انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہندو شہریوں کی ہلاکتیں، حکومت کا سکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تین ہفتوں کے دوران دو ’مائیگرنٹ ملازمین‘ کے پُراسرار قتل کے بعد اقلیتی پنڈت برادری کے سینکڑوں خاندان خوفزدہ ہیں اور وہ واپس جموں جانا چاہتے ہیں لیکن حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ چھ جون تک ان کی مناسب سکیورٹی کا بندوبست کر دیا جائے گا۔
اس دوران جمعرات کو ضلع کولگام میں راجھستان سے تعلق رکھنے والے ایک بینک مینجر کو بھی مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔
ایسے وقت میں جب کشمیر میں دو سال بعد لاکھوں سیاح موجود ہیں اور چند ہفتوں میں ہی امرناتھ گھپا کی یاترا بھی شروع ہو رہی ہے، جس میں انڈیا بھر سے لاکھوں یاتری شرکت کرنے والے ہیں، غیر مسلم شہریوں کی ہلاکتوں سے سکیورٹی صورتحال نہایت کشیدہ ہے۔
انڈین وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو فون کر کے حالات کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 1990 میں کشمیر میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی کئی ہندو پنڈتوں کی ہلاکتوں کے بعد ہزاروں پنڈت خاندانوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر جموں اور انڈیا کے دوسرے شہروں میں پناہ لی تھی۔
انڈیا کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے سنہ 2012 میں دوبارہ آباد کاری کے پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اُن پنڈت خاندانوں کو کشمیر میں نوکری دی گئی جو واپس لوٹنا چاہتے تھے۔
اس پیکیج کے تحت کم از کم پانچ ہزار کشمیری پنڈت دس سال قبل لوٹ کر سرکاری دفاتر میں کام کرنے لگے۔ یہ سبھی خاندان حکومت کی طرف سے بنائے گئے محفوظ اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں۔
گزشتہ تین ہفتوں کے دوران بڈگام اور کولگام میں دو وارداتیں ہوئی ہیں۔ پہلے چاڈورہ کے تحصیل دفتر میں مسلح افراد نے راہُل بٹ نامی ملازم کو ہلاک کر دیا اور اس کے بعد کولگام کے سکول میں جموں کی رہنے والی رجنی بالا نامی خاتون کا قتل کیا گیا۔
’ہمارے لوگوں کو قتل کیا جائے تو ہم خود کو محفوظ کیسے سمجھیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سنہ 2019 میں کشمیر کی خود مختاری ختم کی گئی تو مودی حکومت نے دعویٰ کیا کہ حالات اب بہتر ہوں گے اور ساتھ ہی کشمیری پنڈتوں کو بھی یقین دلایا گیا کہ اب وہ یہاں محفوظ ہوں گے لیکن پچھلے دو سال سے یہاں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور کئی کشمیری پنڈت مارے گئے ہیں۔
پنڈتوں کے 800 خاندان ایسے بھی ہیں جنھوں نے سنہ 1990 میں اپنا گھر نہیں چھوڑا تھا اور وہ تین دہائیوں سے کشمیر میں ہی ہیں۔
پچھلے سال ایسے ہی ایک معروف دوا فروش مکھن لال بِندرو کو اُن کی میڈیکل سٹور پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم پیکیج کے علاوہ جموں میں شیڈول ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندو شہریوں کے لیے کشمیر میں آٹھ فیصد نوکریاں محفوظ کی گئی ہیں۔
پچھلے سال ایسے ہی ایک واقعے میں مقامی سِکھ خاتون سُپِندر کور اور جموں کے ہی دیپک چند مارے گئ تھےے۔ دیپک بھی رجنی بالا کی طرح شیڈول ذاتوں کی کیٹیگری میں یہاں نوکری کرتے تھے۔
یاد رہے سِکھ آبادی نے کشمیر نہیں چھوڑا تاہم مارچ سنہ 2000 میں اننت ناگ کے چھِٹی سنگھ پورہ میں 35 سِکھ شہریوں کو مسلح افراد نے ہلاک کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
تازہ ہلاکتوں کے خلاف پیکیج ملازمین میں غم و غصہ ہے اور انھوں نے کئی روز تک حکومت کے خلاف احتجاج بھی کیا۔
ان ملازمین کی یونین کے ایک رہنما اشونی پنڈِتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہاں یہ سچ ہے کہ ہم لوگ واپس جانا چاہتے تھے۔ جب ہمارے لوگ مارے جا رہے ہوں تو ہم کیا کریں لیکن اب حکومت نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ چھ جون تک ہماری سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا‘۔
تاہم بعض خاندان کشمیر سے نکل گئے ہیں۔
ان خاندانوں کے بعض افراد نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگ ماتا ویشنو دیوی کی یاترا کے لیے نکلے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ہم بہت خوفزدہ ہیں کیونکہ دفتروں میں گھُس کر ہمارے لوگوں کو قتل کیا جائے، تو ہم خود کو محفوظ کیسے سمجھیں۔‘
اس دوران بڈگام، بارہمولہ اور اننت ناگ میں قائم ایسے کئی کیمپوں سے پنڈت ملازمین نے بتایا کہ حکومت نے کیمپوں کے داخلی راستے پر سکیورٹی تعینات کردی ہے اور کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں۔
اشونی پنڈِتا کہتے ہیں کہ ’ہم دیکھتے ہیں کہ اتوار کو حکومت کیا کرے گی۔ ہم زبردستی نہیں جائیں گے۔‘
پنڈتوں کی واپسی سیاسی نعرہ

،تصویر کا ذریعہEPA
قابل ذکر ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا معاملہ انڈیا کی سبھی حکومتوں کی ترجیح رہا ہے تاہم بی جے پی نے اسے انتخابی مدعا بھی بنایا اور اعلان کیا کہ کشمیری پنڈتوں کو دوبارہ کشمیر میں بسایا جائے گا۔
نوکریوں کا پیکیج اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا لیکن پیکیج کے تحت یہاں لوٹنے والے پنڈت ملازمین کو عدم تحفظ کا سامنا ہے۔
اپنی بیوی کے ساتھ دس سال قبل نوکری کے لیے لوٹنے والے پنکج کول کہتے ہیں کہ ’ہمیں بتایا گیا سب ٹھیک ہو گیا ہے اور ہم واپس آ گئے لیکن پچھلے دو سال سے حالات سنہ 1990 سے بدتر ہیں۔ کیمپ میں رہنا تو ٹھیک لیکن ہمیں دفتر بھی جانا ہے، دکان پر جانا ہے، بچوں کو سکول بھیجنا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سب کیسے ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
جموں کشمیر کی وزارت باز آباد کاری کے مطابق سنہ 1989 سے 2010 تک 219 کشمیری پنڈت شہریوں کو ہلاک کیا گیا تاہم کشمیری پنڈتوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔
اجتماعی قتل کی تین وارداتیں 1997 سے 2003 تک رونما ہوئیں۔ سنہ 1997 میں بڈگام کے سنگرام پورہ میں 8، گاندربل کے وندہامہ میں 23 اور پلوامہ کے نادی مرگ میں 23 کشمیری پنڈتوں کو اسلحہ برداروں نے ہلاک کر دیا۔
گزشتہ ماہ انڈین پارلیمنٹ میں مودی حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ پچھلے پانچ برس کے دوران اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے 34 افراد کو عسکریت پسندوں نے ہلاک کر دیا۔
سنہ 2019 سے اب تک 16 غیر مسلموں کو کشمیر میں قتل کیا گیا ہے جن میں پانچ کشمیری پنڈت تھے۔







