کشمیر: لائن آف کنٹرول پر طویل مسلح جھڑپ، ہلاکتوں کے بعد جموں کشمیر میں خوف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے قریب پونچھ اور راجوری اضلاع میں جاری طویل مسلح جھڑپ اور وادی کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے بعد علاقے میں خوف کی فضا ہے۔
پولیس کے مطابق اس برس اکتوبر کے وسط تک مسلح افراد کے ہاتھوں 31 افراد قتل ہو چکے ہیں جن میں نصف درجن غیر کشمیری مزدور، چار کشمیری پنڈت، ایک سکھ خاتون ٹیچر اور 20 مقامی مسلمان شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مسلح جھڑپوں کے مقامات پر خاتون سمیت دو شہری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
وادی میں تشدد کی لہر اور سرحد پر تناوٴ کے بعد انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعتوں اور مقامی سیاسی حلقوں نے انڈین حکومت پر یہ کہہ کر نکتہ چینی شروع کر دی ہے کہ کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔
انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان ارِندم باگچی نے تشدد کی سطح میں اضافے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں پاکستان کی طرف سے کراس بارڈر دہشت گردی کے بارے میں تشویش ہے۔‘
جموں صوبے کے پونچھ اور راجوری اضلاع میں اس سرحد کے قریبی علاقے بھمبر گلی، ڈیرا کی گلی، بھٹ دُوریاں اور چمریال سیکٹروں میں گزشتہ دس روز سے انڈین فوج اور نیم فوجی دستے اُن عسکریت پسندوں کی تلاش میں ہیں جنھوں نے دو لگاتار حملوں میں دو افسروں سمیت انڈین فوج کے 9 جوانوں کو ہلاک کر دیا۔ تاہم راجوری و پونچھ رینج کے ڈی آئی جی وِویک گُپتا نے تصدیق کی ہے کہ ابھی تک مسلح حملہ آوروں کے ساتھ فوج کا سامنا نہیں ہوا۔
فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ماہ قبل پاکستانی زیر انتظام خطے سے تقریباً دس مسلح عسکریت پسندوں نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں بعض مقامی لوگوں نے نقل و حمل میں ان کی مدد کی۔ اس سلسلے میں ایک خاتون سمیت کئی مقامی شہریوں کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لائن آف کنٹرول سے ملحقہ راجوری اور پونچھ کے وسیع علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور دونوں اضلاع سے جموں کی طرف جانے والی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہے۔
جموں میں مقیم انڈین فوج کی سولہویں کور کے ترجمان لیفٹنٹ کرنل آنند نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں کے بعد اب فوج عسکریت پسندوں سے لڑ رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ہے کہ ’ابھی تک کوئی بھی آمنے سامنے لڑائی نہیں ہوئی کیونکہ یہ بہت پیچیدہ آپریشن ہے اور سرحد کے قریب نہایت گھنے جنگلات میں ہو رہا ہے۔‘
واردات کی جگہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی خبروں کے بارے میں کرنل آنند کا کہنا تھا کہ ’اس کو ہم تفتیشی فائر (Probing Fire) کہتے ہیں یعنی ہم مشتبہ مقامات پر فائرنگ کرتے رہتے ہیں تاکہ وہاں سے کوئی ردعمل ہو اور دہشت گردوں کا سامنا ہو سکے۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کی مدد سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے اور سرحد کے قریب میدانوں سے مویشیوں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ سترہ برس میں یہ اس علاقے میں مشکل ترین تصادم ہے۔
راجوری اور پونچھ کے سرحدی اضلاع میں جاری اس وسیع آپریشن سے مقامی تجارت اور زرعی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
پونچھ کے رہنے والے محمد جبار نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’فائر بندی پر جب سے دوبارہ عمل ہوا تھا ہماری زندگی آسان ہو گئی تھی۔ اب تو سرحد کے قریب بھی کھیتی باڑی کا کام ہو رہا تھا، اس واقعہ نے ہمیں دوبارہ خوفزدہ کر دیا ہے۔‘
پونچھ کی ’ناڈ گلی‘ جہاں یہ ہلاکت خیز جھڑپیں ہوئی ہیں، کے رہنے والے محمد انصار نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’مسجدوں سے اعلان کیا گیا کہ لوگ مویشیوں کو واپس لائیں، کھیتوں سے چلے جائیں اور گھروں میں بیٹھے رہیں لیکن یہ فصل کاٹنے کا موسم ہے، ہمارا بہت نقصان ہو رہا ہے۔ ہر دن گولہ باری ہورہی ہے اور ڈرون کی مدد سے مشتبہ جنگلاتی علاقے میں بم بھی گرائے جارہے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جنگ ہو رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کشمیر کو دونوں ملکوں میں تقسیم کرنے والی عبوری سرحد لائن آف کنٹرول پر گزشتہ کئی برس سے انڈیا اور پاکستانی افواج کے درمیان کشیدگی جاری تھی تاہم اس سال فروری میں دونوں ملکوں نے 2003 میں ہوئے سیز فائر معاہدے پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کر لیا۔
چند ماہ قبل انڈین فوجی قیادت نے اعتراف کیا کہ فروری سے مسلح دراندازی کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا تاہم راجوری اور پونچھ کے اضلاع میں عبوری سرحد کے قریب واقع وسیع اور گھنے جنگلات میں جاری تازہ آپریشن نے عبوری سرحد کے قریب آباد لاکھوں لوگوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔
اس دوران آپریشن کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے پونچھ اور راجوری سے جموں کی طرف جانے والی شاہراہوں پر ٹریفک کو معطل کر دیا تھا اور تلاشی مہم جنگلاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ آبادی والے علاقوں میں بھی جاری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر کے اندر بھی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف جھڑپوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کئی علاقوں میں آپریشن کے دوران 14 مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ تازہ جھڑپ ہفتے کو جنوبی کشمیر کے پام پورا علاقے میں ہوئی جہاں اُس رہائشی مکان کو بارود سےاُڑا دیا گیا جس میں مبینہ عسکریت پسند محصور تھے۔ بدھ کو جنوبی قصبہ شوپیان میں ہونے والے تصادم میں دو مبینہ عسکریت پسند اور ایک فوجی ہلاک ہو گئے۔
سرحدوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے شہروں اور قصبوں میں بھی تشدد کے واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتیں، اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد اور غیر کشمیری مزدور یا دکانداروں کے قتل کی وارداتوں سے پورے جموں کشمیر میں صورتحال نہایت مخدوش ہے۔

،تصویر کا ذریعہANI
اقلیتی فرقے کے افراد کی ہلاکتوں کے بعد سینکڑوں متشبہ افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن ہفتے کی شام مزید دو غیر کشمیریوں ہلاک کر دیے گئے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پونچھ اور راجوری فوج کی وسیع تعیناتی کی وجہ سے چھاؤنیاں معلوم ہوتی ہیں اور وہاں کی مقامی آبادی مسلح عسکریت پسندوں کی حمایت نہیں کرتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ گرفتار کیے گئے مقامی شہریوں کے بارے میں پولیس اور فوج کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انھوں نے حملہ آوروں کی مدد اپنی رضامندی سے کی تھی یا انھیں اس پر مجبور کیا گیا تھا۔‘
اس دوران انڈین فوج کے سربراہ جنرل ایم ایم نروانے منگل کو ہی پونچھ پہنچ گئے تھے جہاں انھوں نے فوجی افسروں کے ساتھ گفتگو کی۔ خطے میں سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے انڈین وزیرداخلہ امیت شاہ ہفتے کو جموں کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے 5 اگست 2019 کے روز انڈین پارلیمنٹ میں جموں کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کا اعلان کرنے کے بعد امیت شاہ پہلی مرتبہ کشمیر آرہے ہیں۔











