امریکہ ’طالبان قیدیوں‘ کی رہائی پر ناراض

مارچ 2013 کے بعد بگرام جیل سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے
،تصویر کا کیپشنمارچ 2013 کے بعد بگرام جیل سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے

امریکی فوج نے افغان حکومت کی جانب سے ایسے 37 قیدیوں کی رہائی کے احکامات کی مذمت کی ہے جنھیں امریکہ سکیورٹی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔

ایک بیان میں امریکہ کی فوج نے کہا ہے کہ قیدیوں کی ’ماورائے عدالت رہائی‘ پیچھے کی جانب اٹھایا جانے والا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ 37 قیدی ان 88 قیدیوں میں سے ہیں جنھیں امریکہ نے حراست میں لیا تھا اور انھیں 2013 میں افغان حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ سب ’خطرناک مجرم‘ ہیں جبکہ افغانستان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کافی ثبوت موجود نہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی خطرہ قرار دیے جانے والے ایسے 72 قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا جن کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ثبوت کافی نہیں ہیں۔

افغان حکومت نے مارچ 2013 میں بگرام جیل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد وہاں مقید سینکڑوں قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے تاہم ان 88 قیدیوں کی رہائی کا معاملہ متنازع ہے۔

افغانستان جن 72 افراد کی رہائی کا ارادہ رکھتا ہے ان میں سے 45 کے بارے میں افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں جبکہ 27 کے خلاف موجود ثبوت مقدمے چلانے کے لیے ناکافی ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے کسی کی بھی رہائی بگرام جیل کے کنٹرول کی حوالگی کے وقت ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

پیر کو اپنے بیان میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ ’افغان جائزہ بورڈ ایسے خطرناک مزاحمت کاروں کو رہا کر رہا ہے جن کے ہاتھ افغانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان 37 میں سے 17 بم دھماکوں سے منسلک رہے ہیں یا انھیں ان دھماکوں کی منصوبہ بندی کا علم تھا۔

افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے امریکہ سے دوطرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے پہلے ہی دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مینڈیٹ کے مطابق امریکہ کی سربراہی میں افغانستان میں موجود بین الاقوامی افواج 2014 کے اختتام تک سکیورٹی کی تمام ذمہ داریاں افغان افواج کو سونپ دیں گی۔

لیکن اگر دونوں ممالک کے درمیان ’سکیورٹی اور دفاع کے تعاون کا معاہدہ‘ طے پاگیا تو تقریباً دس ہزار امریکی فوجی اگلے دس سال تک افغانستان میں رک سکتے ہیں۔