ہیلی کاپٹر لائن آف کنٹرول کے قریب پرواز کر رہا تھا لیکن زیرو لائن پار نہیں کی: راجہ فاروق حیدر

فاروق حیدر

،تصویر کا ذریعہTwitter

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ ان کا ہیلی کاپٹر لائن آف کنٹرول کے قریب پرواز کر رہا تھا لیکن زیرو لائن پار نہیں کی تھی کہ انڈین فورسز فائرنگ کرتے۔

بی بی سی اردو کے رضا ہمدانی سے خصوصی بات کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ وہ کرائے پر لیے گئے نجی کمپنی کے ہیلی کاپٹر پر لائن آف کنٹرول کے قریب پرواز کر رہے تھے جب انڈین فورسز نے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی۔

راجہ فاروق حیدر نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب تروڑی کے علاقے سے گزر رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے بعد راجہ فاروق حیدر کا ہیلی کاپٹر بحفاظت اپنی منزل پر اتر گیا۔

وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہیلی کاپٹر لائن آف کنٹرول کے قریب پرواز کر رہا تھا لیکن ایل او سی کی خلاف ورزی نہیں کی اور انڈین فورسز کی فائرنگ کا جواز نہیں بنتا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ فارورڈ کہوٹہ گئے تھے۔ ’اتوار کے روز کہوٹہ کے علاقے گئے تھے جہاں ایک تو تعزیت کرنی تھی اور دوسرا انڈیا آرمی چیف کی جانب سے دی گئی نئی دھمکی کے حوالے سے لوگوں کے مورال دیکھ سکوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب فائرنگ کی گئی تو وہ اس علاقے پر پرواز کر رہے تھے جہاں انڈین فورسز گولہ باری کرتی رہتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا سویلین ہیلی کاپٹر زیرو لائن تک جا سکتا ہے جبکہ فوجی ہیلی کاپٹر کی پرواز سے قبل انڈیا کو مطلع کرنا ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ موسم بہت صاف تھا اور پائلٹ کو یہ خدشہ نہیں تھا کہ وہ ایل او سی کے پار چلا جائے گا کیونکہ سب صاف نظر آ رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایل او سی کی اس علاقے میں تین کلومیٹر کی پٹی پر پانچ لاکھ لوگ رہتے ہیں اور انڈین فورسز فائرنگ کر کے جانی اور مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ خاص ایریا ہے جہاں انڈین فورسز فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔‘

تاہم انڈین میڈیا کے مطابق ایک پاکستانی ہیلی کاپٹر نے لائن آف کنٹرول پر پونچھ سیکٹر میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہEPA

انڈیا کے وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیوندر آنند کا کہنا ہے کہ ایک سفید رنگ کے پاکستانی ہیلی کاپٹر نے اتوار کی دوپہر فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

انڈین خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں ایک ہیلی کاپٹر کو اڑتے دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ چھوٹے اسلحے سے فائرنگ کی جا رہی ہے۔

فارورڈ چیک پوسٹوں پر تعینات فضائی سنتریوں نے چھوٹے اسلحے سے فائرنگ کی جس کا مقصد پائلٹ کو باور کرانا تھا کہ وہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور واپس جائے۔

انڈین میڈیا کے مطابق دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر نے کرشنا گھاٹی سیکٹر کے علاقے گلپر پر انڈیا کے مقامی وقت کے مطابق 12 بج کر 13 منٹ پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پھر واپس چلا گیا۔

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی ای این آئی نے ہیلی کاپٹر کی پرواز کی 30 سیکنڈ کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مبینہ طور پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی فضائی حدود میں پرواز کر رہا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈیا نے 29 ستمبر کو سرکاری طور پر مبینہ سرجیکل سٹرائک کی دوسری سالگرہ سرکاری طور پر منائی۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سالانہ اجلاس سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے میں امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔ انہوں نے انڈیا پر الزام لگایا کہ اس نے اقوام عالم کے سامنے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا ہے جس کے سبب سات دہائیوں سےانڈیا کے زیر انتظام کشمیر کےعوام انسانی حقوق کی پامالی سہتے آرہےہیں۔