ایرانی مظاہرے: عراق کی سرحد پر آنے والے ایرانی سکیورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن کی درد بھری کہانیاں سناتے ہیں

- مصنف, اینا فوسٹر اور جیوان عابدی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کردستان ریجن، عراق
سوران اپنی بائیں کنپٹی پر دو انگلیاں رکھ کر پستول سے فائر کرنے کا اشارہ کرتے ہیں۔ ’اگر تم نے بات کی تو وہ تمہارے سر میں گولی اتار دیں گے۔‘
ہمارے اردگرد ایران کے پہاڑ آسمان کو چھو رہے ہیں۔ ہم عراق کے شمالی کردستان کے علاقے کے ایک قصبے پینجوان کے ایک بس سٹیشن پر ہیں جو ایران کی سرحد پر بنی چوکی کے قریب ہے۔ کاریں وقفے وقفے سے اندر آتی ہیں اور اپنے مسافروں کو گرد سے اٹے ہوئے صحن میں چھوڑ دیتی ہیں۔ کچھ تو ذرا سانس لینے کے لیے رکتے ہیں اور چائے پیتے ہیں، جبکہ کچھ سیدھے چھوٹی منی بسوں میں چڑھ جاتے ہیں جو انھیں قریبی عراقی شہر سلیمانیہ لے جاتی ہیں۔
سوران جب بات کرتے ہیں تو اکثر اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے پاؤں کا بھی، جب وہ مجھے یہ بتانے کے لیے کہ کس طرح ایرانی سکیورٹی فورسز نے انھیں طرح مارا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کچھ دن پہلے ہوا جب میں احتجاج کر رہا تھا۔ حکومتی اہلکاروں نے مجھے پیٹھ پر مارا، انھوں نے مجھے لاتیں ماریں اور مجھے مارنے کے لیے ڈنڈوں کا استعمال کیا۔ انھوں نے میرے دوست اور دوسروں کو بھی گولیاں ماریں۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ میں نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔‘
سوران 32 سال کے ہیں اور وہ 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کے آبائی شہر ساقیز میں رہتے ہیں۔ جس کی تین ہفتے قبل پولیس کی حراست میں موت نے حکومت مخالف مظاہروں کو جنم دیا تھا جنھوں نے بعد میں پورے ایران کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
سوران کام کی تلاش میں عراقی کردستان آئے ہیں، لیکن وہ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ کبھی گھر واپس جائیں گے۔ احتجاج بڑھ رہے ہیں، اور زندگی مشکل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایرانی حکام کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے تین ہفتوں سے وہاں کوئی انٹرنیٹ نہیں ہے۔
’ہم پہلے حکومت سے ڈرتے تھے، لیکن اب خوف کی دیوار گر گئی ہے، اب کوئی خوفزدہ نہیں ہے۔‘
لیکن جب میں نے پوچھا کہ کیا یہ اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا باعث بنے گا تو ان کا جواب واضح تھا: ’نہیں، حکومت نہیں گرے گی، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ وہ مضبوط ہیں اور لوگوں کو مارتے رہتے ہیں۔ ہم کبھی نہیں رکیں گے۔ لہذا وہ ہمیں مارتے رہیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وہ پاگل ہے، اور وہ کرپٹ ہے۔ کسی کو ہماری پرواہ نہیں ہے۔ بیرونی دنیا کہتی ہے کہ وہ ایران کی حمایت کرتی ہے، لیکن کوئی نہیں کرتا۔ ہم پر ہر روز تشدد کیا جاتا ہے اور مارا جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
جیسے ہی جنگلی کتوں کا ایک گروہ ایک کھڑی ہوئی بس کے نیچے سوتا ہے، منی بس سٹاپ پر ایک نیا گروپ تشکیل پا جاتا ہے۔ چھوٹے سے ایک دائرے میں وہ جانے کے انتظار میں باتیں کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عراقی کرد ہیں، لیکن ایک ایرانی ہے، اور وہ اپنی زندگی دوسروں کے سامنے بیان کرتا ہے۔
سنندج سے تعلق رکھنے والے فرہاد 36 سال کے ہیں۔ سنندج وہی جگہ ہے جہاں شدید احتجاج ہوا تھا اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مہلک جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ کرد انسانی حقوق کے گروپ ہینگاو نے رپورٹ کیا ہے کہ کرد آبادی والے مغربی ایران میں کم از کم 32 شہری سرکاری فورسز کے ہاتھوں ہلاک اور 1,540 دیگر زخمی ہوئے ہیں، لیکن فرہاد کا خیال ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’گزشتہ رات کم از کم 20 افراد مارے گئے تھے۔ کچھ کہتے ہیں کہ کم از کم 40۔ اور 70 سے زیادہ گرفتار ہوئے۔ لیکن ہم اس کے بارے میں بات نہیں کر سکتے، کیونکہ ہمیں مار دیا جائے گا۔ ایرانی انٹیلیجنس ہمیشہ دیکھتی رہتی ہے، وہ خفیہ طور پر فلمیں بناتے ہیں۔ انھوں نے سیاسی وجوہات کی بناء پر میرے بھائی کو جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘
’یہ احتجاج بڑے ہوتے جا رہے ہیں، لیکن یہ حکومت کو ختم نہیں کر سکیں گے۔ نہیں، وہ بہت مظبوط ہے۔ کنٹرول کر رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ یقینی طور پر بچ جائے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

توانا بس میں بیٹھنے کے لیے اگلی لائن میں ہیں۔ اب وہ سرحد کے عراقی حصے میں رہتے ہیں، لیکن انھوں نے 20 سال سے زیادہ ایران میں گزارے ہیں۔ وہ اب بھی وہاں کام کرنے کے لیے ہفتے میں تین مرتبہ جاتے ہیں۔
کرکری سفید قمیض اور دھوپ کا چشمہ پہنے ہوئے، وہ مغربی ایران میں گزشتہ چند ہفتوں میں آنے والی کچھ تبدیلیوں کو بیان کرتے ہیں جو انھوں نے دیکھی ہیں۔
’سرحد پر افواج میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ فوج کی طرح نظر نہیں آتے، شاید ملیشیا ہوں؟‘
’میں دیکھ رہا ہوں کہ زیادہ گاڑیاں زیادہ مردوں کو لے جا رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انھیں ایران کے دوسرے حصوں سے کرد علاقوں میں لایا جا رہا ہے۔ ہیلی کاپٹرز بھی ہیں۔ ہم نے انھیں پہلے شاذ و نادر ہی دیکھا تھا، لیکن اب وہ ہمیشہ آسمان پر نظر آتے ہیں۔‘
توانا نے ایرانی سرحدی کراسنگ پر ٹریفک میں بھی فرق فرق محسوس کیا۔
’یہ کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ لوگ واقعی اب کام کے لیے آ رہے ہیں، وہ خوفزدہ ہیں کہ اگر وہ وہاں سے چلے گئے تو انھیں حزبِ اختلاف کی فورسز کے رکن، یا جاسوس سمجھا جائے گا۔‘
یہ بھی پڑھیئے
’ایرانیوں کو واقعی کسی بیرونی حمایت کی ضرورت ہے۔ لیکن انھیں وہ حمایت نہیں مل رہی۔‘
توانا کہتے ہیں کہ ایسی افواہیں بھی پھیل رہی ہیں کہ اگر لوگ مظاہروں میں شامل ہوئے تو اس کے بہت سخت نتائج ہوں گے۔
"یہ بات چیت کے ذریعے پھیلتی ہیں۔ کرج (تہران کے نزدیک ایک شہر) میں میرے دوست یہ باتیں سنتے رہے ہیں کہ حکومت شرکاء کے بینک اکاؤنٹس میں سے رقم نکال لے گی۔ یا جیسے جیسے سردیاں قریب آئیں گی، ان کی گیس منقطع ہو جائے گی اور انھیں سخت سردی ٹھٹرنے کے لیےچھوڑ دیا جائے گا۔‘
سورج غروب ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے تک بھی تھوڑی تعداد میں لوگ آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہWANA NEWS AGENCY
سوروش تہران یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں اور اپنی پڑھائی سے متعلق کسی کام کی وجہ سے سرحد پار جا رہے ہیں۔ ان کی لمبی داڑھی میں نارنجی اور چاندی کا رنگ ہے، اور وہ قطار میں کھڑے دوسرے مردوں سے سفر کی ادائیگی کے لیے پیسے جمع کرتے ہوئے مجھے بتاتے ہیں کہ وہ انگلش بول سکتے ہیں۔
’ہاں، تہران میں طلباء احتجاج کر رہے ہیں، اور میں بھی احتجاج کر رہا ہوں۔ لیکن وہاں رہنے والے 80 فیصد لوگ اب بھی حکومت سے خوش ہیں، حالانکہ حکومتی اراکین بندوقیں لیے سڑکوں پر پھرتے ہیں اور لوگوں کو مارتے ہیں۔‘
’زن، زیان، آزادی،‘ سوروش مسکراتے ہوئے ہوا میں مکہ لہراتے ہیں۔ یہ مظاہرین کا نعرہ ہے، اور اس کا مطلب ہے ’عورت، زندگی، آزادی۔‘
یہ مجھے اچھی طرح سے آگاہ کرتا ہے کہ اگرچہ یہ خواتین کی زیرِ قیادت تحریک ہے، پر میں نے سرحد پر کسی ایک خاتون سے بھی کہانیاں نہیں سنیں۔ مسافروں میں مردوں کے مقابلے میں ان کا بہت کم تناسب ہے۔ اور جن سے میں نے بات کی، ان میں سے ہر ایک کو ان کے ساتھ سفر کرنے والے ساتھیوں نے مظاہروں کے بارے میں بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔
ایک بوڑھی عورت نے ٹیکسی سے اترتے ہی گرمجوشی سے سلام کیا، اور پوچھا کہ میرا دن کیسا گزرا۔ جب میں نے اونچی آواز میں پوچھا کہ پیچھے وطن میں حالات کیسے ہیں، تو ان کے بیٹے نے فوراً انھیں کہا کہ ’کچھ مت بولو۔‘
انھوں نے اپنا ضرورت سے زیادہ بھرا ہوا سفید سوتی بیگ اٹھایا، مسکرائیں، اور خاموشی سے چلی گئیں۔
تعاون کرنے والوں کی شناخت کے تحفظ کے لیے تمام نام تبدیل کیے گئے ہیں۔













