انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر: کیا مودی حکومت محبوبہ مفتی کو علیحدگی پسند رہنما سمجھتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہFAROOQ KHAN/EPA-EFE/REX/Shutterstock
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو، سرینگر
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین سال سے علیحدگی پسندوں کا قافیہ تنگ ہے لیکن ہند نواز رہنما محبوبہ مفتی کو بھی علیحدگی پسندوں کی طرح ہر اہم موقع پر نظربند کیا جاتا ہے۔
کیا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے علیحدگی پسند اتحاد حُرّیت کانفرنس کی جگہ لے لی ہے؟ یہ سوال حساس عوامی حلقے تین سال سے پوچھ رہے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر اوقات محبوبہ مفتی کو گھر میں نظر بند کیا جاتا ہے۔ کئی دہائیوں سے حکومت کا یہ رویہ علیٰحدگی پسندوں کے تئیں ہوا کرتا تھا۔ ابھی بھی حُریّت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو جمعے کے روز تاریخی جامع مسجد میں خطبہ دینے کی اجازت نہیں ہے۔ شبیر شاہ اور یاسین ملک سمیت دیگر علیحدگی پسند رہنما جیلوں میں ہیں۔
حکومت نے پارلیمنٹ میں اعتراف کیا ہے کہ مسلح تشدد کا گراف بہت نیچے گر چکا ہے اور احتجاجی مظاہروں اور پتھراؤ کے واقعات رونما نہیں ہوتے۔ پھر محبوبہ مفتی ایسا کیا کہتی ہیں جس پر وہ اُن ہی قدغنوں کا سامنا کر رہی ہیں جو کبھی علیحدگی پسندوں کے لیے خاص ہوتی تھیں؟
نظریاتی سیاست کی گنجائش
اکثر مبصرین سمجھتے ہیں کہ 2019 میں نریندر مودی کی حکومت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خود مختار حیثیت کو ختم کر کے جس سیاسی انجینیئرنگ کی مہم شروع کی تھی اُس کا مقصد یہاں کی ساری سیاست کو آئینی حقوق کی بجائے تعمیر و ترقی اور بہتر انتظامیہ جیسے بیانیوں پر محیط کرنا تھا۔
صحافی اور تجزیہ نگار پیرزادہ عاشق کہتے ہیں کہ ’کچھ نئی جماعتیں بھی سامنے آئیں اور نیشنل کانفرنس سمیت تقریباً سبھی جماعتوں نے جوں کی توں صورتحال کو تسلیم کیا ہے۔ محبوبہ مفتی کی تنظیم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی ہے۔
لیکن لے دے کے صرف محبوبہ مفتی بچی ہیں جو انسانی حقوق اور ڈیموگرافی (خطے) کی باتیں کرتی ہیں اور دلی والوں کو مذاحمت (سے سوال) کرتی ہیں۔‘
پیرزادہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فی الوقت ایک سیاسی خلا ہے اور علیحدگی پسند سیاست کی گنجائش موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’محبوبہ مفتی سمجھتی ہیں کہ ان کی جماعت پی ڈی پی 2014 میں بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں شریک ہو کر اپنی مقبولیت کھو بیٹھی تھی۔ لہذا وہ دوبارہ اپنی نظریاتی سیاست کو بحال کر کے لوگوں میں مقبول ہونا چاہتی ہیں اور اس کے لیے وہ نیم علیحدگی پسند لہجہ اپنا رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty/Hindustan Times
واضح رہے کہ محبوبہ کے والد مفتی سید کانگریس کے نہایت سینیئر رہنماؤں میں سے تھے اور ویریندر پرتاپ سنگھ جب انڈیا کے وزیر اعظم بنے تو مفتی سید ان کے پہلے مسلمان وزیرِ داخلہ تھے۔
سال 1998 میں انھوں نے کشمیر میں اپنی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یعنی پی ڈی پی کی بنیاد رکھی اور صرف چار سال کے عرصے میں وہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنے۔ یہ مقبولیت اُنھوں نے ایک نئی سیاسی زبان کے ذریعے حاصل کی۔ انھوں نے جموں و کشمیر میں خودمختاری، پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو لوگوں کی آمد و رفت و تجارت کا ذریعہ بنانے کی باتیں کیں۔
سنہ 2015 میں مفتی سید کی وفات کے بعد محبوبہ مفتی نے پارٹی کی کمان سنبھالی اور وہ بی جے پی کے ساتھ والد کے اتحاد کو جاری رکھتے ہوئے اسی جماعت کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بن گئیں۔
پیرزادہ عاشق کہتے ہیں کہ ’محوبہ مفتی سمجھتی ہیں کہ ماضی کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کا یہی موقع ہے کیونکہ باقی لیڈروں نے تو حالات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ لیکن محبوبہ مفتی اپنی پارٹی کے بیانیے کو دوبارہ ایک سیاسی ہتھیار بنانا چاہتی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’وہ اُس جذباتی خلا کو حاصل کرنا چاہتی ہیں جو علیحدگی پسندوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے خالی پڑا ہے۔ ہم نہیں جان سکتے کہ کیا وہ ایسا کر پائیں گی۔ لیکن فی الحال محبوبہ مفتی واحد سیاست دان ہیں جنھوں نے یہ خطرہ مول لیا ہے۔‘
دِلّی کو محبوبہ سے کیا خطرہ ہے؟
63 سالہ محبوبہ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1996 میں اُس وقت کیا جب طویل گورنر راج کے بعد کشمیر میں انتخابات ہوئے اور انھوں نے آبائی قصبہ بیج بِہاڑہ سے الیکشن جیت لیا۔
ایک طرف اُس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پاکستان اور پاکستانی حمایت یافتہ مسلح شدت پسندوں اور پاکستان نواز علیٰحدگی پسندوں کی مخالفت کرتے تھے تو دوسری طرف جھڑپوں میں مارے جانے والے شدّت پسندوں کے گھر جا کر محبوبہ مفتی ماتم کرتیں اور اُن کے ساتھ مذاکرات کی باتیں کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہFAROOQ KHAN/EPA-EFE/REX/Shutterstock
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 1987 میں جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی و علیحدگی پسند جماعتوں نے ’مسلم متحدہ محاذ‘ کے نام سے سیاسی اتحاد بنایا اور انتخابات میں حصہ لیا۔ اُن انتخابات میں بے تحاشا دھاندلیاں ہوئیں جس کے بعد الیکشن میں حصہ لینے والے کئی نوجوانوں نے وادی میں مسلح شورش برپا کر دی۔
قلم دوات کے عکس والا سبز پرچم ’مسلم متحدہ محاذ‘ کا انتخابی نشان تھا۔
2002 میں مفتی سید نے پی ڈی پی بنائی تو قلم دوات کے عکس والا وہی سبز پرچم اس پارٹی نے بھی اپنایا اور ان کا انتخابی نشان بھی قلم دوات تھا۔ نیشنل کانفرنس سمیت کئی حریفوں نے پی ڈی پی پر الزام عائد کیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی اختراع ہے، لیکن پی ڈی پی مقبول بھی ہوئی اور اقتدار بھی حاصل کیا۔
محبوبہ مفتی خود کہتی ہیں کہ دلّی والوں کو اُن سے یہ خطرہ ہے کہ وہ پورے ملک کو اُن عوام کُش تجربوں سے آگاہ کر رہی ہیں جو بی جے پی کشمیر میں گذشتہ کئی برسوں سے کر رہی ہے۔
’ہم آئین کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ آئین کو ملیامیٹ کر کے یہاں طرح طرح کے تجربے کر کے پورے ملک میں انتخابات جیتنے کی پالیسی کا خمیازہ ہم لوگ بھگت رہے ہیں۔‘
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے حکومت ہند کو خدشہ ہے کہ محبوبہ مفتی جموں کشمیر میں بی جے پی کے خلاف واحد آواز ہیں اور مسلم اکثریتی خطہ ہونے کی وجہ سے یہ آواز آئندہ انتخابات میں ایک سیاسی چیلنج بھی بن سکتا ہے۔
بعض حلقے یہاں تک کہتے ہیں کہ محبوبہ مفتی انڈیا میں بی جے پی مخالف اتحاد کے لیے بھی مؤثر قوت فراہم کر سکتی ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے کئی مرتبہ محبوبہ مفتی پر لگی قدغنوں کے بارے میں شدید ردعمل ظاہر کیا اور حالیہ دنوں جب نائب صدر کے عہدے کے لیے ناموں کی فہرست بنائی جا رہی تھی تو انھوں نے محبوبہ مفتی کو ’وائس پریذیڈنٹ میٹیرئیل‘ قرار دے کر ان کا نام تجویز کیا تھا۔
کیا محبوبہ مفتی علیحدگی پسندوں کی جگہ لے سکتی ہیں؟
معروف مصنف اور تجزیہ نگار پروفیسر شیخ شوکت حسین کا کہنا ہے کہ جو باتیں محبوبہ مفتی کرتی ہیں وہ کرنے کے لیے اب کوئی تیار نہیں۔ ’فاورق عبداللہ اور اُن کے بیٹے عمر عبداللہ سوچتے ہوں گے کہ شیخ عبداللہ (فاروق کے والد) 22 سال جیل میں رہے اور پھر انھیں کچھ نہیں ملا۔

،تصویر کا ذریعہFAROOQ KHAN/EPA-EFE/REX/Shutterstock
’فاروق اور عمر کوئی رِسک نہیں لیں گے، اور اُنھیں معلوم ہے کہ ان کے نام کی فائلیں بنی ہوئی ہیں۔ علیحدگی پسندوں کی غیر موجودگی میں محبوبہ مفتی کشمیریوں کے سیاسی اور معاشی مفاد کی باتیں کرتی ہیں، اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا لیکن وہ علیٰحدگی پسندوں کی جگہ نہیں لے سکتیں کیونکہ اس کے تقاضے کچھ اور ہیں اور اس سب میں اقتدار نہیں ملتا بلکہ اُلٹا جیل جانا پڑتا ہے۔‘
تاہم بعض دیگر حلقے کہتے ہیں کہ محبوبہ مفتی فقط اپنے لہجے کی بنیاد پر کشمیر کی نئی سیاست میں مرکزی مقام حاصل کر چکی ہیں۔
اس سلسلے میں انڈین وزیر داخلہ امت شاہ کے حالیہ دورے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس دورے سے قبل محبوبہ مفتی نے بی جے پی کو ’کشمیر کُش‘ قرار دیا تھا۔
امت شاہ نے بارہ مولہ میں عوامی ریلی سے خطاب کیا تو اُنھوں نے محبوبہ سے ہی مخاطب ہو کر اُن الزامات کی تردید کی۔ جس روز امت شاہ بارہ مولہ میں تھے اُسی روز محبوبہ کو ضلع بارہ مولہ کے ہی پٹن قصبے میں شادی کی ایک تقریب میں جانا تھا۔ لیکن انھیں گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ محبوبہ مفتی کو دلّی میں بی جے پی کے حامی حلقے ’سافٹ سیپریٹسٹ‘ یعنی نیم علیحدگی پسند کہتے ہیں۔
واضح رہے محبوبہ مفتی نے 2008 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں اُس وقت کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ان کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ ’کشمیر سے میری بہن آئی ہیں۔‘
تجزیہ نگاروں کی اکثریت کہتی ہے کہ حکومت ہند کی سخت ترین پالیسی کے درمیان محبوبہ مفتی کا ایک بار پھر جذباتی اور نظریاتی سیاست کا سہارا لینا ایک طرح کا جُوا ہے جو وہ کئی خطرات کے باوجود کھیلنا چاہتی ہیں۔













