افغان سرزمین پر ایف سی اہلکاروں کے قتل کا الزام مسترد

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان نے پاکستان کے اس الزام کو رد کیا ہے جس میں افغان سرزمین پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے فرنٹیئر کور کے 23 اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کرنے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔
افغان صدر کے دفتر کے ایک ترجمان نے جمعرات کو بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس قسم کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ پاکستان کے ایف سی کے اہلکاروں کو افغان سرزمین پر ہلاک کیا گیا ہو۔
انھوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ بدقسمتی سے افغانستان خود بھی ’دہشت گردانہ‘ حملوں کی زد میں ہے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان خود شدت پسندوں کو پناہ دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان اس قسم کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ پاکستان کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے جمعرات کو مالدیپ میں افغان وزیر خارجہ ضرار مقبول عثمانی کے ساتھ ملاقات کے دوران انھیں افغانستان کی حدود میں ایف سی کے 23 اہلکاروں کے قتل پر پاکستان کے سخت احتجاج اور تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔
<link type="page"><caption> ’ایف سی اہلکاروں کا قتل طالبان کی اشتعال انگیز کارروائی ہے‘</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140217_pakistan_taliban_talks_refusal_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
پاکستان اور افغانستان کے یہ دونوں حکومتی اہلکار مالدیپ میں سارک ملکوں کے وزرا کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق سرتاج عزیز نے اپنے افغان ہم منصب کو یاد دلایا تھا کہ حال ہی میں انقرہ میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ دونوں ملک نہ صرف اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں گے بلکہ مخالفانہ کارروائیوں میں شامل جنگجوؤں کے خلاف کارروائی بھی کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرتاج عزیز نے افعان وزیر خارجہ پر زور دیا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے اور انھیں سزا دینے کے لیے فوری کارروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ سنیچر 16 جنوری کو تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خالد خراسانی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ایف سی کے ان 23 اہل کاروں کو قتل کر دیا ہے جنھیں جون سنہ 2010 میں اغوا کیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق طالبان نے یہ کام اپنے ساتھیوں کے انتقام کی خاطر کیا۔
ایف سی کے یہ اہلکار جون سنہ 2010 میں شونکڑی پوسٹ سے اغوا کیے گئے تھے۔ بعد ازاں پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور فوج کی جانب سے ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت پر شدید مذمت سامنے آئی۔ پاکستان کی فوج نے اسے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا۔







