’اب تشدد رکنے پر ہی مذاکرات ہوں گے‘

حکومتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منگل کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہوا جس میں مذاکرات جاری رکھنے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنحکومتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منگل کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہوا جس میں مذاکرات جاری رکھنے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا

حکومتِ پاکستان کی جانب سے قائم کردہ چار رکنی کمیٹی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ امن مذاکرات کے لیے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی نمائندہ کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کرنے سے قاصر ہے۔

حکومتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منگل کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہوا جس میں مذاکرات جاری رکھنے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا: ’قیامِ امن کی سنجیدہ کوششوں کی کامیابی کا تمام تر انحصار پر تشدد کارروائیوں کے خاتمے پر ہے۔‘

حکومت کی قائم کردہ امن کمیٹی نے تحریکِ طالبان پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر مشروط طور پر بلا تاخیر پر تشدد کارروائیاں بند کردیں۔

کمیٹی نے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ طالبان کی کارروائیاں رکنے تک مذاکراتی عمل آگے بڑھانے سے قاصر ہے۔

سرکاری مذاکراتی کمیٹی نے اجلاس اور پھر وزیراعظم سے ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کمیٹی تمام صورتِ حال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ’قیام امن کی سنجیدہ کوششوں کی کامیابی کا تمام تر انحصار پرتشدد کارروائیوں کے مکمل خاتمے پر ہے۔‘

کمیٹی کے اراکین نے وزیراعظم کو 17 روزہ مذاکراتی عمل کی تفصیلات بتائیں اور اس دوران پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع سے آگاہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کمیٹی کی جانب سے حوصلہ شکن رد عمل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا ہے کہ اب صورتِ حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے:

’طالبان کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کی بندش اور موثر عمل درآمد کے اعلان کے بغیر یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے سے قاصر ہے۔‘

وزیراعظم سے ملاقات میں حکومتی کمیٹی کا موقف تھا کہ مہمند میں ہونے والی خون ریزی کی وجہ سے کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ طالبان کی کمیٹی سے طے شدہ اجلاس بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کمیٹی کے اراکین کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ کمیٹی کے ارکان آپس میں مشاورتی عمل اور حکومت کی رہنمائی جاری رکھیں۔

اتوار کی رات طالبان کے ایک ذیلی گروہ تحریکِ طالبان مہمند کی جانب سے 23 ایف سی اہلکاروں کے قتل کے دعوے کے بعد پیر کو حکومتی اور طالبان کی نمائندہ مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات منسوخ کر دی گئی تھی۔

حکومتی کمیٹی نے سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے ایسے وقت میں طالبان کی نمائندہ کمیٹی سے ملاقات کو نامناسب قرار دیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس واقعے کی مذمت کی اور پاکستانی فوج نے بھی اسے اشتعال انگیر اقدام قرار دیا۔

ادھر طالبان کی کمیٹی کے رابطہ کار یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے تقریباً تمام گروپ کالعدم تحریک طالبان کے پابند ہیں اور جنگ بندی پر آمادہ ہیں۔

پیر کی صبح نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ طالبان نے مولانا سمیع الحق کو اختیار دیا ہے کہ ’وہ جہاں چاہیں جس طرح چاہیں کوئی بھی فیصلہ کریں۔‘

ان کے مطابق طالبان کی سیاسی شوریٰ نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نھیں اگر حکومتی کمیٹی ملنا چاہتی ہے تو ملے ۔ مولانا یوسف شاہ نے مزید کہا کہ کوشش ہے کہ جو اکا دکا گروپ جنگ بندی کے حق میں نہیں انھیں بھی اس پر آمادہ کیا جائے۔

ادھر پیر کی شب سکیورٹی فورسز پر ایک اور حملہ ہوا ہے اور سکیورٹی حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔