کشمیر میں سیاح محفوظ رہنے کے لیے کیا نہ کریں؟

،ویڈیو کیپشنکشمیر میں محفوظ سیاحت کے نو گُر کیا ہیں
    • مصنف, تابندہ کوکب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ برسوں میں سیاحت کافی تیزی سی بڑھی ہے۔ موسم گرما میں یہاں کی سرسبز ٹھنڈی وادیاں اور سرما میں برف پوش چوٹیاں سیاحوں کو یہاں کھینچ لاتی ہیں۔

محکمۂ سیاحت کے اندازے کے مطابق اس علاقے میں سالانہ دس لاکھ سے زائد سیاح آتے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کے ساتھ ساتھ علاقے میں حادثات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

چند ہفتے قبل وادی نیلم میں صوبہ پنجاب سے آنے والے طلبا کا ایک گروپ اس وقت حادثے کا شکار ہوا جب ایک کراسنگ پل ٹوٹنے سے لوگ پہاڑی نالے میں جا گرے۔ اس واقعے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کشمیر میں سیاحوں کو پیش آنے والے حادثات کی چار بڑی وجوہات ہیں۔

  • دریاؤں اور ندی نالوں میں نہانا
  • پانی کے کنارے پتھروں اور کچے پلوں پر تصاویر اور سیلفیاں بنانا
  • بل کھاتے رستوں پر تیز رفتار ڈرائیونگ
  • لینڈ سلائیڈز کو عجلت میں عبور کرنا

مقامی حکام کے مطابق کشمیر میں دریاؤں اور ندی نالوں کا پانی چونکہ پگھلے ہوئے گلیشیئرز سے آتا ہے اس سے ان میں گرنے والا شخص یخ پانی میں شاک کی کیفیت میں چلا جاتا ہے اور بعد ازاں ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو جانے سے اپنے بچاؤ کے قابلِ بھی نہیں رہتا۔

پانی کے تیز بہاؤ کے ساتھ ساتھ پتھروں کی مضبوطی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور ان کی پھسلن بھی حادثات کا سسب بن سکتی ہے۔

اسی بارے میں

خود سیاحوں میں بھی اس بات کا احساس موجود ہے۔ کراچی سے آنے والے فہد قاضی کے خاندان نے یہاں آنے کے لیے پیشہ ور مقامی ڈرائیور کا انتخاب کیا کیونکہ ان کے خیال میں پنجاب اور ملک کے نشیبی علاقوں سے آنے والوں کے لیے یہاں کے راستوں پر گاڑی چلانا آسان نہیں۔

ثنا فہد کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ صرف لڑکوں پر مشتمل سیاحتی گروہ تصاویر بناتے ہوئے احتیاط سے کام نہیں لیتے کیونکہ انھیں سیلفیاں بنانی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر خواتین ساتھ ہوں تو وہ انھیں روک لیتی ہیں۔‘

کشمیر سیاحت
،تصویر کا کیپشنکراچی سے انے والے ثنا فہد کا کہنا ہے کہ خواتین کی موجودگی سے خطرات کم ہوجاتے ہیں

پہاڑی راستوں، دریاؤں، ندی نالوں اور جنگلات کے قدرتی ڈھانچے سے ناآشنا سیاح وقتاً فوقتاً مختلف حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ ریسکیو اداروں کے مطابق ہر سال سیاحوں کو پیش آنے والے حادثات میں درجنوں لوگ ہلاک اور زخمی ہو جاتے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے اہلکار عمر درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ ریسکیو سروسز یہاں کئی سال سے کام کر رہی ہیں لیکن محدود وسائل اور کم عملے کے باعث دور دراز سیاحتی مقامات پر فوری امداد کی سہولت میسر نہیں۔

’مظفرآباد میں دو سٹیشن ہیں جبکہ وادی جہلم ہٹیاں بالا میں ایک ہے اور وادی نیلم میں ریسکیو سروسز ابھی قائم ہی نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں کٹن کے مقام پر سیاحوں کو پیش آنے والے حادثے کی خبر پر ریسکیو اہلکار 100 کلومیٹر سے زیادہ سفر کر کے وہاں پہنچے۔‘

کشمیر کے پہاڑی راستوں میں دو گھنٹے کے بعد پہنچ کر امدادی کارکنوں کا زندگی بچا پانا تقریباً ناممکن ہی ہے۔

کشمیر سیاحت
،تصویر کا کیپشنپہاڑی راستوں، دریاؤں، ندی نالوں اور جنگلات کے قدرتی ڈھانچے سے ناآشنا سیاح وقتاً فوقتاً مختلف حادثات کا شکار ہوتے ہیں

محفوظ سیاحت کے لیے کشمیر جائیں تو کیا نہ کریں؟

  • دریاؤں اور ندی نالوں میں نہانے سے گریز کریں۔
  • پانی کے قریب پتھروں پر چھڑھنے سے گریز کریں۔
  • نمی اور پھسلن والی جگہوں پر تصاویر بالخصوص سیلفی نہ لیں۔
  • بغیر تربیت دریاؤں اور ندی نالوں میں گرنے والوں کو بچانے کے لیے چھلانگ نہ لگائیں۔
  • خطرناک پیدل راستوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔
  • دریاؤں اور ندی نالوں کی گہرائی کو کم ہرگز نہ سمجھیں، پتھر سے اگلا قدم انتہائی گہرا ہو سکتا ہے۔
  • مقامی افراد اور تفریحی مقامات پر آویزاں تنبیہی ہدایت ناموں کو درگزر نہ کریں۔
  • لائن آف کنٹرول والے علاقے میں دریاؤں اور باڑ کے قریب نہ جائیں وہاں بارودی سرنگیں ہو سکتی ہیں۔
  • لینڈ سلائیڈ والی جگہوں پر گاڑی پہاڑ کے نزدیک کھڑی نہ کریں۔
  • بارش میں لینڈ سلائیڈ عجلت میں عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔

حکومت کے پاس کیا حل ہے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت یہ تسلیم کرتی ہے کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر سیاحوں کی آمد کے لیے تیار نہیں تھی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا تھا ’ہمارے لیے یہ سب اچانک تھا ہم اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کے لیے تیار نہیں تھے تاہم اب حکومت اس حوالے سے کام کر رہی ہیں۔‘

کشمیر سیاحت
،تصویر کا کیپشنکشمیر کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ سیاحت کے لیے کئی نئے منصوبے زیر غور ہیں

حکومت کا کہنا ہے کہ اب وہ آئندہ بجٹ میں سیاحت کی صنعت کے فروغ کے لیے ایک بڑی رقم مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

راجہ فاروق حیدر کے مطابق کشمیر آنے والے سیاحوں کو خطرات سے خبردار کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

’سیاحوں کو باقاعدہ ہدایتی پرچے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ طویل پہاڑی راستوں پر زیادہ حادثات کی وجہ بننے والے مقامات کی نشاندہی کر کے وہاں زیادہ سے زیادہ تنبیہی بورڈ آویزاں کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دریا کے کنارے پر ہوٹلوں اور دیگر تفریح گاہوں کی تعمیر پر پابندی ہے کیونکہ ہماری دریاؤں کا بہاؤ بہت تیز ہے۔ حفاظتی اقدامات کے طور پر کسی بھی تعمیر سے پہلے حکومت سے اجازت لی جائے گی۔‘

کشمیر کی حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے قواعد و ضوابط طے کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے ساتھ مل کر سیاحوں کی میزبانی کے منصوبے بھی بنا رہی ہے۔

راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا ’ہم کرایوں کے حوالے سے ایک حد مقرر کریں گے تاکہ سیاح کو لُوٹے جانے کا احساس نہ ہو۔ اس کے علاوہ ہمارا منصوبہ ہے کہ مقامی لوگوں کو ایک لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیے جائیں تاکہ وہ اپنے گھر میں ایک کمرے اور ایک بیت الخلا تیار کریں جس میں سیاحوں کے لیے ’پیئنگ گیسٹ‘ کی سہولت میسر کی جا سکے۔‘