سکیورٹی معاہدے پر دستخط، کرزئی پھر اڑ گئے

صدر کرزئی کے دفتر کا کہنا ہے کہ صدر نے امریکی مندوب سے مزید یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فوجی افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے نہیں ماریں گے
،تصویر کا کیپشنصدر کرزئی کے دفتر کا کہنا ہے کہ صدر نے امریکی مندوب سے مزید یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فوجی افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے نہیں ماریں گے

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکی حکومت کی قومی سلامتی کی ایک مشیر کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے باہمی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت 2014 کے بعد ہزاروں امریکی فوجی افغانستان میں رہ سکیں گے۔

امریکی مندوب سوزن رائس نے صدر حامد کرزئی کو بتایا کہ ان کی جانب سے معاہدے پر دستخطوں کو اگلے سال انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنے کی تجویز ’قابلِ عمل‘ نہیں ہے۔

اس سے قبل اتوار کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منعقدہ لویا جرگے میں شامل افغان عمائدین نے امریکہ سے سکیورٹی کے معاہدے کی منظوری دے دی تھی۔

جرگے میں شامل دو ہزار سے زیادہ عمائدین نے افغان صدر حامد کرزئی سے کہا ہے کہ وہ رواں برس کے اختتام سے قبل اس معاہدے پر دستخط کر دیں۔ جرگے کا یہ مطالبہ صدر کرزئی کے اس بیان سے مطابقت نہیں رکھتا تھا جو انہوں نے جرگے سے اپنے خطاب میں دیا تھا اور جس میں کہا گیا تھا کہ معاہدے پر اپریل سنہ 2014 میں ہونے والے افغان صدارتی انتخابات سے پہلے دستخط نہیں ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کرزئی نے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے نئی شرائط ظاہر کی ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر کرزئی فوری طور پر معاہدہ طے کرنے کے لیے رضامند نہیں ہیں۔

صدر کرزئی کے دفتر کا کہنا ہے کہ صدر نے امریکی مندوب سے مزید یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فوجی افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے نہیں ماریں گے اور امریکہ طالبان کے ساتھ معطل ہونے والے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد کرے گا۔

جمعرات کو لویا جرگے کے آغاز کے موقع پر افغان صدر نے عمائدین سے اس معاہدے کی حمایت کا مطالبہ ضرور کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ سال اپریل میں افغانستان میں ہونے والے انتخابات سے پہلے اس پر دستخط نہیں کریں گے
،تصویر کا کیپشنجمعرات کو لویا جرگے کے آغاز کے موقع پر افغان صدر نے عمائدین سے اس معاہدے کی حمایت کا مطالبہ ضرور کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ سال اپریل میں افغانستان میں ہونے والے انتخابات سے پہلے اس پر دستخط نہیں کریں گے

انہوں نے اپنا پرانا مطالبہ بھی دہرایا کہ امریکہ پانچ اپریل کو آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی بھی یقین دہانی کروائے۔

اطلاعات کے مطابق صدر کرزئی کی جانب سے رکھی گئی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ گوانتانامو جیل میں قید افغانی شہریوں کو افغانستان کے حوالے کیا جائے۔

امریکہ کا اصرار ہے کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد اس مجوزہ معاہدے کو اس سال کے اختتام سے پہلے طے پانا ہوگا تاکہ امریکہ فوجیوں کو سنہ 2014 کے بعد بھی ملک میں قیام کی اجازت ہو۔

پیر کے روز صدر کرزئی کے ساتھ ملاقات میں سوزن رائس کا کہنا تھا کہ معاہدہ طے کرنے میں تاخیر کی وجہ سے امریکہ اور نیٹو 2014 کے بعد غیر ملکی افواج کے افغانستان میں رہنے کے بارے میں واضح حکمتِ عملی نہیں بنا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس تاخیر سے افغانوں کو بھی بے یقینی کا سامنا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اوپادھیائے نے بتایا کہ سوزن رائس کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ جلد طے نہ پایا تو امریکہ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ 2014 کے بعد ایک بھی امریکی فوجی افغانستان میں نہ رکھے۔

مجوزہ معاہدے کے تحت 15000 غیر ملکی فوجی افغانستان میں 2014 کے بعد بھی رہیں گے تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی نیٹو افواج کے انخلا کے بعد امریکی عسکری موجودگی کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔

2014 کے بعد افغانستان میں رہنے والے بیشتر غیر ملکی فوجیوں کا کام افغان افواج کی تربیت ہوگا تاہم ان میں انسدادِ دہشت گردی کے چند خصوصی دستے بھی شامل ہوں گے۔

جمعرات کو لویا جرگے کے آغاز کے موقع پر افغان صدر نے عمائدین سے اس معاہدے کی حمایت کا مطالبہ ضرور کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ سال اپریل میں افغانستان میں ہونے والے انتخابات سے پہلے اس پر دستخط نہیں کریں گے۔

اس معاہدے کی افغان پارلیمان سے بھی توثیق لازمی ہے۔