کشمیر: عید پر ہندو مسلم کشیدگی، دو ہلاک

پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے نیم فوجی دستے اور فوج کی مدد بھی طلب کی
،تصویر کا کیپشنپولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے نیم فوجی دستے اور فوج کی مدد بھی طلب کی

عیدالفطر کے موقعہ پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کشتواڑ میں ہندو اور مسلم باشندوں کے درمیان پرتشدد تصادم کے دوران دو افراد ہلاک ہونے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ان واقعات کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور وادی بھر میں سنیچر کو ہڑتال کی کال دے دی ہے۔

کشمیر کی حکومت کے وزیر داخلہ سجاد کچلو نے بتایا کہ ’ضلع میں حالات کشیدہ لیکن قابو میں ہیں۔دونوں فرقوں کے رہنمائوں کے ساتھ حکومت رابطہ میں ہے۔‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر کا جنوب مشرقی ضلع کشتواڑ ہمالیہ پہاڑی سلسلے کے دشوار گذار خطے میں واقع ہے۔ یہاں سے دریائے چناب بھی گزرتا ہے جو کشتواڑ کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ، رام بن اور بھدرواہ اضلاع کو سیراب کرتا ہے۔ ہندو اکثریتی ضلع جموں کے پڑوس میں واقع اس خطے کو چناب ویلی کہتے ہیں اور اس کی سرحدیں بھارتی ریاست ہماچل پردیش سے بھی ملتی ہیں۔ ضلع میں ہندوں کی آبادی چالیس فیصد ہے اور اکثر اوقات ایسے فسادات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ یعنی عید الفطر کے روز جب مسلمان عیدگاہ کی طرف جوق در جوق نماز کے لیے جا رہے تھے تو بعض ہندو نوجوانوں نے ان پر پتھراؤ کیا اور ان کا مذاق اُڑایا۔ نماز کے بعد مسلمان نوجوانوں نے جلوس نکالا اور ہندوں کی املاک کو نذرآتش کیا جس کے بعد ہندوں نے بھی مسلمانوں کی دکانوں کو آگ لگا دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے واقعات میں زیادہ تر ہندوں کی املاک کو نقصان پہنچا گیا ہے۔

حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ضلعی پولیس اور سول انتظامیہ کے افسروں کو تبدیل کردیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنحکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ضلعی پولیس اور سول انتظامیہ کے افسروں کو تبدیل کردیا گیا ہے

پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے نیم فوجی دستے اور فوج کی مدد بھی طلب کی۔

پولیس کارروائی کے دوران اروند کمار نامی ایک شہری گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ دوفرقوں کے درمیان پرشدد جھڑپوں کے دوران مقامی ہوٹل میں ملازمت کررہا ایک مسلمان شہری بھی ہلاک ہوگیا۔

دریں اثنا حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ضلعی پولیس اور سول انتظامیہ کے افسروں کو تبدیل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے ضلع میں بارہ اگست دو ہزار آٹھ کو بھی ایسے فسادات میں تین شہری مارے گئے اور ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے۔