ایلون مسک: ارب پتی بزنس مین کی بیٹی نے باپ سے تعلق توڑ لیا

Elon Musk headshot

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹیکنالوجی کی دنیا کے ارب پتی بزنس مین ایلون مسک کی بیٹی نے قانونی طور پر اپنا نام اور جنس تبدیل کرنے کی درخواست دی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اب اپنے والد کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہتی ہیں۔

ایلون کی بیٹی کی عمر 18 برس ہے اور وہ بطور عورت اپنی شناخت چاہتی ہیں اور ویویان جینا ولسن کے نام سے پکاری جانا چاہتی ہیں۔

وہ اس سے پہلے زاویار ایلکزینڈر مسک کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ نئے برتھ سرٹیفکیٹ اور نام کی تبدیلی کے لیے ان کی درخواست سانتا مونیکا شہر میں لاس اینجلس کاؤنٹی کی اعلیٰ عدالت میں دائر کی گئی ہے۔

ان کی یہ درخواست اپریل میں دائر کی گئی تھی جو اب حال ہی میں سامنے آئی ہے۔

تاہم اس حوالے سے ایلون مسک اور ان کی بیٹی کے درمیان بظاہر پیدا ہونے والے اختلاف کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

کمپنی ٹیسلا کے ساتھ ساتھ راکٹ بنانے والی کمپنی سپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے ابھی اس خبر پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

مسک نے ویویان کی والدہ جو کہ مصنفہ جسٹن ولسن ہیں، ان سے سنہ 2000 میں شادی کی تھی جو کہ سنہ 2008 میں طلاق کی صورت میں ختم ہو گئی۔

اس جوڑے کے ہاں سنہ 2002 میں نویڈا نامی بیٹے کے پیدائش ہوئی تاہم وہ پیدائش کے دس ہفتے بعد ہی اچانک فوت ہو گئے۔

مزید پڑھیے

بعد میں ان کے ہاں جڑواں بیٹے زاویر اور گریفن کی پیدائش ہوئی اور پھر یہ ایک ساتھ تین بیٹوں ڈیمیان، کائی اور سیزون کے والدین بنے۔

والد کی شہرت کے باوجود ایلون مسک کے بچے نسبتاً کم ہی منظر عام پر دکھائی دیتے ہیں۔

ابھی تین روز پہلے ہی جب فادرز ڈے گزرا تو ایلون مسک نے ٹوئٹ کی کہ ‘میں اپنے سب بچوں سے بہت محبت کرتا ہوں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

بیٹی کی جانب سے والد سے تعلق توڑنے کے فیصلے پر ایلون نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ایلون مسک خواجہ سراؤں کے حوالے قدرے قدامت پسند تصور کیے جاتے ہیں۔

ان کی بیٹی کی جانب سے نام اور جنس کے لیے عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست سے ایک ماہ پہلے انھوں نے ریپبلکن پارٹی کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا تاہم اس سے پہلے انھوں نے ڈیموکریٹ کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلوریڈا میں ریپبلکن گورنر رون ڈیسینٹس جنھوں نے نام نہاد بِل ’ڈونٹ سے گے‘ "Don't Say Gay" متعارف کروایا تھا، مسک ا کے مداح ہیں۔

خیال رہے کہ اس متنازع قانون کے باعث سکولوں کو بچوں کو ان کی صنف کے لحاظ سے مسائل اور جنسی رحجانات کے بارے میں تعلیم دینے سے روکا گیا تھا۔

یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو اساتذہ اس پر عمل نہیں کریں گے انھیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔

سنہ 2020 میں ایلون مسک نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا ’پرونائونز سک‘ (Pronouns suck) یعنی اسمِ ضمیر فضول ہوتے ہیں۔ یہاں انھوں نے خواجہ سراؤں کا حوالہ دیا تھا تاہم پھر انھوں نے یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کی۔ اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کرنے سے پہلے انھوں نے لکھا ’یقینی طور پر میں خواجہ سراؤں کی سپورٹ کرتا ہوں لیکن یہ سب اور خوبصورت ڈراؤنا خواب ہیں۔‘