ایران میں احتجاج کیا حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے؟

- مصنف, بہرنگ تاجدین اور لز ڈوسیٹ
- عہدہ, بی بی سی صحافی
ایران میں کرد خاتون مہسا امینی کی اخلاقی ضابطے نافذ کرنے والی پولیس گشتِ ارشاد کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت نے ملک میں حالیہ برسوں کے سب سے بڑے احتجاج کو جنم دیا ہے اور ملک کے طول و عرض میں حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
ان مظاہروں کو ایران کی حکومت کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج ایران کی ایسی خواتین اور لڑکیوں میں پھیل چکا ہے جن کے باپ دادا نے نظام کو اندر سے تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔
سوشل میڈیا ایسی ویڈیوز سے بھرا ہوا ہے جن میں خواتین کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر کو پھاڑتے اور جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
نوجوان خواتین کے مظاہروں میں ایک نعرہ خوب گونج رہا ہے ’اگر ہم متحد نہیں ہوئے، ایک ایک کر کے، ہم اگلی مہسا امینی بنیں گے۔‘
ایران میں احتجاج کی خصوصی کوریج کے سلسلے میں بی بی سی فارسی کے رپورٹر بہرنگ تاجدین اور بی بی سی کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لز ڈوسیٹ نے ایران میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے قارئین کے سوالات کے جوابات دیے ہیں۔
احتجاج کی قیادت کون کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
بہرنگ تاجدین: مختصر جواب یہ ہے کہ احتجاج کی قیادت کرنے والی کوئی ایک سیاسی شخصیت یا گروہ نہیں۔ انھیں ایرانی خواتین چلاتی ہیں جو ریاست کی جانب سے لباس سمیت زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول کرنے کی کوشش سے تنگ ہیں۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بارے میں جو نعرے سب سے زیادہ سنے جاتے ہیں وہ ہیں: ’عورت، زندگی، آزادی‘ اور ’آمر کو موت۔‘
جو چیز ان تمام گروہوں کو متحد کرتی ہے وہ اسلامی جمہوریہ میں بنیادی تبدیلی کی خواہش ہے، اس کی غیر جمہوری نوعیت اور اس کے نظریات پر مبنی پالیسیاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایرانی آبادی کا کون سا حصہ مظاہروں کی حمایت کرتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
بہرنگ تاجدین: یہ مظاہرے تہران کے دارالحکومت میں شروع نہیں ہوئے بلکہ صوبہ کردستان کے شہر ساقیز سے شروع ہوئے اور جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے۔
ہم نے بڑے شہروں اور یہاں تک کہ چھوٹے قصبوں میں لوگوں کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھا ہے، یہ مظاہرے خوشحال شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ غریب ترین علاقوں میں بھی پھیل چکے ہیں۔
یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ آبادی کا کتنا حصہ احتجاج کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم شواہد بتاتے ہیں کہ اس احتجاج کو پورے ملک اور معاشرے کے لوگوں کی طرف سے بہت وسیع پیمانے پر حمایت ملی ہے۔
زیادہ پریس کوریج اور بین الاقوامی ردعمل کیوں نہیں ہوا ہے؟

،تصویر کا ذریعہWANA NEWS AGENCY
لز ڈوسیٹ: بہت سی مغربی حکومتوں نے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے سخت بیانات جاری کیے ہیں۔
انھوں نے نئی پابندیاں بھی لگائی ہیں۔ مثال کے طور پر، برطانیہ نے ایران کی اخلاقی پولیس کے ساتھ ساتھ پانچ اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی اہلکارروں پر پابندیوں کی بھی منظوری دی ہے۔
تاہم ایران میں مقیم غیر ملکی میڈیا کی تعداد کم ہے۔ وہ ایرانی صحافیوں کی طرح پابندیوں کے تحت کام کرتے ہیں حالانکہ وہ رپورٹنگ کرتے رہتے ہیں۔
بی بی سی سمیت بہت سے ادارے ایران میں جاری احتجاج کی رپورٹنگ کے لیے وہاں صحافیوں کو تعینات کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایران کا ویزا حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہم ان ویڈیوز اور اکاؤنٹس پر انحصار کرتے ہیں جو ایرانی انتہائی محدود انٹرنیٹ سروس کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
کیا احتجاج مذہب سے دوری کی علامت ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہرنگ تاجدین: پچھلی دو دہائیوں میں ایرانی معاشرہ کم مذہبی ہوا ہے۔ یہ شاید ایران کی ریاست کی طرف سے شیعہ اسلام کی سخت تشریح اور اسے آبادی پر زبردستی مسلط کیے جانے کا ردعمل ہے۔
اسلامی اقدار کی پاسداری سے بڑھتا ہوا انکار ان وجوہات میں سے ایک تھا جس کی وجہ سے اخلاقی پولیس تشکیل دی گئی۔
عام طور پر اسلامی جمہوریہ جتنی زیادہ مذہبی اقدار کو نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور عوامی پیسہ مذہبی تنظیموں اور تہواروں میں لگاتا ہے، اتنا ہی زیادہ ایرانی مایوسی کا شکار ہوتے ہیں اور ان اقدار سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قانون کے تحت اسلام سے لادینیت یا حتیٰ کہ دوسرے مذاہب کی طرف راغب ہونا ممنوع ہے اور اس کی سزا موت ہو سکتی ہے۔ لہذا، آپ نے شاید ہی کبھی کسی کو عوامی طور پر اس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا ہو گا۔
کیا پولیس یا فوج احتجاج میں شامل ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
لیز ڈوسیٹ اور بہرنگ تاجدین: ایران تقریباً 9 کروڑ افراد پر مشتمل ایک ملک ہے جو تمام ممالک کی طرح مختلف نظریات رکھتا ہے۔ اس میں سیکیورٹی فورسز بھی شامل ہیں۔
یہ جاننا مشکل ہے کہ ان مظاہروں کے بعد اب وہ کیا سوچتے ہیں۔ کچھ لوگ سخت وفادار رہیں گے کیونکہ ان کا مستقبل اسلامی جمہوریہ کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ اس جبر کے بارے میں سوال کر سکتے ہیں جسے انھوں نے ہی نافذ کرنا ہے۔
اب تک ایران کی ایلیٹ سکیورٹی فورس، پاسداران انقلاب کو مظاہروں کو کچلنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ اگر پاسداران انقلاب کو میدان میں اتارا گیا تو کیا وہ واقعی نوجوان، بوڑھے، خواتین، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہجوم کو نشانہ بنانا چاہیں گے؟
پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز میں ایسے لوگ موجود ہونے کا امکان ہے جو احتجاج سے ہمدردی رکھتے ہیں، لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ اسے ظاہر کریں گے کیونکہ سزا سخت ہو سکتی ہے۔
پولیس یا سکیورٹی سروسز میں شامل ہونے کے لیے، انھیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مذہبی ہیں، اسلامی جمہوریہ کے وفادار ہیں اور اس کی ’انقلابی اقدار‘ پر یقین رکھتے ہیں۔
حکومت کے کچھ اعلیٰ عہدیدار ارکان نے لازمی حجاب یا سر ڈھانپنے احکامات کی خلاف ورزی پر طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ یہ تنقید کتنی سنجیدہ ہے۔
کیا اس وقت ایران میں انسانی حقوق کے گروپ موجود ہیں؟

،تصویر کا ذریعہTwitter
بہرنگ تاج الدین: نہیں، وہ بیرون ملک سے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ایران غیر سرکاری تنظیموں بشمول مقامی تنظیموں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ اکثر ان پر جاسوسی، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام لگاتا ہے۔
اس سے انسانی حقوق کے گروپ کے لیے ایران میں آزادانہ اور محفوظ طریقے سے کام کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
عالمی برادری ایرانیوں کی کیسے مدد کر سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
لز ڈوسیٹ:ہم بطور بی بی سی صحافی کسی سیاسی تحریک کی حمایت کرنے کی سفارش نہیں کر سکتے۔ لیکن انسانی حقوق کی بہت سی تنظیمیں اور دیگر سول سوسائٹی کی تنظیمیں تجاویز دے رہی ہیں۔ میں حکومتوں یا کمپنیوں کی طرف سے اٹھائے گئے کچھ اقدامات کا ذکر کر سکتی ہوں۔
ایک طریقہ جس سے امریکی حکومت مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ ایرانیوں کے لیے، جو اب انٹرنیٹ سے کٹ چکے ہیں، ان کی آن لائن پلیٹ فارمز اور خدمات تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔
ایلون مسک نے اپنے سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک، سٹار لنک کو ایران میں فعال کیا ہے تاکہ بغیر سینسر کے انٹرنیٹ تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔ لیکن سٹارلنک تک رسائی کے لیے ایرانیوں کو خصوصی ٹرمینلز لگانے کی ضرورت ہے جو ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ گوگل اور سگنل جیسی کمپنیاں اب ایرانی نیٹ ورک کو نظرانداز کرنے کے لیے وی پی این کی سہولت مہیا کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
کیا احتجاج دراصل حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
لز ڈوسیٹ: بعض اعلیٰ حکام نے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن ان کی سرخ لکیر اسلامی جمہوریہ کی بقا ہے۔
ایران میں اس سے قبل بھی پانی کی قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی، لازمی حجاب جیسے مسائل پر کئی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ 2019 میں معاشی صورتحال کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے لیکن احتجاج کی موجودہ لہر نے معاشرے کے کئی طبقوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
حکام کو شاید یقین ہو گا کہ وہ ماضی کی طرح اس صورتحال سے بھی نمٹ سکتے ہیں۔ سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ کچھ مظاہرین سے ’ثقافتی ذرائع‘ یا ’دوبارہ تعلیم‘ کے ذریعے نمٹا جا سکتا ہے۔ دوسروں کو عدالتی اقدامات کے ساتھ سزا دی جائے گی۔
لیکن بہت سے مظاہرین کی عمریں 25 سال سے کم ہیں جو ایران میں ہونے والی گہری سماجی تبدیلیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
ماضی میں، ایران میں احتجاج آخرکار سکحورٹی فورسز کے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے بعد دم توڑ گیا۔
ہم نے دیکھا ہے کہ بہار عرب یا ’عرب سپرنگ‘ کے دوران مشرق وسطیٰ کے بہت سے ممالک میں دیکھا گیا کہ نوجوان نسل کے بے قیادت احتجاج کو منظم عناصر بشمول فوج اور اسلام پسند تحریکیں ہائی جیک کر سکتی ہیں۔ احتجاج کی اس لہر کا مستقبل ابھی تک بہت غیر یقینی ہے۔













