مہسا امینی کے والد امجد امینی: ’میں اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹروں نے مجھے اندر جانے نہیں دیا ‘

Mahsa Amini

،تصویر کا ذریعہMahsa Amini family

مہسا امینی کے والد نے ایرانی حکام پر جھوٹ بولنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ 22 سال کی مہسا امینی کی ایران کی ’اخلاقی پولیس‘ کی حراست میں ہلاکت کے بعد سے ملک بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

بی بی سی فارسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مہسا امینی کے والد امجد امینی کا کہنا ہے کہ حکام نے ان کی بیٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ انھیں نہیں دکھائی۔

ان کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین نے ان کے خاندان کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو پولیس حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ مہسا امینی کو حجاب نہ پہننے کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے حراست میں لیا تھا۔

ایران کے شمال مغربی شہر ساقیز سے کرد نسل سے تعلق رکھنے والی مہسا امینی گذشتہ ہفتے، جمعے کے روز تہران کے ایک ہسپتال میں تین دن کوما میں رہنے کے بعد دوران علاج ہلاک ہوئی تھیں۔

گرفتاری

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مہسا امینی کو تہران میں اخلاقی پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا گیا لیکن ’انھیں اچانک دل کا دورہ‘ پڑا تھا۔

لیکن ان کے والد امجد امینی کا کہنا ہے کہ جب مہسا امینی کو حراست میں لیا گیا تو اس وقت ان کا 17 سالہ بھائی کیارش ان کے ساتھ تھا اور انھیں بتایا گیا کہ مہسا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بیٹا اس کے ساتھ تھا، چند عینی شاہدین نے میرے بیٹے کو بتایا کہ اس کو پولیس وین میں اور پولیس تھانے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے بیٹے نے پولیس اہلکاروں کی منت سماجت کی کہ مہسا کو حراست میں نہ لیا جائے لیکن اسے بھی مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔‘

مہسا امینی کے والد کا کہنا تھا کہ ’میں نے پولیس سے کہا کہ اہلکاروں کی وردی پر لگے کیمروں کی فوٹیج مجھے دکھائی جائے تو انھوں نے مجھے کہا کہ کیمروں کی فوٹیج نہیں کیونکہ ان کی بیٹری ختم تھی۔‘

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جس وقت مہسا امینی کو گرفتار کیا گیا اس وقت انھوں نے قابل اعتراض لباس پہنا ہوا تھا جبکہ ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ ایک لمبا کوٹ پہنے رکھتی تھی۔

Protesters block a street in Tehran

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

ڈاکٹروں نے روکا

مہسا امینی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی ہلاکت کے بعد ڈاکٹروں نے انھیں ان کی بیٹی کی لاش دیکھنے سے روکا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن انھوں نے مجھے اندر جانے نہیں دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اپنی بیٹی کی پوسٹ مارم رپورٹ دیکھنے کا مطالبہ کیا تو ڈاکٹر نے انھیں کہا کہ ’میرا جو دل کرے گا میں اس رپورٹ میں لکھوں کا اور اس کا مجھ سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب تک ان کی بیٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق کوئی معلومات خاندان کو فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

مہسا امینی کے والد امجد امینی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کی لاش صرف اس وقت دیکھی جب اسے تدفین کے لیے لپیٹ کر حوالے کیا گیا اور اس وقت صرف اس کا چہرہ اور پاؤں دکھائی دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے پیروں پر زحموں کے نشان تھے، میں نے ڈاکٹر سے اس کے پیروں کا معائنہ کرنے کا کہا تھا۔‘

امجد امینی کا کہنا تھا کہ حکام نے ان سے مہسا امینی کے زخموں کی وجوہات جاننے سے متعلق وعدہ کیا تھا مگر اب تک ان کی جانب سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے مجھے نظر انداز کیا اور اب وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔‘

اس سے قبل صوبہ تہران کے محکمہ فرانزک کے ڈائریکٹر جنرل مہدی فروزش نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’مہسا کے سر اور چہرے پر کسی زخم کا کوئی نشان نہیں تھا، ان کی آنکھوں کے گرد کوئی چوٹ نہیں تھی، یا ان کی کھوپڑی میں کوئی فریکچر نہیں تھا۔‘

حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ مہسا امینی کو کوئی اندرونی چوٹیں نہیں آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

صحت سے متعلق الزامات

مہسا امینی کے والد امجد امینی نے حکام کے ان دعوؤں پر بھی تنقید کی کہ ان کی بیٹی کو صحت کے مسائل تھے جو ان کی موت کی وجہ ہو سکتے ہیں۔

صوبہ تہران کے محکمہ فرانزک کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا تھا کہ مسہا امینی کا آٹھ برس کی عمر میں دماغ کا آپریشن ہوا تھا۔

امجد امینی کا کہنا تھا کہ ’وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ اپنی 22 سالہ زندگی میں کبھی ہسپتال داخل نہیں ہوئی اور اسے صرف معمولی نزلہ زکام ہی ہوا۔ اسے کوئی طبی عارضہ لاحق نہیں تھا اور اس کی کبھی کوئی سرجری نہیں ہوئی تھی۔‘

Protesters hold up picutres of Mahsa Amnini in Berlin, Germany

،تصویر کا ذریعہEPA

بی بی سی نے مہسا امینی کی دو ہم جماعتوں سے بات کی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں علم نہیں کہ کیا پہلے کبھی وہ ہسپتال میں زیر علاج رہی ہیں۔

ان کے والد نے ان کی صحت سے متعلق ایک اور دعوے کہ ’وہ حال ہی میں ایک دکان میں کام کرنے کے دوران بے ہوش ہو گئی تھیں‘ کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

یونیورسٹی میں پڑھنے کا خواب

مہسا امینی کے اہلخانہ کے مطابق وہ اگلے ہفتے سے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جا رہی تھی اور وہ اپنی یونیورسٹی کے آغاز سے قبل اپنی آخری چھٹی منانے تہران آئی تھیں۔