’ایف سی اہلکاروں کا قتل طالبان کی اشتعال انگیز کارروائی ہے‘

کالعدم تحریکِ طالبان مہمند کے ہاتھوں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے دعوے کے بعد امن مذاکرات میں پیشرفت کے لیے حکومت اور طالبان کی نمائندہ کمیٹیوں کے علیحدہ علیحدہ اجلاس ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکالعدم تحریکِ طالبان مہمند کے ہاتھوں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے دعوے کے بعد امن مذاکرات میں پیشرفت کے لیے حکومت اور طالبان کی نمائندہ کمیٹیوں کے علیحدہ علیحدہ اجلاس ہوئے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے طالبان کے ہاتھوں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات سے امن مذاکرات پر منفی اثر پڑ رہا ہے جبکہ فوجی ذرائع نے اسے اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا ہے۔

وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اے پی سی کی روشنی میں سنجیدگی اور نیک نیتی سے مذاکرات کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

<link type="page"><caption> ’طالبان سے مزید مذاکرات سے قبل مشاورت ناگزیر‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140217_taliban_talks_rahimullah_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’منافیِ امن کارروائیاں ہوں ورنہ مشکل ہو گی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140214_talks_begins_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

ادھر فوج کے ایک اہلکار نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کے زیرِ حراست شدت پسند ہلاک کیے گئے ہیں۔ فوج نے ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا۔

حکومتی کمیٹی کا انکار

اتوار کی رات تحریکِ طالبان مہنمد کی جانب سے ایف سی اہلکاروں کو قتل کیے جانے کے بعد پیر کی صبح امن مذاکرات کے لیے قائم حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے علیحدہ اجلاس ہوئے۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے طالبان کے ایک گروہ کی جانب سے دو درجن سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کے حکومتی کمیٹی نے طالبان کی نمائندہ کمیٹی سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔

کمیٹی کے کوآرڈینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق طالبان کی نامزد کمیٹی نے سرکاری کمیٹی کو آج اکوڑہ خٹک میں ملاقات کی دعوت دی تھی جس سے معذرت کر لی گئی ہے۔

عرفان صدیقی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایف سی کے 23 مغوی اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کے فوراً بعد اس طرح کا اجلاس بے مقصد ثابت ہو گا۔‘

قومی امور کے لیے وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منگل 18 فروری کو طلب کیا گیا ہے جس میں ’موجودہ صورتِ حال کی روشنی میں آئندہ کے لائحۂ عمل پر غور کیا جائے گا۔‘

عرفان صدیقی نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی نے ایف سی کے مغوی اہلکاروں کے قتل کے واقعے کو افسوس ناک اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حالات درست سمت کی طرف نہیں بڑھ رہے:

’مذاکراتی عمل کے دوران پے در پے اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات پر انتہائی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ قوم ہم سے مثبت نتائج کی توقع رکھتی ہے تاکہ وطن عزیز کو کئی سالوں سے جاری خونریزی سے نجات ملے۔‘

طالبان کمیٹی کی مایوسی

طالبان کی جانب سے مذاکرات کے لیے نمائندہ کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کی جانب سے ملاقات سے انکار پر مایوسی کا اظہار کیا۔

کمیٹی کے رکن مولانا یوسف شاہ نے پروفیسر ابراہیم کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’کل تک جنگ بندی کے قریب پہنچ چکے تھے۔ افسوس ہے کہ حکومت کی کمیٹی نے ہمیں طالبان قرار دے کر ہم سے ملاقات ملتوی کر دی۔‘

مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ ’طالبان نے شوری کے اجلاس کے بعد ہم سے رابطہ کیا جس کے بعد ہم نے حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے کہا۔ آج دونوں کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہونا تھا لیکن حکومتی کمیٹی نے کہا کہ ملاقات نہیں ہوسکتی اور ایسا دوسری بار ہوا ہے۔‘

طالبان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق چہ میگوئیوں کے بارے میں مولانا یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ دس سالوں میں کسی ملٹری آپریشن کا مثبت نتیجہ نہیں ملا، اس سے ملک میں دہشت گردی کی شدید ترین لہر اٹھے گی۔‘

اس موقع پر پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ ’طالبان قانوناً کالعدم ہیں، اور بہت سے سولوں کے جواب ہمارے پاس نہیں۔‘

انھوں نے کہا طالبان نے اپنے طور پر میڈیا سے رابطے کیے ہیں اگر ان سے رابطہ کیا تو وہ ان سے وضاحت طلب کرتے۔

ایف سی اہلکاروں کے قتل کا دعویٰ

یاد رہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور مذاکرات کی نگرانی کے لیے بنائی گئی نو رکنی شوریٰ کے کے ایک اہم رکن عمر خالد خراسانی نے دو سال قبل اغوا کیے گئے 23 ایف سی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خالد خراسانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان اہلکاروں کا قتل کراچی اور دیگر علاقوں میں طالبان شدت پسندوں کو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک کرنے کا ردِ عمل ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات میں یہ بات پہلے ہی واضح کر دی گئی تھی اگر اس طرح کی کارروائیاں کی گئیں تو بات چیت کرنا نہ صرف مشکل ہوگا بلکہ ان میں کوئی پیش رفت بھی نہیں ہوگی اور نہ ہی ان مذاکرات کا کوئی فائدہ ہوگا۔

اتوار کی رات جارت بیان میں مہمند طالبان نے کہا کہ ’اپنے ساتھیوں کے انتقام کی خاطر ہم نے آج ایف سی کے ان 23 اہل کاروں کو قتل کیا جنھیں جون سنہ 2010 میں شونکڑی پوسٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔‘

یاد رہے جون سنہ 2010 میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ طالبان نے ایف سی کے 40 اہل کاروں کواس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنی پوسٹ پر موجود تھے۔