انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی کمانڈروں کی نماز پڑھتے وائرل تصویر کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

@danvir_chauhan

،تصویر کا ذریعہ@danvir_chauhan

    • مصنف, ریاض مسرور، منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستان اور انڈیا میں سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر وائرل ہے جس میں یونیفارم پہنے انڈین فوجیوں کو جائے نماز پر حالتِ نماز میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر میں جہاں بیشتر فوجیوں نے مسجد میں پہنے جانے والی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں وہیں ایک سکھ افسر پگڑی میں بھی نظر آ رہے ہیں۔

اس تصویر پر نظر پڑتے ہی جو سوالات آپ کے ذہن میں آتے ہیں، سوشل میڈیا پر بھی اکثر افراد یہی پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ’اس تصویر کا کیا مطلب ہے؟ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہندو اور سکھ فوجی نماز پڑھ رہے ہیں؟ یہ کس قسم کی پبلیسٹی ہے؟‘

انڈین صارفین تو ایک طرف، پاکستان میں اس تصویر پر بہت تشویش ہے اور اکثر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ’اگر آپ مسلمان نہیں ہیں تو جائے نماز پر صرف اٹھک بیٹھک لگانے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟‘

واقعہ کچھ یوں ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج نے ہندو قوم پرستوں کی مخالفت کے باوجود مسلمانوں کے لیے افطار پارٹیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور یہ تصویر بھی ایسے ہی ایک افطار کے بعد لی گئی ہے۔

سرینگر کے رنگریٹ علاقے میں واقع فوجی ہوائی اڈے پر انڈین فوج کی 15ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے کی قیادت میں پیر کی شام سینیئر فوجی افسروں نے مسلمان شہریوں کو افطار پر بلایا اور اُن کی میزبانی کی۔ ان فوجی افسران نے بعد میں مسلمانوں کے ہمراہ مغرب کی نماز میں بھی شرکت کی۔

’انڈین فوج کی مسلمانوں کے ساتھ افطار کی روایت‘

Indian Army

،تصویر کا ذریعہIndian Army

سنہ 1989 میں مسلح شورش شروع ہونے کے چند سال بعد سے ہی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تعینات فوجی کمانڈروں کی یہی روایت رہی ہے کہ وہ مسلمان شہریوں کو فوجی ہیڈکوارٹر یا مختلف کیمپوں میں مدعو کر کے افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔

ہر سال رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں اس سلسلے کا آغاز ہو جاتا ہے۔

تاہم اس تصویر پر انڈیا اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کئی مسلمانوں اور ہندوؤں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

انڈیا سے ایک صارف نے لکھا کہ وہ ’انڈین فوج کی عزت کرتے تھے مگر آج سے انھوں نے میری نظروں میں اپنی قدر کھو دی ہے۔ ہندوؤں کے اپنے خدا ہیں اور آپ کو ایسی کیا ضرورت پڑ گئی کہ کسی اور کے خدا کے سامنے جا کر ان کی عبادت کریں؟‘

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنجموں میں قائم وزارت دفاع کے ترجمان نے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی

ایک اور نے لکھا: ’ذرا تصور کریں کہ یہ لوگ دہشت گردوں سے نمٹ رہے ہیں۔ یہ تصویر دیکھنے کے بعد تعجب نہیں کہ ہماری انٹیلیجنس اتنی کمزور ہے کہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی نوجوان ہمارے فوجی قافلوں پر گرینیڈ مارتا ہے۔‘

دوسری جانب سرحد کے دونوں جانب رہنے والے کشمریوں کا کہنا ہے کہ ’پورا سال یہی فوجی کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں اور رمضان میں ایسی ایک تصویر سے یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’سب چنگا ہے جی‘ (یعنی سب ٹھیک ہے)‘

Twitter

،تصویر کا ذریعہTwitter

انڈین فوج کو مسلمانوں کے ساتھ افطار کی تصویریں کیوں ڈیلیٹ کرنا پڑیں؟

اس سے قبل 21 اپریل کو جموں میں تعینات فوج کی 16ویں کور کے افسروں نے ضلع ڈوڈہ میں ایسی ہی ایک افطار کا اہتمام کیا مگر اس کے بعد ایک تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

افطار پارٹی کے بعد میں جموں میں قائم وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک ٹویٹ کیا کہ ’سیکولرازم کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے انڈین فوج نے ضلع ڈوڈہ کے آرنورا علاقے میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔‘

اس کے ردعمل میں ہندو قوم پرست صحافی سُریشن چوہانکے نے ٹویٹ میں لکھا ’اب یہ بیماری انڈین فوج میں بھی گھُس گئی ہے۔ بہت افسوس ہے۔‘

یہ ٹویٹ ہزاروں مرتبہ ری ٹویٹ ہوئی اور بڑی تعداد میں شیئر کی گئی۔ اس کے بعد وزارت دفاع کے ترجمان نے اپنی ٹویٹ تو ڈیلیٹ کر دی مگر سوشل میڈیا پر بحث مزید بڑھ گئی۔

@MukandRita

،تصویر کا ذریعہ@MukandRita

’اپنی ہی ٹویٹ کا دفاع نہ کر پانا بزدلی ہے‘

تاہم بعض ریٹائرڈ فوجی جنرلوں نے اس طرز عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فوج نے ’سائبر موب‘ کے ردعمل کی وجہ سے اپنے ایک جائز اقدام کا دفاع نہیں کیا۔

جموں میں تعینات انڈین فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر رہ چکے ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے انگریزی روزنامہ ’دا انڈین ایکسپریس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی ہی ٹویٹ کا دفاع نہ کر پانا بزدلی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’فوج اور اس کے ترجمان کے پاس حوصلہ ہونا چاہیے تھا کہ ہر سال رمضان میں فوج کی طرف افطار کی روایت کا دفاع کرتے۔‘

جنرل پناگ کا مزید کہنا تھا کہ ’اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ یہ تو مقامی لوگوں کے دل جیتنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

کئی دیگر فوجی افسروں کا کہنا تھا کہ فوج کشمیر میں خیرسگالی مِشن کے تحت سکول بھی چلاتی ہے اور یہ سب کام ’مقامی لوگوں کی حمایت سے غیرملکی امداد سے چلنے والی عسکریت پسندی کے خلاف لڑائی کے لیے ہے۔‘

@Rehaan_Koshur

،تصویر کا ذریعہ@Rehaan_Koshur

،تصویر کا کیپشن17 اپریل کو لی گئی تصویر جس میں لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے افطار کے بعد نماز ادا کر رہے ہیں

’فوج مسیحی آبادی کے ساتھ کرسمس بھی مناتی ہے‘

اسی حوالے سے ریٹائرڈ میجر جنرل یَش مور نے ٹُویٹ کیا ’مختلف مذاہب کے درمیان رواداری کے لیے فوج پیش پیش رہی ہے۔ فوجی افسر ہونے کی حیثیت سے ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارا کوئی مذہب نہیں، ہمارا وہی مذہب ہوتا ہے جو ہمارے زیرقیادت فوجیوں کا ہوتا ہے۔‘

بعض فوجی افسروں نے یہ بھی بتایا کہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں جہاں مسلح عسکریت پسندی کا مسئلہ ہے، وہاں فوج اکثر اوقات مقامی مسیحی آبادی کے ساتھ کرسمس بھی مناتی ہے۔

انڈین نیوز پورٹل سکرول نے مغربی کمان کے سابق کمانڈر کے حوالے سے لکھا: ’اس (افطار پارٹی) کا کوئی مذہبی یا سیاسی پہلو نہیں ہے۔ یہ محض عسکریت پسندی کے خلاف لڑائی میں مقامی لوگوں کو ساتھ رکھنے کا ایک اقدام ہے۔‘

Indian Army

،تصویر کا ذریعہIndian Army

واضح رہے سابق فوجیوں کے ردعمل کے بعد کشمیر میں تعینات انڈین فوج کے کئی کیمپوں پر دوبارہ افطار پارٹیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

بانڈی پورہ کے گُریز میں ایسی ہی محفل کے بعد سرینگر کے فوجی ہوائی اڈے پر بھی پیر کی شام تقریب کا اہتمام ہوا۔ اس تقریب پر لیفٹنٹ جنرل ڈی پی نے دیگر افسروں کے ہمراہ روزہ داروں کی افطار پر میزبانی کی۔