کشمیری اداکارہ امرینہ بھٹ کا گھر میں قتل: ’وہ مقبول تھی اور ہر کوئی اسے جانتا تھا‘

امرینہ بھٹ، کشمیر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سوشل میڈیا پر ہزاروں فالوورز رکھنے والی ٹیلی ویژن اداکارہ اور گلوکارہ امرینہ بھٹ کے قتل نے وادی میں مزید صدمے اور بے اعتمادی کو جنم دیا ہے۔ فری لانس فوٹو جرنلسٹ عابد بھٹ (امرینہ سے کوئی تعلق نہیں) نے امرینہ کے خاندان کے افراد سے ملاقات کی جو اس صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

25 مئی کی شام امرینہ کے بہنوئی زبیر احمد شیخ کشمیر کے ضلع بڈگام کی ایک مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ انھوں نے گولیوں کی آوازیں سنیں، اس کے بعد انھیں چیخوں کی آوازیں سنائی دیں۔

وہ تیزی سے باہر نکلے اور قریب میں ہی واقع اپنے گھر گئے جہاں انھوں نے 30 سالہ امرینہ کو خون میں لت پت دیکھا۔

وہ امرینہ کے کمرے کی دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہر طرف خون ہی خون تھا۔‘

امرینہ کا 11 سالہ بھتیجا فرحان اس واقعے کے وقت ان کے ساتھ تھا۔

فرحان نے بتایا کہ دو افراد نے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے مدعو کرنے کے بہانے امرینہ سے رابطہ کیا تھا لیکن جب انھوں نے ان سے سوالات کیے تو انھوں نے بندوق نکال لی اور گولی چلا دی۔

جب وہ اندر بھاگیں تو ایک آدمی نے ان کا پیچھا کیا اور انھیں دوبارہ گولی ماری۔ ایک گولی فرحان کے بازو پر بھی لگی۔

گھر والوں کو امرینہ اور فرحان کو ہسپتال پہنچانے کے لیے گاڑی تلاش کرنی پڑی۔ جب تک وہ ہسپتال پہنچتے امرینہ ہلاک ہو چکی تھیں۔ فرحان کو بعد میں ڈسچارج کر دیا گیا۔

امرینہ کا قتل کئی دہائیوں سے لڑائی اور تشدد میں گھرے کشمیر میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

امرینہ بھٹ، کشمیر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

انڈیا اور پاکستان دونوں اس پورے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دونوں اس کے صرف کچھ حصوں پر ہی کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس خطہ نے سنہ 1989 سے دہلی کی حکمرانی کے خلاف پرتشدد شورش بھی دیکھی ہے۔

امرینہ پر حملے سے چند روز قبل اقلیتی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم کو عسکریت پسندوں نے ضلع بڈگام میں ان کے دفتر میں ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اسی ہفتے ایک خاتون سرکاری سکول ٹیچر کو قتل کر دیا گیا تھا اور اس واقعے کو ایک سابق وزیر اعلیٰ نے ’قابل نفرت ٹارگٹڈ حملہ‘ قرار دیا تھا۔

امرینہ کی موت کے دو دن بعد کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ان کے قاتلوں کو مار ڈالا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ دو افراد تھے اور انھوں نے حال ہی میں عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر انڈیا کی سرزمین پر کئی حملوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔

امرینہ کو کیوں نشانہ بنایا گیا، پولیس نے ابھی تک اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ان کے والد خضر محمد بھٹ کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کی بیٹی پر حملہ کیوں کیا گیا۔ امرینہ اس خاندان کی کفالت میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ خاندان اب ان کے ’بے معنی‘ قتل پر صبر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی مستقبل کے بارے میں فکر مند بھی ہے۔

خضر بھٹ کا کہنا ہے کہ وہ ابتدا میں اپنی بیٹی کے گانے کے خلاف تھے کیوں کہ امرینہ نے موسیقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے نوعمری میں ہی سکول چھوڑ دیا تھا۔ لیکن سنہ 2008 میں اپنی بیوی کی وفات کے بعد ان کی سوچ بدل گئی۔

’میری بیوی نے مجھے کہا تھا کہ میری مخالفت کی وجہ سے امرینہ کو تکلیف ہوئی ہے اور ہمیں اسے اس کے شوق کو پورا کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔‘

یہ بتاتے ہوئے ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔

امرینہ نے اپنے خاندان کی حمایت سے مقامی سطح کے کیبل چینلز کے ساتھ کام کرنا شروع کیا لیکن ان کی مقبولیت اس وقت تک محدود رہی جب تک انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرنی شروع نہیں کیں۔

امرینہ بھٹ، کشمیر

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat

جب ان کی موت ہوئی تو انسٹاگرام پر ان کے 25,000 سے زیادہ فالوورز تھے۔

اس پلیٹ فارم پر وہ فلموں کے گانوں اور مکالموں کے ساتھ اپنی لِپ سِنگنگ (بولوں پر ہونٹ ہلانے کی اداکاری کرنے) کی ویڈیوز اپ لوڈ کرتی تھیں۔ ان کا پروفائل ان کی موت کی خبر بریک ہونے کے بعد تعزیتی پیغامات سے بھر گیا تھا۔ اب ان کا پروفائل ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

یوٹیوب پر جہاں وہ مختصر خاکے اپ لوڈ کرتی تھیں اس پر سوموار تک امرینہ کے 19,000 سے زیادہ سبسکرائبرز تھے۔ ان کی ویڈیوز کے نیچے بہت سے تبصرے ملتے ہیں جن میں کشمیر میں بجلی کی قلت جیسے مسائل پر ہلکے پھلکے بیانات شامل تھے۔ لوگ ان کی اداکاری اور موضوعات کے انتخاب کی تعریف کرتے تھے۔

امرینہ کے والد کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈیا کے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ جیسے سرکاری پروگراموں میں بھی شرکت کی تھی۔ ان کے کمرے میں کئی ایوارڈ رکھے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ مقبول تھی اور ہر کوئی اسے جانتا تھا۔‘ اس کے ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ مختلف پارٹیوں کے سیاستدان ان کے خاندان سے تعزیت کے لیے پہنچے ہیں۔

کشمیر کے بیشتر ٹیلی ویژن فنکاروں کی طرح امرینہ کو بھی اداکاری کا کام حاصل کرنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جبکہ ریاستی نشریاتی ادارہ دوردرشن اب انٹرٹینمینٹ کا قابل بھروسہ ذریعہ نہیں رہا۔

ایک تجربہ کار مقامی اداکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اداکاری کے مواقع گذشتہ چند برسوں میں بہت کم ہو گئے ہیں۔ سنہ 2019 میں کشمیر کو خودمختاری دینے والی آئین کی شق 370 کی منسوخی کے بعد سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

اس وقت حکومت نے نقل و حرکت اور مواصلات پر بھی سخت پابندیاں عائد کی تھیں جو مہینوں تک جاری رہیں۔ اس کے بعد کووڈ 19 کی وجہ سے لاک ڈاؤن لگ گیا جس نے معاشی سرگرمیوں کو مزید ختم کر دیا۔

شاید یہی وجہ تھی جس کی وجہ سے امرینہ نے اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کیا۔

فرحان کے ہاتھوں پر ابھی تک پلاسٹر لگا ہے۔ اس کے لیے امرینہ ایک پیاری خالہ تھیں جو ان کے سکول کی فیس ادا کرتیں، اسے کپڑے خرید کر دیتیں اور اسے گیم کھیلنے کے لیے اپنا موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دیتی تھیں۔

فرحان نے بتایا کہ ’انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اگلے سال مجھے ایک کمپیوٹر خرید کر دیں گی۔‘