’کشمیرجنگ نے سب کچھ لوٹ لیا‘

سعیدہ بیگم
،تصویر کا کیپشنمسلسل آنسو بہانے کی وجہ سے سعیدہ بیگم بینائی کھوچکی ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

غسل خانے سے بھی تنگ کوٹھری میں رہائش پذیر سعیدہ بیگم کے لیے کشمیر ایک ’میدان جنگ‘ ہے، جس میں ان کا سب کُچھ لُٹ گیا۔

40 سال قبل سعیدہ کے خاوند ایک حادثہ میں ہلاک گئے تھے۔ وہ سُسرال میں موجود جائیداد سے بے دخل ہوگئیں اور چار چھوٹے چھوٹے بیٹوں کو لے کر سرینگر میں اپنے میکے آئیں جہاں انہیں ایک کوٹھری دی گئی۔

بیٹے جوان ہوئے، کمانے لگے لیکن 1990 میں جب مسلح شورش شروع ہوئی تو ان کے تین بیٹے دو سال کے عرصے میں یکے بعد دیگرے تشدد کی مختلف وارداتوں میں ہلاک ہوگئے۔

اس صدمے کی وجہ سے ان کا چوتھا بیٹا ذہنی توازن کھو بیٹھا اور بالآخر لاپتہ ہوگیا۔ سعیدہ اشک آور لہجے میں کہتی ہیں: ’یہاں جنگ نہ ہوتی تو میں آج محتاج نہ ہوتی۔ میرے تو چار بیٹے تھے، میں ایک روٹی کے لیے کیوں ترستی اس جنگ میں سب کچھ ختم ہوگیا۔‘

سعیدہ جیسی ہزاروں خواتین کشمیر میں کشمیر کی ’جنگ‘سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان کی کفالت اور بازآباد کاری بہت بڑا انسانی مسئلہ بناہوا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ڈیڑھ ہزار ایسی خواتین ہیں جن کے خاوند لاپتہ ہوگئے۔ انہیں اب ہالف وڈو یا ’نصف بیوہ‘ کہا جاتا ہے۔ انہیں نہ توسسرال میں پناہ ملتی ہے نہ میکے میں۔ سعیدہ جیسی ہزاروں مائیں بھی ہیں جو اس جنگ زدہ سماج میں اپنے آپ کو تن تنہا پاتی ہیں۔

سعیدہ بیگم کے دو بیٹے نذیر احمد اور طارق احمد عسکریت پسندوں اور بھارتی فورسز کے درمیان فائرنگ میں ہلاک ہوگئے۔ ان دنوں شہری آبادیوں میں تصادم ہوتے تھے اور اکثر اوقات عام شہری کراس فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوتے تھے۔

ان کا تیسرا بیٹا اشتیاق احمد عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا اور ایک شام پولیس نے سعیدہ بیگم کو اطلاع دی کہ وہ بھی کراس فائرنگ میں مارا گیا۔ ان کی کفالت کا واحد سہارا نثار احمد کنبے میں ہونے والی اموات سے گہرے صدمے کا شکار ہوگیا اور ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ اسی حالت میں وہ لاپتہ ہوگیا اور اب سعیدہ تنہا ہوگئیں۔

ان کا کہنا ہے: ’25 سال سے میں لالٹین کا استعمال کرتی رہی۔ میری اس کوٹھری میں بجلی نہیں تھی، ایک وقت آیا جب میں چاہتی تھی کہ نہ روؤں لیکن بے ساختہ آنسو نکل آتے تھے۔ اب سعیدہ بیگم کو فاقہ کشی یا سیاہ راتوں کا سامنا نہیں ہے، لیکن انہیں شکایت ہے کہ ارباب اختیار نے ان کی خبرتک نہ لی۔

سماجی کارکن عبدالقیوم شاہ کہتے ہیں: ’ایسا نہیں کہ ایسے متاثرین کی کوئی مدد نہیں کرتا۔ لیکن اصل مدد یہ ہے کہ انہیں انصاف ملے۔ اگر حکومت سماجی بہبود کا دعویٰ کرتی ہے تو ان معاملوں کے لیے الگ الگ محکمہ ہونا چاہیے تھا۔‘

سماجی کارکن عبدالقیوم شاہ
،تصویر کا کیپشنان معاملوں کے لیے الگ الگ محکمہ ہونا چاہیے تھا

مسٹر قیوم کہتے ہیں: ’دس سال قبل اُس وقت کی حکومت نے ایسے 180 معاملوں کی نشاندہی کی تھی، اور ضلع حکام کو ہدایات دی گئی تھیں کہ متاثرین کی مالی امداد اور سماجی بہبود کے لیے انتظام کیا جائے، لیکن بعد میں ان لوگوں کو اپنے رحم و کرم پر چھوڑا گیا۔‘

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے اتحاد ’کولیشن آف سول سوسائٹیز‘ کے سربراہ پرویز امروز ایسے متاثرین کی فریاد لے کر عدالت میں بھی سرگرم ہیں۔ آخر سعیدہ بیگم کا معاملہ ان کی نظروں سے اوجھل کیسے رہا؟

مسٹر امروز کہتے ہیں:’ ہم صرف وہی کیس لڑتے ہیں جس کے بارے میں متاثرہ شہری ہمارے پاس ذاتی طور پر رجوع کرے۔ کیونکہ کچھ معاملوں میں ایسا ہوتا ہے کہ متاثرہ خاندان حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتا ہے اور پھر کیس ختم ہوجاتا ہے۔ سعیدہ بیگم کا معاملہ ہمارے علم میں ہے لیکن ان کا کیس ہمارے پاس نہیں آیا۔‘

سالہا سال سے نہایت کم روشنی اور مسلسل آنسو بہانے کی وجہ سے سعیدہ بیگم بینائی کھوچکی ہیں۔ مفلسی اور بے چارگی کے باوجود سعیدہ بیگم زندگی سے ہارنا نہیں چاہتیں۔ انہوں نے سات سال قبل ایک بچہ گود لیا ہے جس کی پرورش کےلیے وہ وسائل جمع میں مصروف ہیں: ’اس جنگ نے میرے چار بیٹے چھین لیے، اب آخری سانس تک اسی بچے کی دیکھ بھال کروں گی۔ مگر اس جنگ سے ڈرتی ہوں۔‘