و تعلم کا ایک اہم اور عالمی مرکز ہوا کرتی تھی۔

پانچویں صدی میں قائم ہونے والی اس یونیورسٹی میں ایشیا کے اکثر علاقوں سے لوگ پڑھنے کے لیے آتے تھے لیکن 1193ء میں یہ بیرونی حملوں کا شکار ہو گئی۔

اب 21 ویں صدی میں بعض دانشوروں نے اس قدیم یونیورسٹی کے وقار کو از سر نو بحال کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

دانشوروں کے اس گروپ کی قیادت نوبل انعام یافتہ پروفیسر امرتيہ سین کر رہے ہیں۔

امرتیہ سین اور ان کے ساتھی اس قدیم یونیورسٹی کے کھنڈرات سے ملحق ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اس نئی یونیورسٹی میں تمام جدید مضامین کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے لیکن بہار جیسی غریب اور پسماندہ ریاست میں ایک عالمی سطح کی یونیورسٹی بنانا بہت مشکل کام ہے۔

امریکہ کے بوسٹن کالج کے پروفیسر فلپ آلٹ بیک اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں،’کیا اعلیٰ سطح کے طالب علم اور اساتذہ دیہی بہار کی طرف متوجہ ہوں گے؟‘

لیکن نالندہ یونیورسٹی کے چانسلر امرتيہ سین ان سب قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ہمارا کام نئی یونیورسٹی قائم کرنا اور پڑھائی شروع کر دینا ہے۔ یہ ایک شروعات ہے۔ قدیم یونیورسٹی تقریبا 200 سال میں اپنی شہرت کی بلندیوں پر پہنچی تھی۔ ہم لوگوں کو شاید 200 سال نہیں لگیں گے لیکن کچھ دہائیاں تو لگ جائیں گی۔‘

بھارت، چین، سنگاپور، جاپان اور تھائی لینڈ نے سنہ 2006 میں قدیم نالندہ یونیورسٹی کو دوبارہ شروع کرنے کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا، جس کے بعدامریکہ اور روس جیسے ممالک نے بھی اس کی حمایت کی۔

نئی نالندہ یونیورسٹی میں سب سے پہلے تاریخ اور ماحولیات کی تعلیم شروع ہوگی
،تصویر کا کیپشننئی نالندہ یونیورسٹی میں سب سے پہلے تاریخ اور ماحولیات کی تعلیم شروع ہوگی

نئی یونیورسٹی کو راجگير میں بنایا جا رہا ہے جو قدیم یونیورسٹی سے تقریبا 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں سب سے پہلے تاریخ اور ماحولیات کی تعلیم شروع ہوگی جس کے لیے دنیا بھر میں اشتہار دیا جا چکا ہے۔

یونیورسٹی میں پہلا بیچ سال 2014 سے شروع ہوگا۔

یونیورسٹی کے لیے زمین بہار حکومت نے دی ہے جبکہ باقی اخراجات کے لیے مرکزی حکومت اور کئی دوسرے ممالک امداد کر رہے ہیں۔

پروفیسر سین کے مطابق یونیورسٹی کی دھیرے دھیرے تعمیر ہوتی رہے گی اور دریں اثنا پڑھائی بھی جاری رہے گی۔

پروفیسر سین کا کہنا ہے کہ نئی یونیورسٹی کی ترغیب ایشیائی ریاستوں سے ملی ہے لیکن تعلیم، موضوع اور ماہرین کے معاملے میں یہ عالمی سطح کی ہوگی۔

پانچویں صدی میں قائم نالندہ یونیورسٹی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہاں تقریباً 10 ہزار طلبہ ہوا کرتے تھے۔ طلبہ میں زیادہ تر چین، جاپان، کوریا اور دوسرے ایشیائی ممالک سے آنے والے بدھ مت کے پیروکار ہوا کرتے تھے۔

نوبیل انعام یافتہ امرتیہ سین اس نئی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں
،تصویر کا کیپشننوبیل انعام یافتہ امرتیہ سین اس نئی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں

چینی راہب سیاح ہوین سانگ نے ساتویں صدی میں نالندہ میں تعلیم حاصل کی تھی اور انہوں نے اپنی کتاب میں یونیورسٹی کی خوبصورتی کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں نو منزلہ لائبریری کا ذکر بھی کیا ہے۔

جنوری 2013 میں جے پور ادبی میلے میں تبتیوں کے مذہبی گرو دلائی لامہ نے کہا تھا کہ ’بدھ مت کے تمام علم کا ذریعہ نالندہ یونیورسٹی تھی۔‘

دنيا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں کے ماہر تصور کیے جانے والے پروفیسر آلٹ بیک کو اس نئی یونیورسٹی کے عالمی مقام حاصل کرنے پر شک ہے۔

ان کا کہنا ہے؛ ’نالندہ کچھ بڑے ماہرین اور دانشوروں کو ضرور اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے لیکن اساتذہ اسی جگہ رہنا چاہتے ہیں جہاں اعلیٰ سطح کا بنیادی ڈھانچہ ہو۔ وہ کالج کے احاطے کے باہر بھی دانشوروں کا ماحول چاہتے ہیں۔‘

دوسری جانب نالندہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے رکن اور بھارتی پارلیمان کے رہنما نند کشور سنگھ کہتے ہیں کہ نالندہ یونیورسٹی کی وجہ سے اس علاقے کو ترقی ملےگی۔