اسرا پناهی: سکول طالبہ سکیورٹی فورسز کے تشدد سے ہلاک ہوئی، ٹیچر کونسل

Photograph reportedly showing a framed picture of Asra Panahi

،تصویر کا ذریعہSocial media

،تصویر کا کیپشناسرا پناہی کی موت کے ردعمل میں اردبیل میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں

گذشتہ ہفتے ایران کے شمال مغربی علاقے اردبیل میں 15 سالہ اسرا پناہی کی موت کے بعد کونسل آف ٹیچرز کے سنڈیکیٹ نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ وہ ان طالبات میں شامل تھیں جو اردبیل میں پولیس کے ساتھ ہونے والے تصادم میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں وفات پا گئیں۔

تاہم ایرانی حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ سرکاری ٹی وی نے کہا ہے کہ اسرا پناہی کو پیدائشی طور پر دل کا عارضہ لاحق تھا۔

اسرا پناہی کی وفات پر اردبیل میں وسیع پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق کرد خاتون مہسا امینی کی ایران کی پولیس گشتِ ارشاد کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج میں کئی نوجوان لڑکیاں ہلاک ہو چکی ہیں۔

دو ہفتے قبل، سکول کی طالبات نے کلاس رومز، کھیل کے میدانوں اور سڑکوں پر مظاہرے شروع کر دیے تھے۔

آن لائن پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں خواتین کو اپنے سکارف ہوا میں لہراتے، مرد اہلکاروں کا سامنا کرتے ہوئے اور ’عورت، زندگی، آزادی‘ اور ’آمر کو موت‘ جیسے نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

Photo posted online by opposition activist collective 1500tasvir purportedly showing Shahed High School in Ardabil

،تصویر کا ذریعہ1500tasvir

اردبیل ٹیچرز یونین کے ایک بیان میں، جسے ٹیلی گرام پر ٹیچرز سنڈیکیٹ کی کوآرڈینیٹنگ کونسل نے پوسٹ کیا ہے، حکام پر الزام لگایا گیا ہے کہ بدھ کے روز حکام اردبیل کے شہید ہائی سکول میں لڑکیوں کو حکومت کے حق میں ہونے والے ایک پروگرام میں حصہ لینے کے لیے غیر قانونی طور پر مجبور کر رہے تھے جس میں انھیں حکم دیا گیا کہ وہ سپریم لیڈر کی تعریف میں ایک ترانہ گائیں۔

اس تقریب کے آغاز میں کچھ طالبعلموں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی جس پر سادہ کپڑوں میں ملبوس مرد اور خواتین سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں برا بھلا کہا اور مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔

ٹیچرز یونین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تقریب کے اختتام کے بعد جب طالبعلم اپنی کلاسوں میں واپس پہنچے تو سکیورٹی اہلکاروں نے سکول پر دھاوا بول دیا جس میں سات طالبعلم زخمی ہوئے جبکہ 10 کو گرفتار کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

بیان میں کہا گیا کہ اسرا پناہی ان طالبات میں شامل تھیں جو اس تصادم میں زخمی ہو گئی تھیں اور ہسپتال میں وفات پا گئی ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن میں اسرا پناہی کے عزیز کا ایک بیان نشر کیا گیا کہ وہ پیدائشی دل کے عارضے میں مبتلا تھیں جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔

ایران میں جاری احتجاج میں ہلاک ہونے والی نوجوان لڑکیوں، نکا شکارامی اور سرینا اسماعیل زادے، کے رشتہ داروں نے بھی اسی طرح کے بیان دیئے تھے۔

اردبیل سے ممبر پارلیمنٹ کاظم موسوی نے ددبان ایران نیوز سائٹ کو بتایا کہ اسرا پناہی نے خود کشی کی ہے۔

ایران کے مشہور سابق فٹ بال کھلاڑی علی دائی نے، جو اردبیل میں پیدا ہوئے تھے، مظاہروں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اسرا پناہی کے بارے میں حکومتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے حکام کو سچ بتانے کا چیلنج دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جھوٹے کون ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ایران میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے تشدد اور گرفتاریوں سمیت بچوں کے قتل اور حراست کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کچھ ذرائع بتاتے ہیں کہ سات صوبوں میں کم از کم 23 بچے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ متعدد سکولوں پر بھی چھاپے مارے گئے جبکہ کچھ پرنسپل سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر گرفتار کیے گئے۔