انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر اور پاکستان میں یاسین ملک کے خلاف عدالتی فیصلے پر ردعمل: ’عدالت نے فیصلہ سُنایا، انصاف نہیں کیا‘

یاسین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما یاسین کو نئی دلی کی عدالت کی طرف سے عمرقید کی سزا سُنائے جانے پر کشمیر کی ہند نواز اور علیحدگی پسند جماعتوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر کی خودمختاری بحال کرنے کے لیے سرگرم سب سے بڑے سیاسی اتحاد '’پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلیریشن‘ یا پیگ ڈی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عدالت نے فیصلہ سُنایا ہے، انصاف نہیں کیا۔‘

اس اتحاد میں تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ’یاسین ملک کو دی جانے والی سزا افسوسناک ہے اور اس سے امن کے لیے ہونے والی کوششوں کو دھچکہ لگا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اس سے خطے میں غیریقینی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگی۔‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے ’نئی دلی اور سرینگر کے درمیان دُوریاں مزید بڑھیں گی اور علیحدگی پسندانہ جذبات کو بڑھاوا ملے گا۔‘

یاد رہے یاسین ملک کو بدھ کو انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے دہشت گردوں کی مدد کرنے کے الزام میں دوہری عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس معاملے میں انھیں 19 مئی کو دہلی کی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔

فاروق عبداللہ کی سربراہی والے اتحاد کا کہنا ہے کہ ’کورٹ نے فیصلہ سُنایا ہے انصاف نہیں کیا۔ بی جے پی اور کارپوریٹ میڈیا جس بالادستی کی سوچ کا مظاہرہ کررہے ہیں وہ اُلٹے نتائج برآمد کرے گی۔‘

سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’پھانسیاں اور سزائیں ماضی میں بھی سُنائی گئیں، اُس سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا کیونکہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ کشمیر پر سکیولر پالیسی اپنانے سے اچھے نتائج نہیں نکلیں گے۔‘

انھوں نے پاکستانی عدلیہ کا حوالہ دے کر کہا کہ ’لِنچنگ کے ایک معاملے میں ملوث چھہ افراد کو پاکستانی عدالت نے موت کی سزا سُنائی، لیکن ایسے ہی جرائم میں ملوث افراد کو انڈیا میں ضمانت پر رہا کیا جارہا ہے اور انھیں پھولوں کے ہار پہنائے جارہے ہیں۔‘

یاسین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیاسین ملک کے آبائی علاقے مائی سُومہ میں یاسین ملک کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے دوران خاتون یاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگا رہی ہے

کئی سال سے گھر میں نظربند علیحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے یاسین ملک کو دی گئی سزا کی مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں حریت نے کہا: ’1994 سے یاسین ملک (کشمیر کے) تنازعہ کو پُرامن اور جمہوری طریقوں سے حل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ وہ مذاکرات اور مفاہمت پر یقین رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ انڈیا، پاکستان اور کشمیر کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو۔ انھوں نے کئی دہائیوں سے کشمیر پر ہونے والے مذاکرات میں حصہ بھی لیا ہے۔‘

سماعت کے روز کشمیر میں بغیرکسی کال کے ہڑتال کا حوالہ دیتے ہوئے حریت نے بیان میں کہا ہے یہ ہڑتال ’لوگ جیلوں میں قید مزاحمتی قائدین کی حمایت کرتے ہیں۔‘

حریت نے انڈیا کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ جیلوں میں قید سبھی کشمیری رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کرے اور مسئلہ کشمیر کو پرامن مذاکرات کے ذریعہ حل کرے ’کیونکہ قیدوبند سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔‘

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق پولیس نے بدھ کے روز یاسین ملک کے آبائی علاقے مائی سُومہ میں عدالتی فیصلے کے خلاف مظاہرے اور نعرے بازی کے الزام میں دس نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا کشمیر کے باقی علاقوں میں حالات پرامن تھے۔ پولیس نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے باز رہیں جو ان کے کیرئیر کو تباہ اور ان کے گھروں کو متاثر کرتی ہیں۔ پولیس نے گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو وطن دشمنی کا مرتکب قرار دیا ہے۔

Twitter

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنپولیس نے بدھ کے روز یاسین ملک کے آبائی علاقے مائی سُومہ میں عدالتی فیصلے کے خلاف مظاہرے اور نعرے بازی کے الزام میں دس نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے

'یاسین ملک کا اعتراف پر امن تحریک کے حوالے سے ہے'

انڈیا کی جانب سے یہ فیصلہ مبینہ طور پر یاسین ملک کی جانب سے اعتراف جرم کرنے کے بعد سنایا گیا ہے تاہم ان کے اہلیہ مشعال حسین کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کا اعتراف پر امن تحریک کے حوالے سے ہے۔

مشعال ملک کا کہنا تھا 'یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حق خود ارادیت کی جد و جہد چلا رہا ہوں جو بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی کی بھی تھی۔ یہ من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ ہے۔‘

یاسین ملک پر فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد ان کی اہلیہ مشعال ملک نے بی بی سی کی تابندہ کوکب سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 22 فروری 2019 کو سری نگر سے گرفتار کیے جانے کے بعد یاسین ملک کا خاندان والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

پاکستان میں مقیم یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک انڈین نظام انصاف پر یقین ہی نہیں رکھتے اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے لیے وکیل رکھنے سے انکار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا 'یاسین ملک کو کبھی بھی شفاف مقدمے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ اگر کبھی آن لائن پیشی کے دوران وہ بات کرتے تو ان کا مائیک بند کر لیا جاتا۔ یہ فرد جرم یکرفہ طور پر عائد کی گئی ہے۔ ہمیں تو ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ان پر تشدد بھی کیا گیا ہے۔'

مشعال ملک کا کہنا تھا 'یاسین ملک نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ پر امن کردار ادا کیا ہے۔ '

پاکستان میں یاسین ملک کے علاوہ سابق پاکستانی کپتان شاہد آفریدی کا نام ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا جس کی وجہ ان کی یاسین ملک سے یکجہتی کے پیغام کے بعد انڈیا کی جانب سے تنقید ہے۔

پاکستانی عوام یاسین ملک کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں؟

کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے عوام یاسین ملک کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یاسین ملک پر انڈیا نے جھوٹے مقدمات بنائے۔ پاکستانی عوام انڈیا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہے ہیں۔

پاکستان کے سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بدھ کو یاسین ملک کو سزا سنائی جانے سے پہلے ٹویٹ کیا تھا کہ ’انڈیا کی انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والی آوازوں کو دبانے کی انڈیا کی مسلسل کوششیں بے سود ہیں۔ یاسین ملک پر جھوٹے الزامات کشمیر کی جدوجہد آزادی کو نہیں روک سکتے۔ اقوام متحدہ سے اپیل ہے کہ وہ کشمیری رہنماؤں کے خلاف اس جانبدارانہ اور غیر قانونی ٹرائل پر توجہ دے۔‘

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

شاہد آفریدی کو جواب دیتے ہوئے انڈین کرکٹر امت مشرا نے لکھا کہ ’پیارے شاہد آفریدی، وہ عدالت میں جرم قبول کر چکے ہیں جو کہ ریکارڈ پر ہے۔ ہر چیز آپ کی تاریخ پیدائش کی طرح مبہم نہیں ہے۔‘

امت مشرا کی اس ٹویٹ کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کے حق میں جبکہ انڈین صارفین امت مشرا کو داد دیتے نظر آ رہے ہیں۔

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

نہ صرف یہ بلکہ انڈین میڈیا میں بھی شاہد آفریدی کے خلاف شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

صحافی سدھیر مشرا نے لکھا کہ ’شاہد آفریدی پاکستان میں سیاسی کریئر کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ وہ عمران خان کی تیسی کاپی بننا چاہتے ہیں۔‘

ایک پاکستان صارف ماہم گیلانی نے ٹویٹ کیا ’انڈیا سے شاہد آفریدی کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کے بارے بات کرنا ہضم نہیں ہوا لیکن ہم بوم بوم کے ساتھ ہیں۔ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ اور ہاں کشمیر پاکستان کا لازمی جز ہے۔ اور شاہد آفریدی کشمیر کی آواز ہیں۔‘

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈین کورٹ کے فیصلے کے بعد رد عمل میں کہا ’آج انڈیا کی جمہوریت اور نظام انصاف کے لیے سیاہ دن ہے۔ انڈیا یاسین ملک کو جسمانی طور پر قید کر سکتے ہیں لیکن اس آزادی کے تصور کو قید نہیں کر سکتے جس کی وہ علامت ہیں۔ بہادر آزادی پسند کی عمر قید کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نئی تحریک دے گی۔‘

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

پاکستانی صحافی حامد میر نے نعرے لگاتی خواتین کی ایک ویڈیو پوسٹ کی اور ٹویٹ کیا، ’خوف کا کوئی نشان نہیں۔ یہ یاسین ملک کا سری نگر میں گھر ہے جہاں کشمیری خواتین آزادی کی حمایت میں نعرے لگا رہی ہیں۔‘

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

ماضئ میں انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہنے والے عبدالباسط نے یاسین ملک کے فیصلے کو ’شرمناک‘ اور ’عدالتی دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے ٹویٹ کیا، ’انڈین کینگرو کورٹ کی شرمناک، عدالتی دہشت گردی قابل مذمت ہے۔ دنیا کو بیدار ہونا چاہیے اس سے پہلے کہ انڈیا مودی کی قیادت میں ایک بدلتا ہوا فاشسٹ ملک بن جائے اور خطے یا اس سے زیادہ کے لیے سنگین خطرہ نہ بن جائے۔‘

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی یاسین ملک کو سزا سنائے جانے سے پہلے منگل کو ٹویٹ کیا تھا، ’کشمیری رہنما یاسین ملک کی غیر قانونی قید سے لے کر انہیں جھوٹے الزامات میں سزا سنانے تک، ان کے خلاف مودی حکومت کے فاشسٹ طریقوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ عالمی برادری کو کشمیر میں ہندوتوا فاشسٹ مودی حکومت کی ریاستی مالی امداد سے چلنے والی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بھی منگل کو ٹویٹ کیا تھا کہ ’ہم یاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کو ختم کیا جائے۔ انھیں فوری رہا کیا جائے اور اہل خانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ انڈیا کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔‘

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

ایک پاکستانی سوشل میڈیا صارف صالحہ خضر کا کہنا تھا ’ہر پاکستانی یاسین ملک ہے جو کئی برسوں سے کشمیر کی آزادی کے لیے لڑ رہا ہے۔ جلد ہی ہم کشمیر واپس حاصل کریں گے اور کوئی ہمیں نہیں روک سکے گا۔‘

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

صدف طارق نے ’پاکستان یاسین ملک کے ساتھ‘ کے کا ٹیگ استعمال کرتے ہوئے یاسین ملک کی تصویر کے ساتھ ٹویٹ کیا کہ ’مزاحمت کی علامت‘۔

یاسین ملک

،تصویر کا ذریعہTwitter

کئی سوشل میڈیا صارفین یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک اور ان کی بیٹی کی تصاویر پوسٹ کر کے یہ کہتے نظر آئے کے یاسین ملک کو ان کے خاندان کے ساتھ رہنے کا حق ہونا چاہیے۔