فلاحِ عام ٹرسٹ: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت اسلامی کے سکولوں پر پابندی کیوں؟

کشمیر، فلاحِ عام، جماعت اسلامی

،تصویر کا ذریعہTwitter

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو، سرینگر

ضلع بڈگام کے کرالہ پورہ علاقے کی رہنے والی شگفتہ فاروق (فرضی نام) فلاحِ عام ٹرسٹ نامی ادارے کے تحت چلنے والے 300 سے زیادہ سکولوں میں سے ایک میں گذشتہ کئی سال سے اُستانی ہیں۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جماعت اسلامی کے 'فلاحِ عام ٹرسٹ' پر پابندی کے اعلان سے شگفتہ سمیت ہزاروں طلبہ اور اساتذہ پریشان ہوگئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم پہلے ہی پریشان تھے۔ کئی کئی ماہ کی تنخواہیں بند پڑی ہیں، نہایت قلیل معاوضے پر ہم کام کرتے تھے۔ لیکن اب حکومت کے اس فیصلے نے مزید پریشان کردیا ہے۔‘

کشمیر میں نہایت قلیل فیس کے عوض معیاری تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے جماعت اسلامی نے 1972 میں فلاحِ عام ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا اور جماعت اسلامی نے اسے اپنے ’شعبہ تعلیم‘ کے طور پر باقاعدہ انتظامی ڈھانچے کے ساتھ متعارف کروایا تھا۔

ٹرسٹ کے موجودہ ڈائریکٹر شوکت احمد کے مطابق فی الوقت وادی کے دس اضلاع میں 332 سکول ہیں جن میں 80 ہزار لڑکے اور لڑکیاں زیرِ تعلیم ہیں اور ان اداروں میں غیر تدریسی عملے سمیت دس ہزار اساتذہ کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2019 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے سے چند ماہ قبل ہی جماعت اسلامی جموں کشمیر کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور سرینگر کے بٹہ مالو علاقے میں قائم اس کا صدر دفتر سیل کر کے اس کے امیر حمید فیاض کو جماعت کے کئی کارکنوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

حمید فیاض

،تصویر کا ذریعہJammat-e-Islami

،تصویر کا کیپشنامیر جماعت اسلامی جموں کشمیر حمید فیاض کو جماعت کے کئی کارکنوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا

پیر کے روز جاری جس سرکاری حکم نامے میں فلاحِ عام ٹرسٹ کے سکولوں کو دو ہفتوں کے اندر اندر سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں اس پابندی کی فوری وجوہات کا ذکر نہیں ہے۔

تاہم حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سال 1990 میں ہی فلاحِ عام ٹرسٹ پر پابندی عائد تھی اور تب سے ہی اس کے سکولوں میں زیرِ تعلیم سٹوڈنٹس کی رجسٹریشن عدالتی احکامات پر ہوتی رہی ہے۔

سرکاری حکمنامے میں محکمہ تعلیم کے افسروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ ٹرسٹ کے سکولوں میں جو طالب علم زیرِ تعلیم ہیں اُن کا نزدیکی سرکاری سکولوں میں داخلہ یقینی بنایا جائے۔ تاہم شگفتہ فاروق جیسی ہزاروں اُستانیوں اور دیگر اساتذہ کے بارے میں حکومت نے کچھ نہیں کہا ہے۔

شگفتہ کہتی ہیں کہ ’صرف میں نہیں، ایسی بہت ساری لڑکیاں ہیں جو تنخواہ میں ملنے والی چھوٹی سی رقم جمع کرتی تھیں تاکہ شادی کے وقت والدین پر بوجھ نہ پڑے۔ پہلے ہی کووڈ کی وجہ سے تنخواہوں میں تاخیر ہوئی تھی۔ کئی کئی ماہ کی تنخواہیں بقایا ہیں اور اب یہ پابندی۔‘

ٹرسٹ کے نانظم تعلیمات شوکت احمد کہتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کریں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ فلاح عام ٹرسٹ کے زیرِ نگرانی فی الوقت صرف سات سکول ہیں اور گذشتہ تین دہائیوں کے دوران بیشتر سکول ٹرسٹ سے علیحدہ ہو چکے ہیں اور وہ حکومت کے محکمہ تعلیم کی طرف سے باقاعدہ تسلیم شدہ ہیں۔

’حکمنامے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ کون سے سکولوں کو بند کیا جانا ہے، اس کی وجہ سے ہزاروں استاتذہ اور طالب علموں اور ان کے والدین میں تشویش ہے۔‘

شوکت احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن کا ٹرسٹ ایک ’غیر سرکاری اور غیر منافع بخش‘ ادارہ ہے جو نہایت قلیل فیس کے عوض اُن لوگوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے جو بڑے سکولوں میں اپنے بچوں کا داخلہ نہیں کر پاتے۔

’ہمارا جماعت اسلامی یا کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے سکولوں میں وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو سرکاری اور دوسرے نجی سکولوں میں رائج ہے۔ انڈیا بھر سے ماہرین ہمارے ٹیچر ٹریننگ پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔‘

اس پابندی کی وجہ سے ہزاروں استاتذہ بے روزگار ہوسکتے ہیں اور ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں تعلیمی سیشن کے عین درمیان میں معطل ہوسکتی ہیں۔

گو سرکاری حکمنانے میں پابندی کے واضح محرکات کا ذکر نہیں ہے، بعض سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کے پاس خفیہ اطلاعات ہیں کہ ان سکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں میں حکومت مخالف جذبات اُبھارے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر، جماعت اسلامی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ظاہر ہے دہشتگردی کی پشت پناہی اور علیحدگی پسندی کا پرچار کرنے پر جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

’فلاحِ عام ٹرسٹ بھی جماعت اسلامی کی ہی ایک شاخ ہے۔ بچوں کا مستقبل خراب نہیں ہونے دیا جائے گا، محکمہ تعلیم کو ہدایات دی گئی ہیں کہ بچوں کا فوری داخلہ نزدیکی سرکاری سکولوں میں کیا جائے۔‘

واضح رہے کہ اپنے قیام کے چند سال بعد ہی 1977 میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ نے ٹرسٹ پر پابندی عائد کی تھی اور ان سکولوں میں تعینات اساتذہ کو سرکاری محکمہ تعلیم میں نوکریاں فراہم کی تھیں۔

لیکن ٹرسٹ کے سکول دوسرے ناموں سے چلتے رہے یہاں تک کہ 1989 میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی ایک بار پھر ٹرسٹ کو کالعدم قرار دیا گیا۔ اُسوقت ٹرسٹ نے یہاں کی عدالت عالیہ سے رجوع کر کے ایک عبوری ریلیف کی درخواست کی تو عدالت نے سکولوں کے بچوں کو مقامی بورڈ کے ذریعہ امتحانات میں شرکت کی اجازت دی۔ موجودہ حکمنامے پر اگر عمل ہوا تو یہ پچھلے 33 سال میں ٹرسٹ پر تیسری پابندی ہوگی۔

فلاحِ عام ٹرسٹ سے جُڑے ایک کارکن نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’حکومت جانتی ہے حالات کیسے ہیں۔ پھر بھی ہمارے یہاں سے فارغ بچے مختلف شعبوں میں نام کما چکے ہیں اور ابھی تک ایک بھی بچہ ایسا نہیں جو آگے جاکر کسی تخریبی کارروائی میں ملوث پایا گیا۔

’حکومت کی اپنی یونیورسٹیوں میں سے کئی لڑکے ایسے تھے جنھوں نے بندوق اُٹھائی اور جھڑپوں میں مارے گئے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن یونیورسٹیوں کو بند کیا جائے۔ ہمارے سبھی کاغذات درست ہیں اس کے باوجود ہمیں تنگ کیا جارہا ہے۔‘