’ہتھیاروں کے بجائے امن کی زبان میں بات کریں‘

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان میں علما نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے جنگ بندی کو پہلی اور لازمی شرط قرار دیتے ہوئے حکومت اور طالبان دونوں سے کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بات سنیچر کو لاہور میں منعقد ہونے والی علما و مشائخ کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی ہے۔
مذاکرات کے لیے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کانفرنس کے بعد اعلامیہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ امن جنگ سے قائم نہیں ہو سکتا اور تمام علما اور مشائخ امن کا واحد راستہ مذاکرات کو سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کا اتفاق ہے کہ فوجی طاقت کا استعمال ملک کو لامتناہی تباہی کی جانب دھکیل دے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
سمیع الحق نے کہا کہ گزشتہ حکمرانوں کی غلط پالسییوں کی وجہ سے 15 برس سے پورا ملک جنگ میں مبتلا ہے اور پوری قوم آگ اور خون کے اس کھیل سے عاجز آ چکی ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’طالبان پاکستانی قوم کے فرزند ہیں اور قوم توقع رکھتی ہے کہ طالبان فوری طور پر امن و سلامتی، انسانیت، وطن کی خاطر ہمارے شانہ بشانہ چلیں اور ہتھیاروں کے بجائے امن کی زبان میں بات کریں۔‘
اعلامیے میں ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں حب الوطنی، یکجہتی اور قومی وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک زبان ہوکر فریقین کو امن کے منافی سرگرمیاں روکنے پر مجبور کریں گی۔
اعلامیے میں تمام مقتدر اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں موجود شورش کے اصل محرکات پر توجہ دیں اور حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی متفقہ قراردادوں اور آل پارٹیز کانفرنس کی سفارشات کے مطابق خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انھیں از سرنو تشکیل دینے پر غور کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشترکہ اعلامیے میں ملک کے تمام دینی مدارس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے21 فروری کو ’یوم دعا‘ کے طور پر منائیں۔
خیال رہے کہ جمعہ کو ملک میں قیام امن کے لیے حکومت اور طالبان کی طرف سے نامزدہ کردہ کمیٹیوں نے بھی دہشت گردی کے لیے ’منافی امن‘ کارروائیوں کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اس طرح کی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کی اپیل کی تھی۔
کراچی میں جمعرات کو پولیس کی بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان نے دھمکی دی تھی کہ باقاعدہ جنگ بندی ہونے تک ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی جس کے بعد حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔
جمعے کی صبح بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو میں قومی امور پر وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ اگر طالبان کی کمیٹی نے امن کے قیام کی ضمانت دی تو ہی بات آگے بڑھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مذاکرات کے ذریعے خواہشات کا جتنا بھی بڑا تاج محل کھڑا کر لیں، دہشت گردی کے ایک واقعے سے وہ لمحوں میں اڑ جائے گا۔ اس لیے مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے ان واقعات کا سلسلہ رکنا ہو گا۔ ہم خیالوں کی دنیا میں جنت نہیں بنا سکتے۔‘







