انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: وادی چھوڑ کر جانے والے مقامی ہندو پنڈتوں کی واپسی کا سرکاری منصوبہ ناکام کیوں ہو رہا ہے؟

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو، سرینگر
’ہماری چھوٹی سی اقلیت کو نوکریوں کے بہانے یہاں بلا کر نئی دہلی نے ہم پر تجربہ کیا تاکہ ایک پروپیگنڈا ہو کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔ مگر اب ہم مارے جا رہے ہیں، اس کے لیے ہم کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں، کیا یہ حکومت کی غلطی نہیں؟‘
کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں کے خلاف یہ ردعمل ہے پنکج کول نامی ایک کشمیری پنڈت شہری کا۔ پنکج کی عمر چھ سال تھی جب سنہ 1990 میں یہاں مسلح شورش شروع ہوتے ہی پنڈتوں کے ہزاروں خاندانوں نے وادی چھوڑ کر جموں اور دوسرے انڈین شہروں میں پناہ لے لی جبکہ کچھ نے اپنی زمین نہیں چھوڑی۔
کشمیری پنڈت کون ہیں؟
کشمیری بولنے والے مقامی ہندوؤں کو وادی میں پنڈت کہتے ہیں۔ یہاں کے پنڈتوں اور مسلمانوں میں وہی فرق ہے جو لاہور کے مسلمانوں اور انڈین پنجاب کے سکھوں یا ہندوؤں کے درمیان ہے۔
کشمیر کے پنڈت اور مسلمان زبان، تمدن، ادب، موسیقی، رہن سہن، کھانا پینا یہاں تک کہ بچوں کے گھریلو اور بڑوں کے نسبی ناموں میں مشترکہ روایات کے حامی ہیں۔
پنکج کول کہتے ہیں کہ ان ہی روایات سے لگاؤ اور مادر وطن کی محبت نے ہزاروں پنڈتوں کو پُرتشدد حالات اور خطروں کے باوجود یہیں زمین سے جوڑے رکھا۔
ایسے 800 پنڈت خاندان ہیں جنھوں نے کشمیر نہیں چھوڑا بلکہ مسلمان پڑوسیوں کے ہمراہ سخت حالات کا سامنا کرتے رہے۔

ترکِ سکونت اور واپسی
سنہ 1990 میں پنڈتوں کی ترکِ سکونت کے بعد سے ہی ایک طرف کشمیر میں مسلح شورش کو دبانے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رہیں اور دوسری طرف نئی دلی کی حکومتیں ہر بار پنڈتوں کو دوبارہ کشمیر میں بسانے کے وعدے کرتی رہیں۔
سنہ 2010 میں اس وقت کے انڈین وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے پنڈتوں کو وادی میں دوبارہ بسانے کے لیے نوکریوں کے خاص پیکج کا اعلان کیا تو ہزاروں کشمیری پنڈتوں نے یہاں کے مختلف سرکاری محکموں میں ملازمت اختیار کر لی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان کے گھر یا تو بک چکے تھے یا ویران اور غیر محفوظ تھے، لہٰذا انھیں حفاظتی حصار والے اپارٹمنٹس میں رکھا گیا۔
سنہ 1997 سے سنہ 2003 تک کئی ایسی پنڈت بستیوں پر مسلح حملے ہوئے جہاں سے پنڈت سنہ 1990 میں نہیں نکلے تھے۔
اس عرصے کے دوران اجتماعی قتل کی تین وارداتوں میں کئی خواتین سمیت 50 کشمیری پنڈت مارے گئے۔
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے 2010 تک 219 کشمیری پنڈتوں کو ہلاک کیا گیا تاہم کشمیری پنڈتوں کی مختلف تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔

ہلاکتوں کا نیا سلسلہ
تاہم سنہ 2010 میں نوکری پیکج شروع ہونے سے سنہ 2019 تک کسی بھی کشمیری پنڈت کو ہلاک نہیں کیا گیا حالانکہ پیکج ملازمین کی بڑی تعداد یہاں مقیم رہی۔
سنہ 2019 میں کشمیر کی خود مختاری کا خاتمہ کر کے جب نریندر مودی کی حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ کشمیر سے علیحدگی پسندی کا خاتمہ ہو گیا اور اب حالات بالکل ٹھیک ہو گئے ہیں تو چند ماہ بعد ہی شہری ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
حالانکہ مسلح افراد کے ہاتھوں مارے گئے شہریوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے تاہم شورش کے دوران یہیں پر رہنے والے دوا فروش مکھن لعل بندرو کو گذشتہ برس اپنی ہی دکان میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور اس سال مئی میں پیکج ملازم راہُل بٹ کو اپنے دفتر میں مسلح افراد نے قتل کر دیا تو انتظامیہ کے خلاف کشمیری پنڈتوں کا غصہ اُبل پڑا۔
بڈگام ضلع کے شیخ پورہ کیمپ میں پنکج کول اپنی بیوی نیرو کے ساتھ رہتے ہیں۔ دونوں میاں بیوی سرکاری نوکری پیکج کے تحت ہی لوٹے تھے۔

’ہم واپس جانا چاہتے ہیں‘
نیرو کہتی ہیں کہ ’میں ایک سال کی تھی جب ہم لوگوں نے کشمیر چھوڑا۔ ’میرے والدین کہتے ہیں کہ رات کے دوران لاوٴڈ سپیکر بجنے لگے کہ چلے جاؤ، پھر ایک ٹرک میں کچھ سامان بھر کے ہم لوگ چلے گئے۔ جموں میں ایک خیمے میں کئی ہفتوں تک رہے، وہاں سانپ اور بچھو بھی تھے۔‘
نیرو کا کہنا ہے کہ انھوں نے نہایت مشکل حالات میں پڑھائی مکمل کی۔ ’ہم ہی جانتے ہیں کہ ہم نے پڑھائی کیسے کی، ہم لال ٹین کے نیچے پڑھتے تھے۔‘
’کسی طرح ہم نے پڑھائی کی تو پیکج کا اعلان ہوا، اب یہاں ہم کام کر رہے ہیں تو حالات ایک بار پھر 1990 جیسے بلکہ اُس سے بھی خراب ہو گئے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو ایسے حالات میں کیسے پالیں، ہم یہاں نہیں رہنا چاہتے۔‘

حالات یہاں تک پہنچے کیسے؟
موہِت بھان بھی دیگر پنڈتوں کی طرح ترک سکونت سے متاثر رہے ہیں لیکن وہ کئی سال قبل کشمیر لوٹے اور یہاں سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی میں شامل ہو گئے۔
مسٹر بھان کہتے ہیں کہ ’بی جے پی سرکار نے سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 ختم کر کے یہ دعویٰ کیا کہ یہ سب انھوں نے کشمیری پنڈتوں کے لیے کیا۔‘
’گویا جو کچھ بی جے پی نے پچھلے تین سال میں کیا اس کے لیے پوسٹر بوائے کشمیری پنڈت کو بنایا گیا۔‘
موہت بھان کے مطابق کشمیر میں روزگار کے وسائل اور سرکاری نوکریوں پر پنجابیوں کے قبضے کے خلاف کشمیری پنڈتوں نے ہی آئین کے آرٹیکل 370 کے نفاذ میں مدد کی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سنہ 1990 میں تو کشمیری پنڈت خوش تھے، پھر ایک بُرا وقت آیا لیکن اُس سے بھی ہم نکل رہے تھے۔ وزیراعظم پیکج کے تحت یہاں آنے والے پنڈت ملازم ایک طرح کا آزمائشی قافلہ تھا، وہ یہاں سکون سے رہ پاتے تو باقی پنڈتوں کے لیے پیغام جاتا کہ واپسی ممکن ہے لیکن کہیں نہ کہیں آرٹیکل 370 کے خاتمے کو کشمیری پنڈتوں کے سر تھوپ کر ماحول خراب کر دیا گیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
کیا اب واپسی ممکن ہے؟
حفاظتی حصار والے ایک کیمپ میں رہنے والے ایک بزرگ پنڈت شہری موہن کرشن کہتے ہیں کہ ’ہم لوگ سرینگر کے وچارناگ صورہ میں رہتے تھے۔ میں وہاں کبھی جاتا ہوں تو مسلمان پڑوسی پھولے نہیں سماتے۔‘
’میں کیا بتاؤں، میں تو چاہتا ہوں میں اُس سرزمین کو چوم لوں جہاں میں رہتا تھا لیکن یہاں حالات ہی ٹھیک نہیں۔ عوام کی اکثریت چاہتی ہے کہ ہم واپس آ جائیں لیکن کیا پتا کون لوگ ہیں، کون کروا رہا ہے۔‘
موہن کرشن کے دونوں بیٹے پیکج ملازمین ہیں۔ کشمیر میں فی الوقت تعینات چار ہزار پیکج ملازمین ہڑتال پر ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ انھیں کشمیر سے باہر کہیں بھی تعینات کیا جائے۔

بیشتر کیمپوں سے بعض خاندان چلے بھی گئے ہیں لیکن حکومت نے کیمپوں پر اضافی فورسز تعینات کر کے انخلا کو روک دیا ہے۔
جونیئر انجینیئر سمیت رازدان بھی کم و بیش ایسے ہی تاثرات رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت کہتی ہے کہ سکیورٹی دیں گے۔ سکیورٹی کا مطلب یہ ہے کہ میں کام پر جاؤں اور مجھے یقین ہو کہ زندہ واپس آ جاؤں گا۔ کیا ایسی سکیورٹی موجودہ حالات میں ممکن ہے جب مجسٹریٹ کے دفتر میں گھس کر بندوق بردار نے ہمارے بھائی کو قتل کر دیا۔‘
سمت کہتے ہیں کہ ’ہم اب بلی کا بکرہ بننے کے لیے تیار نہیں۔‘
نیہا کاچروں نامی ایک اور پنڈت ملازمہ کہتی ہیں کہ ان کا استحصال کیا گیا جس کی وجہ سے سبھی پنڈت شہری حکومت کے خلاف برسرِ احتجاج ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کوئی بھی جماعت ہو، کوئی بھی حکومت ہو، سب نے باری باری ہمارا استحصال کیا۔ یہ کہتے ہیں آ جاؤٴ سب بہتر ہو گیا ہے، یہاں تو سنہ 1990 سے بھی زیادہ خراب حالت ہے۔‘
گذشتہ ماہ پے در پے وارداتوں میں مسلح افراد نے کشمیری پنڈت ملازم راہُل بٹ، مقامی مسلمان خاتون امرینہ بٹ، راجستھان کے رہنے والے بینک منیجر وجے کمار، جموں کی رہنے والی ٹیچر رجنی بالا اور بہار کے ایک مسیحی مزدور دل خوش مسیح کو اُن کے کام کرنے کی جگہوں پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 19 عام شہریوں کو مسلح شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا جن میں دو غیر مسلم کشمیری ہیں، ایک غیر کشمیری بینکار اور ایک بہاری مزدور شامل ہیں۔












