ایران میں سکول کی طالبات نے حجاب اتار کر حکومت کے خلاف مظاہرے کیے

Screengrab of video posted on social media showing protesting schoolgirls blocking a road in Shiraz, Karaj, Iran, while waving their headscarves in the air and chanting "death to the dictator" (3 October 2022)

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنشیراز میں درجنوں طالبات نے اہم شاہراہ روک کر اپنے سکارف ہوا میں لہرائے
    • مصنف, ڈیوڈ گرٹن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ایران میں اب غیر معمولی طور پر سکول کی طالبات بھی ان مظاہروں میں شامل ہو گئی ہیں جو حجاب کے قانون کو توڑنے کے الزام میں زیر حراست ایک خاتون کی موت کے بعد سے مختلف شہروں میں ہو رہے ہیں۔

بی بی سی کی طرف سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یونیفارم میں ملبوس نو عمر طالبات علما اور حکام کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اپنے سکارف ہوا میں لہرا رہی ہیں۔

گذشتہ دو ہفتوں سے ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

پیر کو کرج شہر میں بغیر حجاب کے لڑکیوں نے ایک شخص کو اپنے سکول سے باہر نکال دیا جس کے متعلق شبہ تھا کہ وہ کوئی مقامی سرکاری اہلکار ہے۔

فوٹیج میں وہ چلا رہی ہیں ’شیم آن یو‘ (تمہیں شرم آنی چاہیئے) اور پانی کی خالی بوتلیں بھی اس شخص پر پھینک رہی ہیں۔ وہ شخص بعد میں سکول کے ایک دروازے سے باہر چلا جاتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

1px transparent line

کرج دارالحکومت تہران کے بالکل مغرب میں واقع ہے۔ وہاں سے آنے والی ایک اور ویڈیو میں طلباء کو چیختے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے، جس میں وہ کہتی ہیں: ’اگر ہم متحد نہیں ہوئے تو وہ ہمیں ایک ایک کر کے مار دیں گے۔‘

پیر کو جنوبی شہر شیراز میں درجنوں سکول کی طالبات نے ایک مرکزی سڑک پر ٹریفک کو بند کر دیا اور اپنے سروں پر سے سکارف اتار کر انھیں ہوا میں لہراتے ہوئے ’آمر مردہ باد‘ کے نعرے لگائے۔ بظاہر یہ اشارہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف تھا جن کا ریاست کے تمام معاملات پر حتمی کنٹرول ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

1px transparent line

منگل کو تہران اور شمال مغربی شہروں سقز اور سنندج میں سکول کی طالبات کے مزید مظاہروں کی اطلاع ملی ہے۔

کئی طلباء نے اپنے کلاس رومز میں سر ڈھانپے بغیر تصویریں کھنچوائیں۔ کچھ اپنی درمیانی انگلی سے آیت اللہ خامنہ ای اور اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی تصویروں کی طرف فحش اشارے کر رہی تھیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

1px transparent line

سکول کی طالبات کے مظاہرے آیت اللہ خامنہ ای کے، جو تمام ریاستی معاملات پر حتمی رائے رکھتے ہیں، بدامنی پر اپنی خاموشی توڑنے کے بعد شروع ہوئے ہیں، جس میں انھوں نے فسادات کا الزام ایران کے کٹر دشمن امریکہ اور اسرائیل پر لگایا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

،ویڈیو کیپشنایران میں 20 سالہ خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک گیر عوامی احتجاج

انھوں نے سکیورٹی فورسز کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا جنھوں نے جواب میں مظاہروں کو روکنے کے لیے پرتشدد کریک ڈاؤن کیا۔

یہ مظاہرے ایک 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہوئے ہیں جو 13 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس کی طرف سے حراست میں لیے جانے کے بعد کومہ میں چلی گئی تھیں۔ ان کو اس لیے حراست میں لیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے مبینہ طور پر اس قانون کی خلاف ورزی کی تھی جو خواتین کو حجاب یا سکارف سے اپنے بال ڈھانپنے کا پابند بناتا ہے۔ وہ تین دن بعد ہسپتال میں دم توڑ گئی تھیں۔

ہلاک ہونے والی خاتون کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ افسران نے اس کے سر پر ڈنڈے مارے اور اس کا سر اپنی ایک گاڑی سے ٹکرایا۔ پولیس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے اور کہا ہے کہ اس کا ’اچانک ہارٹ فیل‘ ہو گیا تھا۔

پہلا احتجاج کرد آبادی والے شمال مغربی ایران میں ہوا، جہاں کی امینی رہائشی تھیں، اور پھر اس کے بعد تیزی سے پورے ملک میں پھیل گیا۔