امریکہ، افغان سکیورٹی معاہدہ خطرے میں

افغان حکومت نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے معاہدے کی ایک اہم شق کو اس وقت مسترد کر دیا ہے جب افغان قبائلی رہنماؤں کے جرگے نے کابل میں چند روز بعد اس پر غور کرنا تھا۔
افغان حکومت کے اس اقدام سے امریکی معاہدے پر شکوک بڑھ گئے ہیں۔
افغان حکومت امریکی افواج کو عام شہریوں کے گھروں اور مساجد میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی مخالف کر رہی ہے ۔
صدر حامد کرزئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کسی بھی معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جو امریکی افواج کو افغان شہریوں کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دے۔
اس تجویز کو فریقین کے لیے قابلِ قبول بنانے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں جس کے بعد اسے جمعرات کو افغان قبائلی رہنماؤں کے سامنے پیش کیا جائےگا۔
اگر امریکہ اور افغانستان کے درمیان یہ معاہدہ طے نہ پایا تو واشنگٹن کو کابل سے آئندہ برس اپنی تمام افواج کو نکالنا پڑے گا۔
افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان نے کابل میں بی بی بی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اختیار کیے جانے والے موقف میں نرمی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر حامد کرزئی اور دیگر رہنما امریکی افواج کی جانب سے افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارنے کے مخالف رہے ہیں تاہم امریکہ افغانستان کے اندر ہونے والے دہشت گرد حملوں کو روکنا چاہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک افغان اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈینفورڈ نے ممکنہ معاہدے کے الفاظ میں رد و بدل کرنے کی پیشکش کی ہے جس کے مطابق امریکی افواج صرف غیر معمولی حالات میں ہی افغان شہریوں کے گھروں میں داخل ہو سکیں گی تاہم اطلاعات کے مطابق صدر حامد کرزئی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ گزشتہ ماہ اس معاہدے کے حوالے سے بات چیت کی تھی جس کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے پر ہونے والے اختلافات کو ختم کر لیں گے تاہم اس ملاقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔







