افغانستان:غزنی میں بم دھماکہ، 18 باراتی ہلاک

غزنی بم دھماکہ (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشناس طرح کے حملوں میں عموماً افغان شہری نشانہ بنتے رہے ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے جنوب میں واقع صوبے غزنی میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے کم از کم 18 باراتی ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے لوگوں میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں جو کہ ایک منی بس میں سفر کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق منی بس حملے میں پوری طرح تباہ ہو گئي ہے جبکہ طالبان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

افغانستان میں بی بی سی کے نمائندے ڈیوڈ لائن نے بتایا ہے کہ یہ حملہ صوبہ غزنی کے مشرق میں واقع ایک انتہائی غریب اور روایتی پشتون علاقے میں ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خواتین اور بچوں سے کھچا کھچ بھری یہ منی بس ایک شادی میں شرکت کے لیے جا رہی تھی کہ بم کا نشانہ بنی۔

صوبے کے نائب پولیس سربراہ کرنل اسداللہ انصافی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک بچے کے علاوہ 14 خواتین اور تین مرد شامل ہیں جبکہ دو خواتین کی حالت تشویشناک ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جس جگہ یہ حملہ ہوا نیٹو اسے کبھی غزنی کے سب سے خطرناک اور غیر محفوظ علاقوں میں شمار کرتی تھی۔

تاہم طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کے ذمہ دار نہیں ہیں اور یہ کہ اس ضلع میں ان کی کوئی مہم بھی جاری نہیں ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں میں عام طور پر افغان شہری مشتبہ طالبان جنگجوؤں کے حملوں کا شکار بنتے ہیں حالانکہ طالبان یہ حملے افغان سیکوریٹی فورسز اور حکام کو نشانہ بنانے کے لیے کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال جون میں نیٹو نے پورے افغانستان کی سکیورٹی افغان فورسز کے حوالے کر دی تھی تاہم وہاں 97 ہزار نیٹو افواج ابھی بھی موجود ہیں۔