لائن آف کنٹرول پر کشیدگی: ’مودی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت والے آرٹیکل 35 اے سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے‘

کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور انڈین افواج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
پاکستانی افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق سیز فائر کی خلاف ورزی انڈین افواج کی کشمیر میں ناکامی پر مایوسی کو ظاہر کرتی ہے۔
ترجمان کے مطابق ’اس خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دیا جائے گا۔ پاکستانی فوج انڈین فائرنگ سے لائن آف کنٹرول کے قریب بسنے والے نہتے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
مزید پڑھیے
مقامی صحافی ایم اے زیب کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام نے انڈین فوج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے منگل اور بدھ کے روز وادیِ نیلم و لیپہ میں لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور بچے سمیت تین افراد ہلاک جبکہ 39 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعد ازاں ملنے والی خبروں کے مطابق دودھنیال نیلم ویلی کا زخمی ہونے والا ایک بارہ برس کا بچہ چل بسا۔ اس طرح لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہوگی ہے جن میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں اور مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ ہوگی
حکام کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے گڑھی دوپٹہ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے دو افراد ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوگے ہیں۔
ان کے مطابق منگل اور بدھ کے روز ان واقعات میں کل پانچ افراد ہلاک جبکہ 42 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ کے جواب میں پاکستان کی فوج نے بھرپور کارروائی کی ہے۔
حکام کے مطابق بھارتی فوج نے گذشتہ روز مسلسل دو گھنٹے بڑے اور چھوٹے ہتھیاروں کے ذریعے لائن آف کنٹرول سے متصل متعدد ایسے علاقوں کو آبادی کو نشانہ بنایا جہاں پہلی مرتبہ بھارتی فوج نے گولے داغے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوردراز کے علاقے نشانے پر کیوں؟
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اعلی حکام سے جب اس متعلق معلوم کیا گیا کہ آخر بھارتی فوج نے پہلی مرتبہ دور دراز علاقوں کو کیوں نشانہ بنایا ہے، تو انھوں نے اس بارے میں مزید بات کرنے سے گریز کیا۔
لیپہ پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق منگل کے روز انڈین فوج نے بڑے اور چھوٹے ہتھیاروں سے کئی گھنٹے تک فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی اور 12 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
اس خطے میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے سٹیٹ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گذشتہ روز مظفرآباد کے نواحی علاقے گڑھی دوپٹہ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے دو افراد ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ان کے مطابق زخمیوں کو شیخ خلیفہ بن زید اسپتال میں منتقل کر دیا ہے جس میں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اعلی حکام سے بھی سوال کیا گیا کہ آخر انڈین فوج نے پہلی مرتبہ ایل او سی سے دور دراز علاقوں کو کیوں نشانہ بنایا۔
جواب میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈین فوج کے اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے انڈین وزیر اعظم مودی کی حکومت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت والے آرٹیکل 35 اے کو تبدیل کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف عوام کی توجہ اس مسئلے سے ہٹانا چاہتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہajk.gov.pk
وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے مزید کہا کہ انڈین حکومت وادی میں کشمیریوں کی آبادی کو کم کرنے کی سوچ کے تحت آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنا چاہتی ہے اور اسی مقصد کے لیے وہ لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کر کے پاکستان کو ایک طرف یہ باور کروانا چاہتا ہے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ دنیا کی آنکھوں دھول جھونک کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے اندرون کشمیر امن ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کی دوسری اہم وجہ امریکی صدر ٹرمپ کی مسلئہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا حال ہی میں دیا گیا وہ بیان ہے جو انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران دیا تھا۔
وادیِ نیلم کے حکام کا موقف
ڈپٹی کمشنر ضلع نیلم راجہ شاہد محمود کے مطابق بھارتی فوج نے منگل اور بدھ کے روز وادی نیلم کے تاوبٹ سے لیکر نوسیری تک مختلف علاقوں میں سِول آبادی پر وقفے وقفے سے فائرنگ اور گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک جبکہ 22 افراد زخمی ہوگے۔
ان کے مطابق گذشتہ روز بھارتی فوج نے دن دو بجے سے لیکر چار بجے تک مسلسل دو گھنٹے وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں گولہ باری و فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جس سے دو افراد ہلاک اور12 افراد زخمی جبکہ متعدد مکانات کے تباہ اور جل جانے کی اطلاعات بھی ہیں جس کی تفصیلات محکمہ مال کے اہلکار اکٹھی کر رہے ہیں۔

راجہ شاہد کے مطابق بدھ کے روز بھی بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر چلہانہ سیکٹر میں ایک مکان پر گولہ داغہ جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دس افراد زخمی ہوگئے۔
وادی نیلم کے گیٹ وے تحصیل پٹہکہ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد نزاکت کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے داغے جانے والے گولے نوسیری، دیولیاں سے ملحقہ علاقوں کے علاوہ نیلم و جہلم پن بجلی منصوبہ کے لیے بنائے جانے والے نوسیری ڈیم کے قریب بھی لگے ہیں۔
ان کے مطابق ڈیم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ مختلف علاقوں میں دس کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں متعدد مکانات کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق پن بجلی منصوبہ پر تعینات چین کی کمپنی کے اہلکاروں کو گذشتہ روز ہی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
عینی شاہدین کیا کہتے ہیں؟
65 برس کے محمد زمان کا تعلق دیولیاں کے ایک گاوں سے ہے جو لائن آف کنٹرول سے تقریباً پندرہ کلو میٹر دور ہے انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 1970 کے بعد پہلی مرتبہ آج کوئی گولہ ادھر ہِٹ ہوا ہے. اس سے قبل کبھی بھی بھارتی فوج نے اس علاقے کو ہٹ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ کولہ گاوں میں ایک، ست برگہ گاؤں میں دو جبکہ چلہان گاؤں کے سامنے دو گولے ہٹ ہوئے جو مجھے نظر آئے اور میں نے دیکھا ہے گولے اس سے بھی آگے گے ہیں۔
اس علاقے میں زخمی کوئی نہیں ہوا اور کسی قسم کے نقصان ہونے کی اطلاع بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب گولے ہٹ ہوئے تو یہاں لوگوں میں خوف ہو ہراس پھیل گیا اور بچے اور عورتیں گھبرا گئے کھبی اوپر کھبی نیچے جائیں تو اس سے ہمیں بہت پریشانی اٹھانی پڑی۔
اس سے ملحقہ ایک اور گاؤں کے مکین محمد رفیق کا کہنا ہے کہ جب بھارتی فوج نے گولہ باری شروع کی تو اس وقت میں بازار میں تھا جوں ہی اپنے گھر پہنچا تو بچے اور عورتیں گھبراہٹ سے چیخ رہی تھیں تو ہم نے چالیس پچاس کے قریب بچوں اور عورتوں کو گولہ باری سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری طور پر سڑک کی کلوٹ میں بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیے
دھماکہ خیز مواد انڈین شیل تھے؟
صحافی ایم اے زیب کے مطابق پولیس دھماکہ خیز مواد کے بارے میں تحقیقات کررہی ہے۔ تاہم سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد ایک نوجوان محمد افضال نے نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ کے لیے قائم نوسیری ڈیم کے قریب سے لایا تھا جہاں گذشتہ روز بھارتی فوج نے کئی گولے داغے تھے۔ ان کے مطابق دھماکہ خیز مواد لانے ولا نوجوان زخمی ہے جس کی حالت تشویشناک ہے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق مذکورہ نوجوان دھماکہ خیز مواد اپنی ذاتی کار میں نوسیری سے گڑھی دوپٹہ لایا جہاں ایک دکان پر اپنے دوستوں کے ہمراہ اس دھماکہ خیز مواد کو کھول رہا تھا کہ وہ اچانک پھٹ گیا۔
یاد رہے کہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کے آغاز کے بعد لائن آف کنٹرول پر رہنے والے عام لوگوں کو بالعموم جبکہ وادی نیلم کے لوگوں کو بالخصوص مسلسل بیس برس تک دونوں افواج کے درمیان فائرنگ و گولہ کے تبادلے کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سیز فائر معائدہ کے باعث لائن آف کنٹرول پر بڑے عرصے بعد امن بحال ہوا جس کے نتیجے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بالعموم اور وادی نیلم میں بالخصوص سیاحت کو بڑے پیمانے پر فروغ ملا۔
دو سو کلو میٹر پر محیط وادی نیلم لاکھوں کی آبادی پر مشتمل یشتر افراد سیاحت کی فروغ پانے والی نئی صنعت سے وابستہ ہوگئے۔ اب ان علاقوں کے امن اور اسکے نتیجے میں سیاحت کے ذریعے روزگار کا انحصار دونوں ممالک کی فوج اور حکومتوں کے رویوں سے وابستہ ہے۔











