ہلمند میں خاتون پولیس افسر حملے میں ہلاک

حالیہ مہینوں میں کئی اہم افغان خواتین کو یا تو قتل کیا گیا ہے یا اغوا
،تصویر کا کیپشنحالیہ مہینوں میں کئی اہم افغان خواتین کو یا تو قتل کیا گیا ہے یا اغوا

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کی پولیس فورس کی سینیئر ترین اہلکار پر نامعلوم افراد نے فائرنگ سے ہلاک ہو گئی ہیں۔

لیفٹیننٹ نگر پر یہ حملہ نامعلوم مسلح افراد نے ہلمند صوبے میں کیا۔

ہلمند کے گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ لیفٹیننٹ نگر کو اتوار کے دن صوبے کے دارالحکومت لشکر گاہ کے پولیس ہیڈکورٹر کے قریب گولی ماری گئی جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ تاہم وہ ہسپتال میں زحموں کی تاب نہ لا سکیں۔

لیفٹیننٹ نگر سے پہلے اس عہدے پر فائز پولیس افسر کوگولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر زواک نے اے پی کو بتایا کہ اٹھتیس سالہ نگر کی گردن پر گولی لگی تھی۔

طبی اہلکار اس کوشش میں تھے کہ اس گولی کے نتیجے میں ان کے جسم کو مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔

لیفٹیننٹ نگر ایک سب انسپکٹر کی حیثیت سے ہلمند پولیس میں کام کرتی ہیں۔

خواتین پولیس اہلکاروں پر حملوں میں حالیہ دنوں میں شدت آئی ہے
،تصویر کا کیپشنخواتین پولیس اہلکاروں پر حملوں میں حالیہ دنوں میں شدت آئی ہے

انہوں نے اس عہدے کا چارج اسلام بی بی سے لیا جو کہ ایک معروف پولیس اہلکار تھیں جنہیں جولائی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ موٹر سائیکل پر سوار کام پر جا رہی تھیں۔

سینتیس سالہ اسلام بی بی بتیس خواتین پولیس اہلکاروں کی نگران تھیں اور ایک اہم شخصیت کے طور پر اس علاقے میں جانی پہچانی جاتی تھیں۔

حالیہ مہینوں میں کئی اہم افغان خواتین کو یا تو قتل کیا گیا ہے یا اغوا جیسا کہ اس مہینے کے آغاز میں افغان طالبان نے ایک خاتون رکن پارلیمان کو ایک مہینے تک یرغمال بنائے رکھنے کے بعد رہا کیا تھا۔

اگست میں ایک افغان سینٹر کے قافلے پر حملے کیا گیا جس سے وہ شدید زخمی جبکہ ان کی نو سالہ بیٹی ہلاک ہو گئی تھی۔

اسی طرح 2008 میں قندہار میں لیفٹیننٹ کرنل ملالئی کاکڑ جو ملک کی نمایاں ترین فوجی افسر اور قندہار کے جرائم کے شعبہ کی انچارج تھیں کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔