انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر: ’سرحدوں پر امن لیکن شہروں میں تشدد‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو سروس، سرینگر
کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں ایسے وقت اضافہ ہو رہا ہے جب دو سال بعد تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سیاحت بھی بحال ہو رہی ہے۔ حکومت کے مطابق صرف مارچ میں تقریباً دو لاکھ سیاحوں نے کشمیر کی سیر کرکے دس سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ باغ، باغیچوں اور سکولوں، کالجوں میں چہل پہل اور گہما گہمی کے بیچ اس سال کشمیر میں سرکاری فورسز، سیاسی افراد، غیر مقامی مزدوروں اور اقلیتی فرقے سے وابستہ شہریوں پر حملے بھی ہوئے ہیں۔
یکم مارچ کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے صرف ایک ہفتے بعد سرینگر کے ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں مسلح افراد نے فورسز پر ایک گرینیڈ داغا جو لوگوں سے کچھا کھچ بھرے بازار میں پھٹ گیا۔ درجنوں زخمی افراد میں سے 18 سالہ طالبہ اور ایک عمر رسیدہ شہری ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ سیاحت اور تجارتی منصوبوں کے اعلانات کے باوجود مارچ کے مہینے میں ہلاکتوں اور پرتشدد وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پولیس کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں دو درجن افراد تشدد کی مختلف وارداتوں میں ہلاک ہوئے، ان میں تین پنچایت کے اراکین، چار شہری، دو پولیس اہلکار، ایک فوجی اور ایک نیم فوجی اہلکار کے علاوہ 13 مسلح عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔
تاہم سیاحت کی دُھوم کے درمیان پولیس اور فوجی حکام نے اعتراف کیا کہ دہائیوں بعد پہلی مرتبہ کشمیر میں سرگرم مسلح نوجوانوں کی تعداد 200 سے کم ہے۔ پولیس کے سربراہ برائے کشمیر زون وِجے کمار نے ایک بیان میں کہا کہ ’بعض لوگوں کی قیاس آرائیوں کے برعکس کشمیر میں مسلح تشدد میں کمی آرہی ہے۔‘ اس سے قبل بھارتی وزیرداخلہ امت شاہ جموں میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران اعلان کرچکے ہیں کہ مسلح تشدد کے خلاف حکومت کو ’فیصلہ کُن برتری‘ حاصل ہوئی ہے، تاہم بعد میں جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے جموں میں ہی ایک اور تقریب پر بولتے ہوئے کہا: ’مسلح عسکریت پسندی زوال پذیر ہے، مگر عسکریت پسند اب بھی سرگرم ہیں۔‘
مارچ میں ہی لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ دیگر بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں کے اجلاس کی سرینگر میں میزبانی کی۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ کشمیر میں 20 ہزار کروڑ سے زیادہ مالیت کی سرمایہ کاری سے متعلق تجاویز موصول ہو چکی ہیں۔ تاہم مارچ میں جموں کشمیر کے دارالحکومت سرینگر، جسے چند سال پہلے ’ملی ٹینسی فری‘ یعنی مسلح تشدد سے پاک قرار دیا جارہا تھا، خوف کی گرفت میں آ گیا۔
سرینگر کے کئی علاقوں میں مسلح حملے ہوئے جن میں پولیس کے بعض اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔ تازہ حملہ گزشتہ پیر کو وادی کے تجارتی مرکز لالچوک میں واقع ایک مندر کی حفاظت پر مامور نیم فوجی اہلکاروں پر ہوا جس میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب لالچوک میں واقع سبھی ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں سیاح کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔
اقلیتیں پھر غیر محفوظ
پیر کی رات کو ہی شوپیان کے چھوٹی گام علاقے میں میڈیکل شاپ چلانے والے سونو کمار بٹ عرف بال جی کو مسلح افراد نے گولی مار کر زخمی کر دیا جس کے بعد انھیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ سونو کمار ایک کشمیری پنڈت ہیں اور اُن سینکڑوں پنڈت خاندانوں میں سے ایک کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے 1990 میں کشمیر نہیں چھوڑا جبکہ ہزاروں دیگر خاندان وادی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اقلیتی پنڈت اور سکھ فرقوں سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں پر گزشتہ برس اکتوبر میں ہوئے کئی حملوں کے بعد پہلی مرتبہ کسی پنڈت شہری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل اتوار کی شام پلوامہ کے ترال اور پنچورہ علاقوں میں ایسی ہی دو الگ الگ وارداتیں ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سونُو کمار کے گھر پر کشمیری مسلمانوں کی بڑی تعداد دو دن سے لگاتار تعزیت کے لیے آ رہی ہے تاہم پنڈت خاندانوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سیکورٹی حصار میں رہنے والے واپس لوٹے ایک پنڈت شہری نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: ’ایسے واقعات سے میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔ ابھی لگتا ہے کہ کشمیر میں سب ٹھیک ہے، پھر ایک ہلاکت ہوتی ہے اور ساری اُمیدیں ختم ہو جاتی ہیں۔‘
انسدادی کارروائیاں

،تصویر کا ذریعہHindustan Times/Getty Images
دو سال قبل کشمیر کی آئینی خود مختاری کے خاتمے کو حکومت ہند نے مسئلہ کشمیر کا مستقل حل قرار دیا تھا۔ مقامی آئین کو معطل کرکے لداخ کو علیٰحدہ کیا گیا اور جموں کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دیا گیا۔ سبھی مرکزی قوانین کا نفاذ عمل میں آیا اور مسلح تشدد یا اسے جواز بخشنے والے کسی بھی سماجی یا سیاسی ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں کا عمل تیز کیا گیا۔ اسی پالیسی کے تحت علیحدگی پسندوں کی تقریباً ساری قیادت جیل میں ہے اور ایسے ہند نواز سیاستدانوں کو بھی قید کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ ہند مخالف علیحدگی پسندی کے نظریہ کی حمایت یا اعانت کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیئے
مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف وسیع آپریشن لانچ کیا گیا۔ بھارت کی وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ کے حالیہ بجٹ اجلاس میں انکشاف کیا کہ اس آپریشن میں گزشتہ دو برس کے دوران 100 سے زیادہ فورسز کے اہلکار مارے گئے جبکہ 220 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ وادی میں عسکریت پسندوں کی متعدد ہلاکتوں کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر بھی 2020 اور 2021 کے دوران 96 مسلح درانداز مارے گئے۔ یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران خطرناک قانون یو اے پی اے کے تحت750 افراد گرفتار کیے گئے۔
بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ تقریر پر بحث کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس 32 غیرملکیوں (پاکستانیوں) اور 42 اعلیٰ کمانڈروں سمیت 180 عسکریت پسند مارے گئے۔ اس صورتحال کو قیام امن کی کاوشوں کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم جموں کشمیر کی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کے مطابق رواں سال کے گزشتہ تین ماہ کے دوران 42 مسلح عسکریت پسند مختلف آپریشنوں میں مارے گئے ہیں۔
سرحدوں پر امن
کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی عبوری سرحد ’لائن آف کنٹرول‘ یا ایل او سی کو امریکی اور یورپی ماہرین نے ’نیوکلیر فلیش پوائنٹ‘ کا نام دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ دنیا کی نہایت خطرناک سرحد ہے جہاں ہر دم مخالف افواج حالت جنگ میں ہوتی ہیں۔ بھارت کا الزام رہا ہے کہ پاکستان کشمیری نوجوانوں یا پاکستانیوں کو مسلح کرکے اسی سرحد کے ذریعہ بھارتی کنٹرول والے کشمیر میں داخل کر کے ہندمخالف تحریب کاری کرواتا ہے، جبکہ پاکستان کا روایتی موقف ہے کہ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے لیے مزاحمت کر رہے ہیں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو اپنا ہی وطن سمجھتے ہیں۔
بھارتی فوج اور دفاعی ماہرین نےا عتراف کیا ہے کہ ایل او سی پر ماضی کے مقابلے میں امن ہے اور سرحدی آبادیوں نے بھی راحت کا سانس لیا ہے۔ اس بات کا اعتراف خود حکومت ہند اور بھارتی فوجی قیادت کر چکی ہے۔ داخلی امور کے نائب وزراٴ نیتیا نند رائے اور نِتیش پرمائیک نے بھارتی پارلیمنٹ میں اعتراف کیا کہ 2018 میں مسلح دراندازی کی 417 وارداتیں رونما ہوئیں جبکہ 2021 میں تین سالہ مدّت کے دوران سب سے کم یعنی صرف 34 وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔
سب ٹھیک ہے تو تشدّد کیوں بڑھ رہا ہے؟
کشمیر کے انسپکٹر جنرل وِجے کمار کہتے ہیں کہ اب وہی نوجوان ہتھیار اُٹھاتے ہیں جن کے خاندان میں پتھراوٴ کی تاریخ ہو اور جو سوشل میڈیا سے متاثر ہوکر انتہاپسندی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسروں نے اس الزام کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان یہاں کے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ ہندمخالف سرگرمیوں کے لیے اُکسا رہا ہے۔ پولیس نے حالیہ دنوں یہ اعلان بھی کیا کہ اپنی مرضی سے اور بغیر کسی دباوٴ کے اگر کوئی مسلح افراد کو گھر میں پناہ دے گا تو اُس کا گھر قُرق یعنی سرکاری طور ضبط کیا جائے گا۔
مبصرین اس بات پر حیران ہیں کہ اگر سرحدوں پر امن قائم کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان نے ایک میکانزم اپنایا اور جنگ بندی کو کامیاب بنایا تو شہروں میں تشدد کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ کیوں نہیں ہو سکتا۔ بے شمار سرکاری قدغنوں کی وجہ سے کشمیر میں سیاسی مبصرین یا تجزیہ نگار ایسے معاملات میں رائے زنی کرنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم معروف انگریزی روزنامہ ’کشمیر اوبزرور‘ نے28 مارچ کو اپنے اداریے میں لکھا : ’عسکریت پسندوں کو مارنے، یا اُن کے سرینڈر کرنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ اس بحران کے پس پردہ محرکات کا ازالہ ہی حالات کو بہتر بنا سکتا ہے۔‘











