کینیڈا نے اپنے شہریوں کو پاکستان سے ملحق انڈین ریاستوں میں جانے سے کیوں منع کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
کینیڈا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کی سرحد سے متصل انڈیا کی تین ریاستوں گجرات، راجستھان اور پنجاب جانے سے گریز کریں۔
سرکاری ویب سائٹ پر شائع اس ہدایت میں کہا گیا ہے کہ ’گجرات، پنجاب اور راجستھان کی ریاستوں میں پاکستان کے ساتھ سرحد کے 10 کلومیٹر کے اندر تک کے علاقوں میں غیر متوقع سکیورٹی صورتحال اور بارودی سرنگوں کی ممکنہ موجودگی کی وجہ سے ان علاقوں میں ہر طرح کے سفر سے گریز کریں۔‘
یاد رہے کہ چند روز قبل انڈین حکومت نے بھی کینیڈا میں بسنے والے اپنے شہریوں کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا جس میں انڈین شہریوں کو کہا گیا ہے کہ ’نفرت پر مبنی جرائم، فرقہ وارانہ تشدد اور انڈیا مخالف سرگرمیوں کے واقعات میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر مناسب احتیاط برتیں اور چوکس رہیں۔‘
دونوں ممالک کی جانب سے اپنے اپنے شہریوں کو اس نوعیت کی ہدایات جاری کرنا شاید معمول کی سفارتی کارروائی کا حصہ ہو تاہم انڈین میڈیا میں ان کو کسی اور پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ خالصتان تحریک کا مسئلہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ایک تکلیف دہ نکتہ بن کر سامنے آیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خالصتان تحریک کے حامی کارکن سکھوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں اور انڈیا کا الزام ہے کہ اس تحریک سے وابستہ بہت سے کارکن کینیڈا میں سیاسی بنیادوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انڈین حکومت ماضی میں متعدد مرتبہ عوامی سطح پر اپنی ناراضی کا اظہار کر چکی ہے۔
لیکن انڈیا کی جانب سے اپنے شہریوں کو جاری کیے جانے والا ہدایت نامے کے ایک ہفتے کے اندر جاری ہونے والی کینیڈین ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کینیڈین شہری شورش اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے باعث آسام، منی پور اور انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کا سفر کرنے سے بھی گریز کریں۔
انٹرنیٹ آرکائیوز نامی ویب سائٹ کے ریکارڈ کے مطابق اس سے پہلے بھی کینیڈا کی حکومت اس نوعیت کی ایڈوائزری جاری کرتی رہی ہے تاکہ بروقت اپنے شہریوں کو متنبہ کر سکے، یعنی سادہ الفاظ میں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ہے۔
اب ان تمام معاملات کو گذشتہ ماہ 18 ستمبر کو ’سکھس فار جسٹس‘ نامی ایک مبینہ خالصتان حامی تنظیم کی جانب سے کینیڈا کے شہر برامپٹن میں خالصتان سے متعلق کروائے گئے ایک ریفرنڈم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ریفرنڈم کا انعقاد کرنے والی تنظیم ’سکھس فار جسٹس‘ پر سنہ 2019 سے انڈیا میں پابندی عائد ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ریفرنڈم میں مبینہ طور پر ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا تھا اور اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ایڈوائزری بظاہر اس ریفرنڈم کا ردعمل تھی۔
اس ریفرنڈم کے انعقاد کے بعد انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے 23 ستمبر کو ایک میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ ’یہ بات انتہائی قابل اعتراض ہے کہ ایک دوست ملک میں انتہا پسندوں کی سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی جانے والی کارروائی کی اجازت ملی ہے۔ آپ سبھی اس سے متعلق تشدد کی تاریخ سے واقف ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’حکومت انڈیا اس معاملے پر کینیڈا کی حکومت پر دباؤ ڈالتی رہے گی۔‘
باگچي نے یہ بھی کہا کہ ’کینیڈا کی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ انڈیا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں اور وہ کینیڈا میں ہونے والے نام نہاد ریفرنڈم کو تسلیم نہیں کریں گے۔‘
انڈیا کی ایڈوائزری اس بیان کے ایک دن بعد آئی ہے جبکہ اس کے کچھ دنوں بعد کینیڈا نے یہ مبینہ ایڈوائزری جاری کی۔
کینیڈین ایڈوائزری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کینیڈا میں انڈیا کے سابق ہائی کمشنر وشنو پرکاش کہتے ہیں کہ یہ ایک عارضی ’ہچکی‘ ہے۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ یہ کس نے لکھی ہے اور وہ کہاں سے (یہ معلومات) حاصل کر رہے ہیں، اور وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہMuseum of Partition, Amritsar
وشنو پرکاش، جو انڈیا کی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان بھی ہیں، مزید کہتے ہیں کہ ’ہمارے (انڈیا) لیے ایڈوائزری جاری کرنے کی وجہ یہ تھی کہ خالصتان کے ہمدرد کینیڈا میں خاموشی سے سرگرم ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے وہ (کینیڈا) اُن کی سرگرمیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔‘
اس ریفرنڈم سے پہلے ہی انڈیا نے ٹورنٹو کے ایک مندر پر بنائے خالصتان سے متعلق مبینہ گرافٹی پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔
اس مبینہ حرکت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انڈیا کے ہائی کمیشن نے 15 ستمبر کو کہا تھا کہ ’ہم ٹورنٹو کی بی اے پی ایس سوامی نارائن مندر پر انڈیا مخالف گرافٹی بنانے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ کینیڈین حکام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کریں اور قصورواروں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔‘
دونوں ممالک کے درمیان عمومی طور پر گرمجوشی کے تعلقات رہے ہیں۔ کینیڈا کی چار فیصد آبادی انڈین نژاد افراد پر مشتمل ہے۔
سنہ 2021 میں انڈیا کینیڈا کی 14ویں سب سے بڑی برآمدی منڈی تھی۔
اس کے علاوہ کینیڈا انڈیا کے طلبا کے لیے تعلیم کے حصول کے لیے سرفہرست مقام میں سے ایک ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لگ بھگ سوا دو لاکھ انڈین طالب علموں کو 2021 میں تعلیم کے حصول کے لیے کینیڈا کا ویزہ جاری کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس کے ساتھ ہی دونوں فریقوں نے طویل عرصے سے زیر التوا آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ اگریمینٹ) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کے لیے دونوں ممالک کے رہنماؤں نے حالیہ مہینوں میں کئی دفعہ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔
لیکن خالصتان کا مسئلہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے اور حالیہ برسوں میں اس مسئلے پر سیاسی اختلاف کئی دفعہ سامنے آیا ہے۔
چندی گڑھ یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات پروفیسر رونکی رام کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ کس بنیاد پر یہ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے انھیں کوئی انٹیلیجنس رپورٹ ملی ہو یا نوجوانوں کے منشیات کی طرف جانے کے بارے میں فکر مند ہوں۔‘
انڈیا اور کینیڈا کے درمیان تجارت، ترسیلات زر اور لوگوں کے تبادلے کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات حالیہ تنازعات سے بڑے ہیں اور ان پر اس تنازع سے کچھ زیادہ اثر نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ ’یوکرین تنازع کو دیکھیے۔ جب تک روس نے گیس کی سپلائی روکنے کی کوشش نہیں کی اس وقت تک روس کی پوری دنیا کے ساتھ تجارت جاری تھی۔ یہ بات انڈیا اور کینیڈا کے لیے بھی لاگو ہوتی ہے۔‘
مزید پڑھیے
لیکن وشنو پرکاش کا کہنا ہے کہ کینیڈا نے ایڈوائزری جاری کر کے جواب دینے کا انتخاب کیا ہے۔
انھوں نے ٹؤٹر پر لکھا کہ ’کینیڈا کے خالصتانی عناصر کو ٹروڈو حکومت میں حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔ ٹروڈو اب ایک اقلیتی حکومت کے سربراہ ہیں اور انھیں نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کی ضرورت ہے جس کے لیڈر جگمیت سنگھ اپنے خالصتانی جھکاؤ کو بالکل نہیں چھپاتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2013 اور سنہ 2017 میں ٹروڈو نے کینیڈا میں منعقدہ ’خالصہ ڈے پریڈ‘ میں شرکت کی تھی جس کا اثر اُن کے فروری 2018 کے دورہ میں انڈین حکومت کی طرف سے سردمہری میں نظر آیا۔
تاہم اپریل 2018 میں انھوں نے اس سالانہ پریڈ میں شرکت نہیں کی۔
وشنو پرکاش کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فطری ہم آہنگی ہے اور یہ مزید گہرائی کی طرف گامزن ہے۔
انھوں نے کہا ’لیکن چیلنج یہ ہے، جو کہ کچھ عرصے سے موجود ہے کہ انڈیا مخالف عناصر کو کینیڈا میں حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔ جس کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ انھیں بھی آخرکار اس کا احساس ہو گا کہ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آخر کار معاملات بہتر ہو جائیں گی۔‘











