مہسا امینی: ایران میں مظاہروں کے دوران 35 ہلاکتیں، مزید گرفتاریاں: ’اسلامی کونسل کی ویب سائٹ ہیک‘

،تصویر کا ذریعہSocial media
ایران میں ایک ہیکر گروپ نے اسلامی کونسل کی ویب سائٹ کو ہیک کرکے معلومات لیک کر دی ہیں جبکہ ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں مزید طلبہ کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔
اس خبر سے متعلق ٹویٹ میں ایک دستاویز پی ڈی ایف کی صورت میں شائع کی گئی ہے جس میں تمام اراکین پارلیمنٹ کی تفصیلات اور ان کے موبائل نمبر دیکھے جا سکتے ہیں۔
اینانیمس نامی گروپ دنیا کا سب سے مشہور ہیکر گروپ ہے، اس نے ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد جاری مظاہروں کو حکومت کی جانب سے احتجاج کو دبانے کے جواب میں اسلامی جمہوریہ کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ اس گروپ نے اور کئی سرکاری ویب سائٹس کو بھی ہیک کر لیا ہے۔
دوسری جانب تہران یونیورسٹی اور تہران میڈیکل سائنسز کے طلبہ کی اسلامی انجمن نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے احتجاج کرنے والے طلبا کو ااٹھایا اور پھر انھیں نامعلوم مقامات پر منتقل کیا ہے۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران کے بعض یونیورسٹی طلبہ کو ہاسٹل سے رات کو گرفتار کیا گیا ہے۔
طلبہ تنطیموں کا کہنا ہے کہ جمعرات تک ان تنظیموں کے کم از کم 20 ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی سفیر کی طلبی
ادھر ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے تہران میں برطانوی سفیر کو ’اسلامی جمہوریہ کے خلاف لندن میں قائم فارسی زبان کے میڈیا کی طرف سے پیدا کردہ معاندانہ ماحول کے ردعمل میں‘ طلب کیا۔
وزارت خارجہ کی ویب سائٹ سائمن شیرکلف کے مطابق ایران میں برطانیہ کے سفیر کو سنیچر کے روز طلب کیا گیا اور وزارت خارجہ کے حکام نے انھیں اسلامی جمہوریہ کے ’سخت اعتراضات‘ سے آگاہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’اسے اسلامی جمہوریہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ہمارے ملک کی قومی خودمختاری کے خلاف اقدام سمجھا جاتا ہے۔‘
ایران کی وزارت خارجہ نے تہران میں ناروے کے سفیر سگوالڈ ہاگ کو بھی طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ناروے کے سفیر کو طلب کرنے کی وجہ مہسا امینی کی ہلاکت اور ایران میں حالیہ مظاہروں کے بارے میں ناروے کی پارلیمنٹ کے سپیکر مسعود قرخانی کے بیانات تھے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے مسعود قرخانی کے الفاظ کو ’مداخلت پسند‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ غیر تعمیری بیانات ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کیے جاتے ہیں۔‘
ایک ایرانی فلم ساز اصغر فرہادی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے اور ’دنیا بھر کے فنکاروں، سینما نگاروں، دانشوروں، شہری حقوق کے کارکنوں اور دنیا بھر میں ہر وہ شخص جو انسانی وقار اور آزادی پر یقین رکھتا ہے' سے کہا کہ وہ ایرانی مظاہرین کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں۔ ‘
مہسا امینی کے نام کا ذکر نیویارک میں منعقدہ سالانہ ’گلوبل سٹیزن فیسٹیول‘ میں کیا گیا جس میں میٹالیکا اور ماریہ کیری جیسے مشہور گلوکار اور بینڈز موجود تھے۔
اس تقریب میں برلن میں ایک ایرانی پناہ گزین نے تقریر میں کہا کہ ’ہمیں مظلوم خواتین کی آواز بننا چاہیے۔‘
اطالوی قومی ٹیم اور اے سی میلان کے سابق اسٹار پاولو مالدینی نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں ایران میں مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے لکھا ’میں مہسا امینی کے ساتھ کھڑا ہوں۔ میں ایرانی خواتین، ان کے بنیادی حقوق اور آزادی کے ساتھ کھڑا ہوں۔`
’فیصلہ کن انداز میں نمٹیں گے‘: ایران صدر کا انتباہ

،تصویر کا ذریعہEnsaf news
خیال رہے کہ ایران میں پولیس کی حراست میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے مظاہرین کے خلاف فیصلہ کن انداز سے نمٹنے کا عہد کیا ہے۔
صدر ابراہیم رئیسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ ’فیصلہ کن انداز میں نمٹیں‘ گے۔ اس وقت یہ مظاہرے ایران کے 31 صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک کم سے کم 35 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا سکی ہے۔
مہسا امینی کو مبینہ طور پر حجاب پہننے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا جس کے دوران ان کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اخلاقی پولیس کے افسران نے مبینہ طور پر مہسا امینی کے سر پر ڈنڈے سے وار کیے اور ان کا سر پولیس کی ایک گاڑی سے دے مارا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کے تشدد کے شواہد موجود نہیں ہیں اور انھیں 'اچانک دل کا دورہ' پڑا تھا۔
جہاں رئیسی کا کہنا ہے کہ مہسا کی موت کی تحقیقات کی جائیں گی وہیں ان کے وزیرِ داخلہ احمد واحدی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امینی پر تشدد نہیں کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'خفیہ اداروں کی رپورٹس موصول ہوئیں، عینی شاہدین کے انٹرویو کیے گئے اور ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا، فرانزک تجزیے بھی حاصل کیے گئے جس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ان پر تشدد نہیں کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ملک کے درجنوں شہروں میں پرتشدد مظاہروں کا احوال دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملک کے شمال مغربی شہروں پیرانشھر، مہ آباد اور ارمیا سے شیئر کی گئی کچھ ویڈیوز میں سکیورٹی اہلکاروں کو مظاہرین پر بظاہر گولیاں چلاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ ان کی جانب سے جو شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں ان میں 'ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر دانستہ اور غیرقانونی فائرنگ کا پریشان کن سلسلہ دیکھنے کو ملا ہے۔'
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی فورسز کی جانب سے 19 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے جن میں صرف بدھ کی رات کو تین بچے بھی شامل ہیں۔ بی بی سی کی جانب سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر رئیسی نے ان مظاہروں کو 'فسادات‘ کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو 'ایسے افراد کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں نمٹنا ہو گا جو ملک کی سکیورٹی اور امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔'
سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ملک کے شمال مغربی صوبے گیلان کی پولیس چیف نے سنیچر کو اعلان کیا تھا کہ اب تک اس خطے میں 739 افراد جن میں 60 خواتین شامل ہیں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بی بی سی نے ایسے افراد سے بات کی ہے جنھیں حراست میں لیا گیا تھا اور انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران ان پر تشدد کیا گیا تھا۔
ایک شخص نے کہا کہ ان پر 'بے رحمی سے' تشدد کیا گیا تھا اور پھر انھیں ایک ایسی جیل میں ڈال دیا گیا جہاں سینکڑوں دیگر قیدی بھی تھی جنھیں کھانے، پانی اور لیٹرین کی سہولت میسر نہیں تھی۔
حکومتی اہلکاروں کی جانب سے آزاد میڈیا اور سماجی کارکنوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا ہے۔ امریکہ میں موجود ایک نگران ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک 11 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مغربی سرحد پر موجود اشناویہ میں بی بی سی کو کچھ ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ مظاہرین نے مختصر دورانیے کے لیے حکومتی فورسز سے قصبے کے کچھ حصے کا کنٹرول لے لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین نے گذشتہ شب کنٹرول حاصل کیا تھا اور یہ کہ سکیورٹی فورسز اور حکومتی عہدیدار وہاں سے بھاگ گئے تھے اور پھر سنیچر کو دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کے لیے پہنچے تھے۔
قصبے سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک بڑے ہجوم کو شہر کی گلیوں سے گزرتے دیکھے جا سکتا ہے اور اس دوران پولیس کی موجودگی کے آثار نہیں دکھائی دے رہے لیکن زوردار دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔
سرکاری میڈیا نے ایسی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ مظاہرین نے بسیج ادارے کی تین عمارتوں پر دھاوا بولا۔ یہ نیم سرکاری ادارہ حکومت کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر لگائی گئی انٹرنیٹ کی پابندیوں کو نرم کریں گے تاکہ تہران میں مظاہروں پر کریک ڈاؤن میں کمی لائی جا سکے۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ 'ایران باشندوں کو تنہا اور اندھیرے میں نہیں رکھا جائے گا۔'











