سائرس مستری: ٹاٹا کمپنی کے سابق چیئرمین اور انڈیا کی ارب پتی شخصیت ٹریفک حادثے میں ہلاک

سائرس مستری

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنٹاٹا کے بورڈ نے 2016 میں سائرس مستری کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا تھا جس نے ایک نئی قانونی جنگ کو جنم دیا

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی کمپنی ٹاٹا کے سابق چیئرمین کی موت کاروباری دنیا کے لیے بڑے نقصان کا سبب بنی ہے۔

سائرس مستری اتوار کو ممبئی جا رہے تھے، جب ایک ٹریفک حادثے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ مغربی انڈین ریاست مہاراشٹر کی پولیس کا کہنا ہے کہ سائرس مستری کے علاوہ ایک اور شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ دو مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

54 برس کے سائرس مستری کو سنہ 2016 میں ٹاٹا گروپ کی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی کارکردگی پر تنقید کی گئی تھی۔

ان کی جگہ رتن ٹاٹا نے لی تھی۔ اس سے چار سال قبل سائرس مستری ان ہی کی جگہ پر چیئرمین بنے تھے۔

کمپنی کے بورڈ ارکان کی پُراسرار بغاوت انڈین سپریم کورٹ میں ایک طویل قانونی جنگ بن گئی تھی مگر بالآخر یہ فیصلہ ٹاٹا کے حق میں آیا۔

ٹاٹا کمپنی 100 سے زیادہ ملکوں میں کام کرتی ہے اور اس کے پراڈکٹس میں نمک، سٹیل اور سافٹ ویئر سمیت کئی شعبوں کی اشیا ہیں۔ گذشتہ سال کمپنی کی آمدن 130 ارب ڈالر تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام سائرس مستری اور ان کے ساتھی ایک مرسیڈیز کار میں مہاراشٹر کے ضلع پال گھر سے گزر رہے تھے جب یہ حادثہ ہوا۔

پولیس کا خیال ہے کہ جب گاڑی پُل کے ذریعے دریا پار کر رہی تھی تو یہ سڑک پر ایک ڈیوائیڈر (دو سڑکوں کے بیچ رکاوٹ) سے ٹکرائی۔ حادثے میں زخمی سائرس نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ پولیس کے مطابق ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس مرسیڈیز کار کی رفتار تیز تھی اور اس نے غلط طرف سے اوورٹیک کرنے کی کوشش کی تھی۔

مستری کے علاوہ ہلاک ہونے والے دوسرے شخص پچھلی سیٹ پر سوار تھے۔ کم از کم دو افراد کو اس حادثے کے نتیجے میں ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

مودی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ سائرس مستری ’عمدہ کاروباری رہنما تھے جو انڈیا کی معیشت کی صلاحیت پر یقین کرتے تھے۔‘

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ نے پولیس کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

اس حادثے نے ملک میں ٹریفک حادثوں کی بڑی تعداد پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2021 میں ٹریفک حادثوں میں ڈیڑھ لاکھ ہلاکتیں ہوئیں، یعنی ہر گھنٹے میں 18 اموات۔

یہ بھی پڑھیے

سائرس مستری

،تصویر کا ذریعہReuters

سائرس مستری کون تھے؟

آئرلینڈ میں پیدا ہونے والے سائرس مستری نے لندن کے امپیریئل کالج سے سول انجینیئرنگ کی اور پھر لندن بزنس سکول سے تعلیم حاصل کی۔

وہ ایک وقت میں دنیا کی امیر ترین کاروباری شخصیات میں سے ایک شاپورجی پالونجی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے جبکہ ان کا خاندان آئرلینڈ کے امیر ترین انڈین خاندانوں میں سے ایک ہے۔

سائرس نے شاپورجی پالونجی اینڈ کمپنی میں 1991 میں کام کرنا شروع کیا۔

انھیں 1994 میں شاپورجی پالونجی گروپ کے ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ سائرس کی قیادت میں شاپور جی پالونجی اینڈ کمپنی نے بہت زیادہ منافع کمایا اور اس کا کاروبار 20 ملین پاؤنڈ سے بڑھ کر تقریباً 1.5 ارب پاؤنڈ ہو گیا۔

کمپنی نے بحری امور سمیت کئی شعبوں میں کام پھیلایا جن میں تیل و گیس اور ریلوے شامل ہیں۔ اس دوران اس کمپنی کا تعمیراتی کام دس سے زیادہ ممالک میں پھیلا ہوا تھا۔

سائرس کی قیادت میں ان کی کمپنی نے انڈیا میں کئی بڑے ریکارڈ قائم کیے، جن میں بلند ترین رہائشی ٹاور کی تعمیر، طویل ترین ریل پل کی تعمیر اور سب سے بڑی بندرگاہ کی تعمیر شامل ہیں۔

سائرس نے سنہ 2006 میں ٹاٹا سنز کے بورڈ میں شمولیت اختیار کی۔ سینیئر صحافی ایم کے وینو کے مطابق ٹاٹا سنز کے زیادہ تر حصص سائرس مستری کے خاندان کے پاس ہیں۔

سال 2012 میں رتن ٹاٹا کی ریٹائرمنٹ کے بعد سائرس مستری کو ٹاٹا گروپ کی کمان ملی۔ وہ 2016 تک ٹاٹا سنز کے چھٹے چیئرمین رہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کے والد کی قائم کردہ کمپنی شارپونجی پالونجی گروپ کے پاس ٹاٹا گروپ کی 18 فیصد ملکیت ہے۔ اس کمپنی کے ٹاٹا گروپ میں سب سے زیادہ حصص ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق موت کے وقت سائرس مستری کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً 29 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔