’بگرام کے قیدی رہائی کے بعد پاکستانی قید میں‘

حراست کے وقت حمید اللہ کی عمر صرف 14 برس تھی
،تصویر کا کیپشنحراست کے وقت حمید اللہ کی عمر صرف 14 برس تھی

امریکی حکام نے افغانستان میں بگرام کے فوجی اڈے پر قائم جیل میں قید مزید ایک پاکستانی شہری کی رہائی کی تصدیق کر دی ہے۔

ان قیدیوں کی رہائی کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف نے پیر کو ایک امریکی عدالت میں پیش کیے گئے مکتوب میں بتایا ہے کہ حمید اللہ نامی پاکستانی قیدی کو 16 نومبر کو پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

<link type="page"><caption> افغانستان میں لاپتہ اور مقید پاکستانی: خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/indepth/cluster_pak_prisoners_afghanistan_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ حمید اللہ کے علاوہ مزید پانچ قیدیوں کو بھی پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا ہے تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تنظیم کی جانب سے منگل کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ رہائی پانے والوں میں حمید اللہ خان کے علاوہ سبیل سلیمان، عبدالقادر عمران، محمد ریاض، عبدالکریم اور پلک جان شامل ہیں اور ان سب قیدیوں کو کئی برس سے بغیر کسی عدالتی پیشی اور وکیل تک رسائی کے حراست میں رکھا گیا تھا۔

حمید اللہ نامی جس قیدی کی رہائی کی امریکی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے انہیں جب حراست میں لیا گیا تھا تو وہ صرف 14 برس کے تھے۔ ان کی بگرام میں موجودگی کا پتہ جنوری 2009 میں چلا تھا۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان نےگذشتہ ہفتے رہائی کے باوجود ان افراد کی اپنےگھروں کو واپس نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے انہیں کسی نامعلوم مقام پر رکھا ہوا ہے۔

تنظیم نے حکومتِ پاکستان سے ان افراد کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال اس سلسلے میں کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

تنظیم سے تعلق رکھنے والی بیرسٹر سارہ بلال کا کہنا ہے کہ ان چھ افراد کو اب ان کی اپنی حکومت غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ رہی ہے۔ بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے مسلسل خاموشی انصاف میں مزید تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔

بگرام جیل میں اب بھی متعدد پاکستانی قید ہیں
،تصویر کا کیپشنبگرام جیل میں اب بھی متعدد پاکستانی قید ہیں

جسٹس پراجیکٹ پاکستان 2011 سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ اور دیگر فورمز پر کوششیں کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ پاکستانی حکومت کو بگرام میں قید افراد کی فوری رہائی کے لیے اقدامات کرنے کے احکامات دے چکی ہے اور اکتوبر 2012 میں حکومتِ پاکستان نے عدالت میں چھ ایسے پاکستانی قیدیوں کی فہرست پیش کی تھی جن کی رہائی متوقع تھی۔

اس کے بعد جولائی 2013 میں تین پاکستانی قیدیوں محمد نذیر، بشارت اور عبداللہ کی چھ برس بعد بگرام جیل سے رہائی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم پاکستانی وزارتِ خارجہ نے ان افراد کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے سے لاعلمی ظاہر کی تھی۔