انڈین پارلیمان کے لیے ریشم اور پشمینہ کے قالین کون تیار کر رہا ہے؟

قالین، کشمیر
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

پرویز خان اپنی اہلیہ اور رشتے داروں کے ہمراہ گذشتہ کئی ماہ سے اپنے گھر میں خاص طرح کی ریشم اور پشمینہ اُون سے ایک خصوصی قالین بُن رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام کے پہاڑی گاؤں شنگلی پورہ میں صرف پرویز خان کا خاندان ہی نہیں بلکہ دیگر کئی گھرانے بھی اِسی کام میں مصروف ہیں۔

نہایت نفیس نقوش والے یہ قالین نئی دلی میں زیر تعمیر انڈیا کی پارلیمان کی نئی عمارت کی زینت بنیں گے۔ شنگلی پورہ میں بسنے والے 90 فیصد افراد کا واحد ذریعہ معاش قالین بافی ہے مگر اس پسماندہ گاؤں کے محنت کش دستکاروں کا کئی دہائیوں سے استحصال ہو رہا ہے۔

پرویز خان کی اہلیہ شوقیہ خان صبح سویرے ہی پورے دن کا کھانا تیار کر لیتی ہیں، چائے بنا کر تھرموس میں رکھتی ہیں اور بچوں کو سکول روانہ کرنے کے بعد لُوم پر لگاتار 10 گھنٹے کام کرتی ہیں تاکہ وقت پر قالین تیار ہو سکے۔

وہ کہتی ہیں ’رات بھر کمر میں درد ہوتا ہے، ہماری اُنگلیاں چِھل گئی ہیں اور آنکھوں میں جلن ہوتی ہے۔ اب تو نظر بھی کمزور ہو گئی ہے۔‘

اُن کے خاوند پرویز کہتے ہیں کہ روزانہ 16 گھنٹے کام کرنے کے باوجود ہمیں قالین بافی سے فقط 150 روپے یومیہ اجرت حاصل ہوتی ہے۔ ’تاجر تو بڑے بڑے آرڈر لیتے ہیں، لیکن ہمیں ہماری مزدوری تک نہیں دیتے۔‘

تاہم انڈین پارلیمان کے لیے کشمیری قالین فراہم کرنے کا آرڈر جس کمپنی نے لیا ہے اُس نے پرویز اور ان کی اہلیہ کی خدمات 600 روپے یومیہ کی عوض حاصل کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرویز اور ان کے گاؤں میں بسنے والے دیگر دستکار خوش ہیں کیونکہ اُمید ہے کہ پارلیمنٹ کے لیے قالین تیار کرنے سے انھیں مناسب مزدوری مل پائے گی۔

پرویز خان کہتے ہیں ’یہ سب بچولیوں (ایجنٹوں) کا کھیل ہے۔ کام ہم کرتے ہیں لیکن تاجر لوگ ہمارا ہی پیسہ ہڑپ کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے آرڈر میں بھی گڑبڑ تھی۔ پہلے کچھ لوگ آئے تو انھوں نے فی مربع فٹ کے لیے 2300 روپے آفر کیے مگر ہم نے انکار کر دیا جس پر انھوں نے مزدوری دگنا بڑھا دی۔ لیکن ہم نے پھر انکار کر دیا تو آخر میں سات ہزار روپے پر معاملہ طے پا گیا۔ اب اُسی حساب سے ہم سب 600 روپے روزانہ کما رہے ہیں۔‘

قالین، کشمیر

اسی گاؤں میں رہنے والے عبدالرحیم خان بھی اپنی اہلیہ مبینہ کے ساتھ پارلیمنٹ کے لیے قالین بنا رہے ہیں۔

عبدالرحیم کا کہنا ہے ’حکومت گوشت اور روٹی کی قیمت طے کرتی ہے، لیکن ہماری کوئی نہیں سُنتا۔ اگر موجودہ مارکیٹ اور مہنگائی کو دیکھتے ہوئے حکومت دستکاروں کی اُجرت کے لیے کوئی مناسب ریٹ لسٹ مقرر کرتی تو بچولیوں اور تاجروں کو ہمارا استحصال کرنے کا موقع نہ ملتا۔‘

پارلیمنٹ کمپلیکس کو کشمیری قالین کی ضرورت کیوں پڑی؟

واضح رہے کہ مودی حکومت نے انڈیا کی موجودہ پارلیمان کی عمارت کو ’نوآبادیاتی نظام کی علامت‘ کہتے ہوئے نئے پارلیمنٹ کمپلیکس کا سنگ بنیاد کئی سال پہلے رکھا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عمارت جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو گی اور اس کا طرز تعمیر خالص انڈین ثقافت اور تمدنی رنگا رنگی کی علامت ہو گا۔ پارلیمنٹ کمپلیکس کے ساتھ ہی ’انڈین ٹریڈ پرموشن آرگنائزیشن‘ کی شاندار عمارت بھی بن رہی ہے۔

اسی عمارت کے دیوان خانوں میں ریشم اور پشمینہ کے یہ قالین رکھے جانے کے لیے تیار کروائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سرکاری ذرائع کے مطابق انڈیا G20 کی میزبانی کے دوران کشمیر سمیت تمام صوبوں کی علاقائی صنعتوں کی نمائش کرنا چاہتا ہے۔

جہاں دستکاروں کو ایک طرف اطمینان اور فخر ہے کہ وہ انڈین پارلیمنٹ کمپلیکس کے لیے قالین بنا رہے ہیں، وہیں انھیں یہ اُمید بھی ہے کہ اُنھیں اب مزید استحصال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

قالین، کشمیر

شنگلی پورہ اس قدر پسماندہ گاؤں ہے کہ چند گھرانوں کے پاس روزگار کمانے کے لیے فقط اخروٹ کے کچھ درخت ہی ہیں جس سے اترنے والا اخروٹ فروخت کر کے وہ سال بھر گزر بسر کرتے ہیں۔

پورے کشمیر میں ساڑھے تین لاکھ دستکار قالین بافی کی صنعت کے ساتھ وابستہ ہیں، لیکن انھیں دہائیوں سے یہی شکایت ہے کہ نہ مناسب مزدوری ملتی ہے اور نہ ہی کوئی ان کی بہبود کے بارے میں سوچتا ہے۔

استحصال کی قدیم روایت

قالین بافی کی صنعت تین سطحوں پر سرگرم ہے۔ قالین کا ایکسپورٹر ایک سرمایہ دار ہوتا ہے جو کسی ٹھیکیدار سے قالین بنوانے کے لیے کہتا ہے۔ ٹھیکیدار اُون، ریشم یا پشمینہ یا جو بھی خام مال ہو وہ دستکاروں کو مہیا کرتا ہے اور نہایت قلیل اُجرت پر کام کرواتا ہے لیکن تاجر سے وہ برابر پیسے وصول کرتا ہے۔

پرویز خان کہتے ہیں کہ ’ہم غریب لوگ مجبور ہیں، ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت چاہے تو ایک ایجنسی بن سکتی ہے اور تاجروں کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ اسی ایجنسی کے ذریعے قالین بنوائیں، وہی ایجنسی ہماری مزدوری طے کر سکتی ہے۔ اس طرح بچولیوں کا رول ختم ہو سکتا ہے، ورنہ میرے دادا، باپ اور میری طرح میرے بچوں اور اُن کے بچوں کا ہمیشہ استحصال ہوتا رہے گا۔‘

معروف کارپیٹ ایکسپورٹر اور تجارتی انجمن ’کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز‘ کے صدر شیخ عاشق نے اعتراف کیا کہ دستکاروں کے ساتھ استحصال ہوتا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’قالین کی اہم صنعت میں دستکار، تاجر اور ایکسپورٹر سبھی کا رول ہوتا ہے۔ اور سب کا رول اہم ہے۔ لیکن ہمارے یہاں کوئی پالیسی ہی نہیں جس سے اُجرت کا مسئلہ حل ہو جاتا۔ اب ہم اپنی سطح پر اس سارے نظام کو مؤثر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

قالین، کشمیر

قالین بافی کی صنعت زوال کی شکار کیوں؟

قالین بافی کی صنعت کو کشمیر میں 15ویں صدی کے دوران اُس وقت کے ایک بادشاہ سلطان زین العابدین نے متعارف کروایا تھا۔

تاریخی حوالوں کے مطابق انھوں نے ایران سے ماہر دستکاروں کا ایک گروپ مدعو کر کے کشمیریوں کو تربیت دلائی تھی جس کے بعد کشمیر میں قالین بافی ایک باقاعدہ صنعت بن گئی۔

ہاتھوں سے نہایت باریک گانٹھیں باندھتے ہوئے ریشم اور پشمینہ اُون سے رنگ برنگے نقوش قالین پر اُتار کر کشمیری دستکاروں نے کشمیری قالین کو دنیا بھر میں مقبول بنا دیا۔ 18 صدی کے دوران لندن کی کرسٹل پیلس نمائش میں بھی کشمیری قالین دیکھ کر یورپی لوگ نہایت متاثر ہو گئے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 30 برسوں میں قالین کی صنعت 60 گراوٹ کی شکار ہو گئی ہے۔

اس زوال کے کئی اسباب بتائے جاتے ہیں۔

شیخ عاشق کہتے ہیں کہ ’عالمی سطح پر مندی بھی ایک وجہ ہے لیکن ایران اور ترکی نے مشین کے ذریعہ ایسے ایسے ڈیزائن متعارف کروائے ہیں کہ کشمیری قالین اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ یہاں کے تاجروں نے پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے سستا اور غیرمعیاری چینی ریشم استعمال کر کے کشمیری قالین کے روایتی معیار کو کم کر دیا۔‘