کشمیر: فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک

کشمیر میں پولیس اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں پولیس اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے پرہجوم ہری سنگھ بازار میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

تشدد کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب دو دن بعد بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کشمیر کا دورہ کریں گے۔

فائرنگ میں گاندار بل کی رہنے والی ایک لڑکی عشرت بھی زخمی ہوگئی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پچیس سالہ عشرت کے کاندھے میں گولی لگی ہے، تاہم وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئی۔

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق پولیس کے اعلیٰ افسر عبدالغنی میر نے جائے وقوعہ پر بتایا کہ ’پستول سے مسلح دو عسکریت پسند ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملے کے بعد فرار ہوگئے۔‘

کشمیر میں پولیس اہلکاروں پر حملوں کے ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ ماہ شمالی ضلع کپواڑہ میں پولیس اہلکاروں پر حملے میں چار اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’مسلح عسکریت پسندوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اب سافٹ ٹارگٹ پر حملے کرتے ہیں۔‘

تاہم علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی زیادتیوں اور اظہار رائے پر پابندیوں اور مظاہروں کے الزام میں کمسن لڑکوں کی گرفتاریوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مسلح تشدد پر آمادہ کر دیا ہے۔

گزشتہ چھ ماہ کے اندر کم از کم دو درجن ایسے عسکریت پسند مارے گئے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ اس پر حکومت نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔