پشاور: بگرام جیل سے رہائی پانے والوں کی اپنوں سے ملاقات

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بگرام جیل سے رہائی پانے والے چھ پاکستانی قیدیوں کی ملاقات ان کے خاندانوں سے کروائی گئی۔
حکومتِ پاکستان کی تحویل میں موجود ان قیدیوں کی ملاقات پیر کو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر کروائی گئی۔
امریکی قید سے رہائی پانے والے ان قیدیوں کا تعلق پشاور اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے۔
ان قیدیوں نے افغانستان میں کئی برس جیلیں کاٹیں لیکن ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا جس کے بعد انھیں 16 نومبر کو پاکستان کے حوالے کر دیا گیا اور اس وقت سے یہ پشاور سینٹرل جیل میں مقید ہیں۔
ان قیدیوں میں ایک حمید اللہ بھی ہیں۔ حمید اللہ کا آبائی علاقہ تو جنوبی وزیرستان ہے تاہم ان کے والد وکیل خان کے مطابق وہ حمید اللہ کی پیدائش سے پہلے سنہ 1990 میں کراچی آ بسے اور یہیں سنہ 1993 میں حمید اللہ پیدا ہوئے۔
حمید اللہ کو جب گرفتار کیا گیا تو ان کی عمر 18 برس تھی۔ پانچ برس تک حمید اللہ کی والدہ نے ان کی رہائی کے لیے روزے رکھے۔ حمید اللہ کے والد وکیل خان سابق فوجی ہیں اور وہ کراچی میں رکشہ چلا کر خاندان کے افراد کا پیٹ پالتے ہیں۔
وکیل خان کہتے ہیں: ’سنہ 2008 میں جب جنوبی وزیرستان میں آپریشن شروع ہوا تو میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا۔ مجھے چھٹی نہیں مل سکی تو میں نے حمید اللہ کو وزیرستان بھیج دیا کہ وہ گھر کا سامان لے آئے۔ وہ کراچی واپسی کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان میں بس اڈے کے لیے نکلا لیکن کراچی نہیں پہنچا۔‘
کئی ماہ کی تلاش کے بعد جب انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے وکیل خان سے رابطہ کیا تو انھیں اتنی تسلی ہوئی کہ حمید اللہ زندہ ہیں اور وہ افغانستان کی بگرام جیل میں قید ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیل خان نے بتایا: ’حمید اللہ سے کئی بار فون پر بات ہوئی ہے لیکن اس دن ڈیرہ اسماعیل خان کے بس اڈے کے بعد اس پر کیا گزری اس کے بارے میں کچھ علم نہیں۔‘
حمید اللہ کی والدہ نے اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے مسلسل پانچ برس روزے رکھے ہیں اور اب 16 نومبر کو انھیں حمید اللہ کی پاکستان منتقلی کی خبر بھی مل چکی ہے لیکن حمید اللہ اپنے گھر کب واپس آ سکیں گے اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
تاہم وکیل خان تو اس پر بھی خوش ہیں اور کہتے ہیں: ’ہمیں تو یہ بہت خوشی ہے کہ وہ پاکستان واپس آ گیا ہے۔ پاکستان میں اگر وہ جیل میں بھی ہے تو کوئی بات نہیں۔ یہ تو اپنا ملک ہے۔‘
وکیل خان شاید پاکستان میں سینکڑوں لاپتہ افراد کے مقدمات سے آگاہ نہیں یا پھر وہ خوش فہم ہیں۔ تاہم بگرام سے پشاور سینڑل جیل منتقل ہونے والے ایک اور قیدی محمد ریاض کے بھائی محمد اسلم آفریدی اپنے بھائی کی افغانستان سے رہائی کے بعد بھی کچھ زیادہ پر امید نہیں۔
محمد اسلم سکول ٹیچر ہیں اور ان کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا بھائی محمد ریاض غصیلا اور ذہنی تناؤ کا شکار رہنے والا شخص ہے۔ ان کے لاپتہ ہونے کے بعد کئی ماہ تو خاندان والوں نے موت و حیات کی کشمکش میں گزارے۔ وہ اب بھی انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں۔
’پاکستانی حکومت کے کسی ادارے نے ریاض کی بگرام سے رہائی میں ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ سنہ 2012 میں ہمیں اطلاع ملی کہ ریاض رہا ہونے والے ہیں لیکن ہمیں آئی سی آر سی نے صاف بتایا کہ حکومت پاکستان نے ریاض کے پاکستانی ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ پھر ہم نے عدالت میں اپیل دائر کی تو جج صاحب کی سرزنش پر حکومت نے بتایا کہ انھیں پاکستان بھیج دیا گیا ہے اس لیے ہمیں کوئی امید نہیں کہ ابھی بھی وہ آزاد ہو پائے گا۔‘
بگرام جیل میں قید پاکستانیوں کے مقدمے کی سماعت اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں جاری ہے اور اس مقدمے کی آئندہ سماعت پانچ دسمبر ہوگی۔
افغانستان میں بگرام جیل 2002 میں بنائی گئی تھی اور یہاں قیدیوں سے ابتدائی تفتیش کے بعد انھیں گوانتاناموبے بھیجا جاتا رہا۔
قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق اس وقت بھی بگرام جیل میں 30 کے قریب پاکستانی قیدی موجود ہیں جن پر نہ تو کوئی مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور نہ ہی انھیں کسی وکیل تک رسائی ہے۔







