مہسا امینی کے گھر والوں کو دھمکیاں’ اس ملک میں رہنے سے ڈرتے ہیں‘

مہسا امینی

،تصویر کا ذریعہFAMILY HANDOUT

،تصویر کا کیپشنمہسا امینی کے اہل خانہ نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ ایک شادی میں ڈانس کرتے ہوئے اور رنگین شال لہراتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں
    • مصنف, اینا فوسٹر
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی، مشرقِ وسطی

پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والی 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مظاہروں میں شامل نہ ہوں۔ مہسا امینی کی موت کے بعد پورے ایران میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد مہسا ایرانی 'جبر 'کی علامت بن گئیں، ان کا چہرہ اور ان کی کہانی اب پوری دنیا میں مشہور ہو چکی ہے۔

مہسا کے کزن عرفان مرتزئی کا کہنا ہے کہ 'ہمارے خاندان پر اسلامی جمہوریہ کے حکام کی جانب سے بہت زیادہ دباؤ ہے، اس لیے ہم ایران سے باہر انسانی حقوق کی تنظیموں یا چینلز سے بات نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے انتقال کے بارے میں بیرونی دنیا میں کسی سے بات کرتے ہیں'۔عرفان مرتزئی نے سرحد کے اس پار عراق کے کردستان علاقے میں ملاقات کے دوران مجھے یہ سب بتایا۔

عرفان مرتزئی
،تصویر کا کیپشنعراق میں مقیم اپوزیشن گروپ کے رکن عرفان مرتزئی کا کہنا ہے کہ انہیں فون پر دھمکیاں مل رہی ہیں

عرفان عراق میں مقیم جلاوطن ایرانی کرد حزب اختلاف کی جماعت کومالا کے لیے پیشمرگا جنگجو ہیں اور مہسا کی موت سے بہت پہلے سے ہی، وہ اسلامی جمہوریہ کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی حکومت تازہ ترین مظاہروں کے لیے اس طرح کی بیرونی تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔

جب ہم پہاڑوں کے سائے میں بیٹھے بات کر رہے تھے، تو وہ مہسا کا کرد زبان میں دیے ہوئے نام زینہ سے انہیں مخاطب کر رہے تھے۔مہسا کے گھر والے اور انکے دوست انہیں اسی نام سے پکارتے تھے۔ مہسا ان کا سرکاری ایرانی نام ہے، یہ نام انکے والدین کو دستاویزات پر استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ ایران میں بعض کرد ناموں پر پابندی ہے۔

عرفان نے زور دے کر کہا'زینہ ایک عام لڑکی تھی، وہ سیاسی نہیں تھی حکومت ان کے بارے میں غلط معلومات دے رہی ہے کہ زینہ میرے ساتھ رابطے میں تھی اور میں نے اسے سکھایا اور اسے ایک خاص سرگرمی کے لیے واپس ایران بھیجا، جب کہ حقیقت میں یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں'۔

مہسا امینی کی قبر پر

،تصویر کا ذریعہFAMILY HANDOUT

،تصویر کا کیپشنمہسا امینی کی قبر پر انکی سالگرہ کا کیک

ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان والوں کو ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے اب ان کی جان کو خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ اسلامی جمہوریہ کے دباؤ میں ہیں'حکومت کے اہلکاروں نے ہمیں انسٹاگرام پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے دھمکیاں دی ہیں، اور ایران میں ہمارے گھر والوں سے کہا ہے کہ اگر وہ احتجاج میں شامل ہوئے تو انہیں قتل کیا جا سکتا ہے'۔

'خود، مجھے فون پر بہت سی دھمکیاں مل رہی ہیں، کہ اگر میں شہر میں دکھائی دیا تو مجھے قتل کر دیا جائے گا'۔

عرفان نے کچھ ویڈیوز دکھائیں جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں یہ دل سوز ویڈیو تھیں۔

پہلی ویڈیو میں مہسا ایک شادی میں رقص کرتے ہوئے رنگ برنگی شالیں لہراتے ہوئے اور شرماتے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

دوسری میں ان کا خاندان ایک قبرستان میں جمع ہے، اور ان کی 23ویں سالگرہ کا موقع ہے جہاں مہسا کی قبر پر ایک کیک احتیاط سے رکھا گیا ہے اس کیک پر مہسا کی تصویر ہے اور لوگ غم و غصے میں نظر آ رہے ہیں۔

میں نے ایران اور عراق کے درمیان پہاڑی سرحد کا سفر کیا، جہاں سڑکوں پر دھول اڑ رہی تھی اور گدھوں پر سوار کسان اپنے مویشی چرا رہے تھے۔ یہ ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں آپ ایرانیوں سے ان کی کہانیاں انہی کی زبانی سن سکتے ہیں۔

میری ملاقات ایک ایسے خاندان سے ہوئی جو ایران کے مغرب میں واقع سنندج سے آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان سے ملنے کے لیے صرف مختصر وقت کے لیے آئے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ کسی سے بھی بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ جب کہ وہ باہر کی دنیا تک پیغامات پہنچانا بھی چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ کیمرے کے سامنے آنے سے یا اپنی شناخت ظاہر کرنے سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'ہم ایرانی انٹیلی جنس کے ہاتھوں مارے جا سکتے ہیں'لیکن پھر بھی وہ تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ وہ بدعنوانی اور جبر کی بات کرتے ہیں، صرف حجاب کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل کی بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک پورا نظام ہے جو ان کی ہمت اور روح کو توڑ دیتا ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جس سے وہ محبت کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس ملک میں رہنے سے ڈرتے ہیں۔

ایران میں پہلے بھی مظاہرے ہوتے رہے ہیں لیکن حکومت ہمیشہ سختی سے ان مظاہروں سے سختی سے نمٹتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگے کیا ہوگا اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

جیسا کہ تازہ ترین احتجاج نئے شہروں تک پہنچ رہا ہے، مہسا کے کزن عرفان کا خیال ہے کہ اس رفتار کا دیرپا اثر ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں، 'ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایران کے عوام کئی سالوں سے حکومت کے خلاف مزاحمت اور احتجاج کر رہے ہیں، اور عوام کا یہ احتجاج انقلابی ہوتا جا رہا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ' خواتین، کارکنان، اساتذہ، کھلاڑی اور فنکار تک سڑکوں پر نکل کر زینہ کے خاندان کے ساتھ آواز اٹھا رہے ہیں۔ میری رائے میں یہ احتجاج جاری رہے گا اور یہ اسلامی جمہوریہ کے زوال کے ساتھ ختم ہو گا'۔