کشمیر میں پل ٹوٹنے سے سات افراد ہلاک، آٹھ تاحال لاپتہ

،تصویر کا ذریعہAURENGZEB JARRAL
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں ایک پل ٹوٹنے کے نتیجے میں نالے میں گرنے والے افراد میں سے سات کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ آٹھ تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق اتوار کو یہ حادثہ وادی نیلم کے علاقے کنڈل شاہی میں اُس وقت پیش آیا، جب سیاحوں کی بڑی تعداد جاگراں نالہ کو پیدل عبور کرنے والے پل پر چڑھ کر سلفیاں لے رہی تھی کہ اچانک پل ٹوٹ گیا۔
صحافی اورنگزیب جرال کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اُس وقت پل پر دو درجن سے زائد سیاح موجود تھے جبکہ اس پیدل چلنے والے پل پر ایک وقت میں پانچ سے سات افراد تک ہی جا سکتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پل ٹوٹنے کی وجہ سے اُس پر موجود کئی سیاح نالے میں گر گئے اور اب تک پانی میں بہہ جانے والے افراد میں چھ کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ 15 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAURENGZEB JARRAL
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم کے ترجمان راجہ وسیم کے مطابق اس واقعے میں ایک خاتون سمیت سات سیاح ہلاک جبکہ پانچ خواتین سمیت 11 سیاح زخمی ہو گے ہیں۔
زخمیوں میں سے سات کا تعلق فیصل آباد، تین کا ساہیوال میڈیکل کالج سے ہے جبکہ ایک مقامی دکاندار بھی زخمیوں میں شامل ہے۔ زخمیوں کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ مظفر آباد منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ہلاک شدگان میں سے چھ کی لاشیں اتوار کو ہی تلاش کر لی گئیں جبکہ ایک لاش پیر کی صبح ملی ہے۔ پانی میں بہہ جانے والے آٹھ سیاح تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہلاک شدگان میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے تین طلبا، اسلام سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا جبکہ ساہیوال سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ بھی شامل ہے۔
فیصل آباد کے ایک نجی کالج کے ڈائریکٹر جنید سبحانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے کالج کے 66 طالب علم اور عملے کے چار ارکان کشمیر گئے تھے، ان میں تین طالب علم ہلاک ہوئے ہیں اور دو لاپتہ ہیں جبکہ باقی محفوظ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAURENGZEB JARRAL
لاپتہ افراد میں فیصل آباد کے نجی کالج کے دو طلبا کے علاوہ ساہیوال میڈیکل کالج اور شریف میڈیکل کالج لاہور کی تین طالبات اور ایک طالبعلم کے علاوہ ایک سیاح خاتون اور ایک مقامی شخص شامل ہیں۔
ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کی جانب سے اس واقعے سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے مظفر آباد میں ایک کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد نالے میں ڈوب جانے والے افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد اور دیگر حکام امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق دریا میں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے لاپتہ ہونے والے طلبا کی تلاش کے کام میں مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔








