ایران احتجاج: نیکا شکارامی کے خاندان کو ان کی ’موت کے بارے میں جھوٹ بولنے پر مجبور کیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہBBC Persian source
- مصنف, پرہم گوبادی
- عہدہ, بی بی سی فارسی
ایران میں جاری مظاہروں میں ہلاک ہونے والی 16 سالہ نیکا شاکارامی کے خاندانی ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا ہے کہ انھیں بیٹی کی موت کے بارے میں جھوٹے بیانات دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔
16 سالہ نیکا شاکارامی 20 ستمبر کو تہران میں ایک دوست کو یہ بتانے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھیں کہ پولیس ان کا پیچھا کر رہی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بدھ کی رات کی ایک رپورٹ چلائی جس میں نیکا شکرامی کی آنٹی کو دکھایا گیا جو یہ کہتے ہوئے سنی جا سکتی ہیں کہ نیکا عمارت سے گر کر ہلاک ہوئی ہیں۔
ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ نیکا شکارامی کے خاندان سے زبردستی اعترافی بیان لیے جا رہے ہیں اور انھیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے خاندان کے دوسرے افراد کو بھی ہلاک کر دیا جائے گا۔
نیکا شکارامی کی آنٹی عطاش نے جب نیکا شکارامی کی موت کی خبر آن لائن پوسٹ کی تو نیکا شکارامی کے انکل محسن اور آنٹی عطاش کو حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کی رہائی سے پہلے ان کی بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
سرکاری ٹی وی پر دکھایا گیا کہ نیکا شکارامی کے چچا مظاہروں کی مذمت کر رہے ہیں۔ اسی دوران ایک اہلکار یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ 'بدمعاش یہ کہو۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

عطاش نے اتوار کے روز گرفتاری سے پہلے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ پاسداران انقلاب نے انھیں بتایا تھا کہ نیکا پانچ روز تک ان کی تحویل میں تھی جسے بعد میں جیل حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
عدلیہ نے کہا ہے کہ جس رات نیکا شکارامی لاپتہ ہوئیں اس روز وہ ایک عمارت میں داخل ہوئی تھیں جہاں آٹھ کنسٹرکشن ورکر بھی موجود تھے اور اگلی صبح وہ وہاں مردہ پائی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تہران میں عدلیہ کے اہلکار محمد شہریاری نے بدھ کے روز سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ نیکا کی کمر، سر، اوپری اور نچلے اعضا، بازوؤں اور ٹانگوں میں ’متعدد فریکچر تھےجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اونچائی سے گر کر ہلاک ہوئی ہیں۔‘
عدلیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ نیکا شکارامی کی موت کا ملک میں جاری مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تاہم تہران کے ایک قبرستان سے جاری کیے گئے موت کے سرٹیفکیٹ میں جسے بی بی سی فارسی نے حاصل کیا تھا کہا گیا ہے کہ ان کی موت ’کسی سخت چیز سے لگنے والے متعدد زخموں‘ کی وجہ سے ہوئی ہے۔
عطاش کے مطابق نیکا کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے انسٹاگرام اور ٹیلی گرام اکاؤنٹس کو بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا۔ ایرانی سکیورٹی فورسز اپنی حراست میں لوگوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ انھیں سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی دیں تاکہ اکاؤنٹس یا کچھ پوسٹس کو حذف کیا جا سکے۔
بدھ کی رات سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں وہ فوٹیج بھی دکھائی گئی جس میں عطاش کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ اس کی بھانجی کی لاش عدلیہ کی طرف سے بتائی گئی عمارت کے باہر ملی ہے حالانکہ یہ اس کے اور خاندان کے دیگر افراد کے سابقہ بیانات سے متصادم ہے۔
اہل خانہ نے کہا ہے کہ انھیں نیکا کے لاپتہ ہونے کے دس روز بعد حراستی مرکز کے مردہ خانے میں چند سیکنڈ کے لیے ان کی لاش دکھائی گئی۔ انھوں نے چند سکینڈ کے لیے نیکا کا چہرہ دکھایا تاکہ اس کی شناخت کی جا سکے۔ عطاش نے حراست میں لیے جانے سے پہلے کہا تھا کہ وہ مردہ خانے نہیں گئی تھیں۔
نیکا کے اہل خانہ نے اتوار کو ان کی لاش کو ان کے والد کے آبائی شہر خرم آباد منتقل کیا، جو نیکا کی 17ویں سالگرہ کا دن تھا۔
ان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اہل خانہ نے حکام کے دباؤ کے تحت عوامی جنازہ منعقد نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ تاہم سکیورٹی فورسز نے نیکا کی لاش خرم آباد سے لے جا کر اسے تقریباً 40 کلومیٹر دور ویسیان گاؤں میں خفیہ طور پر دفن کر دی۔
البتہ خرم آباد کے قبرستان میں سینکڑوں مظاہرین جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے، ان نعروں میں ’آمر مردہ باد‘ کا نعرہ بھی شامل تھا۔

،تصویر کا ذریعہTikTok/Facebook
نیکا واحد نوجوان خاتون نہیں ہیں جو گذشتہ ماہ مہسا امینی کی موت کے بعد پھوٹنے والی بدامنی کے دوران ماری گئی تھیں۔
ایران میں احتجاج ایک 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہوئے ہیں جو 13 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس کی طرف سے حراست میں لیے جانے کے بعد کومہ میں چلی گئی تھیں۔
انھیں مبینہ طور پر خواتین کو حجاب یا سکارف سے اپنے بال ڈھانپنے کا پابند کرنے والے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ تین دن بعد ہسپتال میں دم توڑ گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
اسی طرح 22 سالہ ہادیس نجفی کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ انھیں 21 ستمبر کو تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ حکام نے مبینہ طور پر ان کے والد سے کہا کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 23 ستمبر کو کرج میں احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں لاٹھیوں سے سر پر شدید چوٹوں کے بعد ایک اور 16 سالہ لڑکی، سرینہ اسماعیل زادہ کی موت ہو گئی تھی۔
ذرائع نے انسانی حقوق کے گروپ کو یہ بھی بتایا کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنٹوں نے لڑکی کے اہل خانہ کو زبردستی خاموش کروانے کے لیے ہراساں کیا تھا۔
سرینا کی موت سے پہلے کی کئی ویڈیوز اب سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں۔ سکول کے کچھ امتحانات مکمل کرنے کے بعد ریکارڈ کیے گئے ایک بیان میں وہ کہتی ہیں ’آزادی سے بہتر کوئی چیز محسوس نہیں ہوتی.‘













