میر واعظ عمر فاروق کو جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں ملی

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, کیرتی دوبے
- عہدہ, سرینگر سے بی بی سی کے نامہ نگار
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تین برسوں سے گھر میں نظر بند میر واعظ عمر فاروق کو سری نگر کی جامع مسجد میں نماز جعمہ کی ادائیگی سے روک دیا گیا ہے۔
بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا کے اس بیان کے بعد کہ میر واعظ عمر فاروق آزاد ہیں اور جہاں بھی جانا چاہیں جا سکتے ہیں، میر واعظ عمر فاروق نے چھبیس اگست کو نماز جمعہ سرینگر کی جامعہ مسجد میں ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
چھبیس اگست کو جب میر واعظ عمر فاروق گھر سے نکلنے کی کوشش تو انھیں گھر کے دوازے پر روک دیا گیا۔
عمر فاروق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ممتاز علیحدگی پسند رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ اس کے علاوہ وہ میر واعظ بھی ہیں جس کی وجہ سے وہ وادی کشمیر میں ایک ممتاز مذہبی رہنما کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔
میر واعظ عمر فاروق کُل جماعتی حریت کانفرنس کے صدر ہیں جو 26 تنظیموں پر مشتمل علیحدگی پسند خیالات رکھنے والا گروپ ہے۔
چار اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اے اور 35 کی منسوخی سے صرف ایک دن قبل میر واعظ عمر فاروق کو انڈیا کی حکومت نے حراست میں لیا تھا۔
یاد رہے کہ ان قوانین کے تحت انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دی گئی تھی اور تب سے ہی وہ گھر میں نظر بند ہیں۔
جمعے کو بی بی سی نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ایک انٹرویو کے دوران پوچھا تھا کہ میر واعظ عمر فاروق ابھی تک گھر میں نظر بند کیوں ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے جواب میں لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے کہا تھا کہ ’انھیں بند نہیں رکھا گیا ہے۔ اگر آپ تھوڑا پیچھے جائیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ان کے والد کو بدقسمتی سے قتل کیا گیا تھا۔‘
’ہم پولیس کو ان کے ساتھ رکھتے ہیں تاکہ وہ محفوظ رہیں، وہ نہ تو گھر میں نظر بند ہیں اور نہ ہی ہماری طرف سے حراست میں ہیں۔‘
منوج سنہا نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بات بڑی ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ وہ کہیں بھی جانے کے لیے مکمل طور پر آزاد ہیں، انھیں کہیں بھی جانے سے نہیں روکا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہANI
تاہم گذشتہ جمعے کو جب بی بی سی کی ایک ٹیم میر واعظ کی رہائش گاہ پر پہنچی تو نہ صرف بی بی سی کے نامہ نگار کو ملاقات سے روک دیا گیا بلکہ کیمرہ پرسن کو بھی پولیس نے زبردستی کچھ بھی ریکارڈ کرنے سے روک دیا۔
اب جمعرات کو سرینگر کی جامع مسجد کی تنظیم انجمن اوقاف جامع مسجد نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’ایک غیر ملکی چینل (بی بی سی) کو دیے گئے انٹرویو میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ میر واعظ عمر فاروق پر کوئی پابندی نہیں ہے امید ہے صدر میر واعظ محمد عمر فاروق کو کل جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔‘
بیان میں مزید لکھا گیا کہ ’میرواعظ 2019 سے گھر میں نظر بند ہیں اور اس کی وجہ سے جامع مسجد کے ماننے والے پرسکون ہو گئے ہیں۔ تمام طبقات کی مسلسل اپیلوں کے باوجود انھیں ان کے گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔‘
جامع مسجد میں میر واعظ کی نماز جمعہ اور تقاریر کے لیے تیاریاں کی گئی ہیں اور لوگ انھیں دیکھنے اور سننے کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایک معتبر ذرائع سے بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے ابھی تک میر واعظ یا انجمن اوقاف جامع مسجد کو کوئی باضابطہ اجازت نہیں دی ہے۔ تاہم ان کی رہائش گاہ کے سامنے جو بکتر بند گاڑی کھڑی تھی، اب اسے تھوڑی دور تعینات کر دیا گیا ہے۔
تاحال اس حوالے سے ایل جی انتظامیہ کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
ایل جی کا دعویٰ اور بی بی سی کی تحقیقات
گذشتہ ہفتے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا تھا کہ 'میں یہ بات بڑی ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ وہ کسی بھی جگہ جانے کے لیے مکمل طور پر آزاد ہیں۔
’انھیں کہیں بھی نہیں روکا گیا، کچھ عرصہ پہلے ایسے دو قتل ہوئے تھے جو پاکستان نے کیے تھے لیکن آئی ایس آئی نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ انڈیا کی حکومت نے کروائے ہیں، اس لیے ہم نے انھیں سکیورٹی دے رکھی ہے اور یہ سکیورٹی ان کے گھر کے باہر نہیں بلکہ اس علاقے میں ہے تاکہ جب وہ گھر سے باہر جائیں تو انھیں سکیورٹی فراہم کی جا سکے۔‘
ہفتہ کو جب بی بی سی کی ٹیم میر واعظ عمر فاروق سے ملنے پہنچی تو بی بی سی کے نامہ نگار کو پولیس نے گیٹ پر ہی روک لیا۔
اس کے بعد یہاں کے ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ پولیس نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ ’میر واعظ گھر میں نظر بند نہیں ہیں لیکن آپ ابھی اندر نہیں جا سکتے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ آئی جی سے اجازت لیں تو ہم آپ کو جانے دیں گے۔‘

اسی دوران میر واعظ عمر فاروق اپنے گیٹ کے اندر سے ایک چھوٹی سی کھڑکی پر آئے اور بی بی سی سے بات کرنے کی کوشش کی جسے ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
بی بی سی کے کیمرہ پرسن کا کیمرہ پولیس نے زبردستی بند کر دیا اور جب بی بی سی کے نامہ نگار نے ان کے فون پر ریکارڈنگ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان کا فون بھی چھین لیا۔
میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ جو صورتحال دیکھ رہے ہیں وہ حقیقت ہے۔ اگر میں آزاد ہوں تو مجھے آپ سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟'
’میں اپنے اہلِ خانہ کے علاوہ کسی سے نہیں مل سکتا۔ آپ نے ہمت کی اور اس لیے کہ اگر آپ کشمیر نہیں ہیں پھر آپ یہاں کھڑے ہو کر سوال پوچھ سکتے ہیں، آپ دیکھیں کہ آپ کے اپنے کیمرہ پرسن جو کشمیری ہیں، انھیں آگے بڑھنے سے کیسے روکا گیا۔
’میں چاہتا ہوں کہ دنیا دیکھے کہ لیفٹیننٹ گورنر پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں، اس کی حقیقت کیا ہے۔۔۔ یہ جھوٹ ہے۔‘
میر واعظ کے اہلِ خانہ قدیم زمانے سے سری نگر کی جامع مسجد میں جمعے کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ عمر فاروق کے والد کے قتل کے بعد عمر فاروق میرواعظ بنے اور تب سے وہ جمعہ کی نماز پڑھا رہے تھے۔
تاہم چار اگست 2019 سے وہ گھر میں نظر بند ہیں اور اب اگر وہ تین سال بعد ایک بار پھر جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں تو یہ ایک اہم واقعہ ہو گا۔









