بھارت کو مبینہ سرجیکل سٹرائیکس سے کیا ملا؟

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس سری نگر
پاکستان کی مسلسل تردید اور بھارت میں تجزیہ نگاروں کی شدید تنقید کے باوجود بھارت میں نریندر مودی کی حکومت 29 ستمبر 2016 کو پاکستانی حدود میں داخل ہو کر مبینہ دہشتگرد ٹھکانوں کو تباہ کرنے والی مبینہ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کی دوسری سالگرہ سرکاری طور پر منا رہی ہے۔
ایل او سی کے قریب شمالی کشمیر کے اُوڑی قصبہ میں 19 ستمبر کو ایک فوجی چھاؤنی پر مسلح حملہ کیا گیا جس میں بیس فوجی مارے گئے۔ دس روز بعد بھارت نے سرجیکل سٹرائیکس کا دعوی کیا، تاہم پاکستان نے اس کی تردید کی۔
یہ بھی پڑھیے
اس آپریشن کا ہدف یہ بتایا گیا کہ پاکستان کو کشمیر میں مسلح تشدد کی پشت پناہی سے روکنا ہے تاکہ بھارت کی مجموعی سلامتی اور کشمیر میں امن کی بحالی ممکن ہوسکے۔
مبینہ سرجیکل سٹرائیکس سے قبل بھارتی ریاست پنجاب کے پٹھان کوٹ شہر میں واقع بھارتی فضائیہ کی بیس پر مسلح حملہ ہوا تھا اور اُوڑی حملہ کے بعد سرجیکل سٹرائیکس کو ایسے سبھی حملوں کو روکنے کی تذویراتی تدبیر قرار دیا گیا۔
گو گزشتہ دو سال کے دوران کسی بھارتی ریاست میں کوئی بڑا دہشتگردانہ حملہ نہیں ہوا، لیکن کشمیر کی صورتحال سرجیکل سٹرائیک کے بعد کشیدہ ہی نہیں بلکہ بے قابو معلوم ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کئےگئے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں صرف سو فورسز اہلکار مسلح حملوں میں مارے گئے جبکہ سرجیکل سٹرائیکس کے بعد والے سال یعنی 2017 میں یہ تعداد 124 ہوگئی۔
حالانکہ سرجیکل سٹرائیک کے بعد سے اب تک تقریباً 400 مسلح عسکریت پسند مارے گئے، لیکن حملوں میں کم از کم 300 فوجی، پولیس اور نیم فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔ اس مدت میں 200 سے زیادہ عام شہری بھی فوج ،پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ میں ہلاک ہوگئے۔
فوجی حکام کہتے ہیں کہ مبینہ سرجیکل سٹرائیکس کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ پاکستان میں مقیم مسلح گروپ اب بھارت میں ممبئی یا پٹھان کوٹ جیسے حملوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن کشمیر کے حالات سرجیکل سٹرائیکس کے بعد مزید ابتر ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu
اول تو یہ ہوا کہ تیس سالہ مسلح شورش میں پہلی مرتبہ کشمیر عوام کھل کر مسلح عسکریت پسندوں کی حمایت میں نکل آئے۔ مارے گئے عسکریت پسندوں کے جنازوں میں شرکت ہی نہیں بلکہ لوگ اب محصور عسکریت پسندوں کو ’بچانے‘ کے لیے جائے تصادم کے قریب مظاہرے کرتے ہیں اور ان پر فورسز اہلکار فائرنگ کرتے ہیں۔
اب تک ایسے مظاہروں میں کئی خواتین سمیت پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مبینہ سرجیکل سٹرائیکس کے بعد نہ صرف کشمیر کے اندر حالات کشیدہ ہوگئے بلکہ سرحدوں پر بھی جنگ جیسی صورتحال رہی۔ بھارتی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق 2017 اب تک کا سب سے خونین سال رہا ہے جس کے دوران مسلح حملوں اور تشدد کی سطح میں 167 فی صد اضافہ ریکارڑ کیا گیا۔
اور یہ سال مبینہ سرجیکل سٹرائیکس کے بعد کا سال تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو سال میں ایل او سی پر پاکستان نے کم از کم 1500 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی ٹھکانوں پر بمباری کی۔
گزشتہ دو سال کے دوران بھارتی فوج نے بڑی تعداد میں مسلح عسکریت پسندوں کو مار گرایا ، لیکن آج بھی 300 سے زیادہ عسکریت پسند سرگرم ہیں اور ان کی عوامی مقبولیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔
تیس سال میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کشمیر کے بارے میں رپورٹ جاری کردی اور بھارت سے کہا کہ وہ ہلاکتوں کی تحقیقات کرے اور اقوام متحدہ کے مبصرین کو کشمیر میں حالات کا جائزہ لینے کی اجازت دے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے اس رپورٹ کی توثیق کر دی اور نیویارک ٹائمز سمیت کئی عالمی اخبارات میں مودی حکومت کی کشمیر پالیسی پر نکتہ چینی کی گئی۔
سرجیکل سٹرائیک کے بعد کشمیر میں ہندنواز سیاست کی بساط بھی اُلٹ گئی۔ چار ماہ سے کشمیر میں گورنر راج نافذ ہے کیونکہ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ اقتدار کا اتحاد توڑ دیا ہے۔ حکومت ڈیڑھ سال سے پارلیمنٹ کی ایک سیٹ کےلیے الیکشن نہیں کروا سکی ہے اور اب پنچایتی انتخابات کے لیے لاکھوں افواج کی موجودگی کے باوجود مزید پچاس ہزار فورسز اہلکاروں کو تعینات کیا جارہا ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ مبینہ سرجیکل سٹرائیکس سے نہ تو پاکستان کو ’سبق‘ سکھایا جا سکا اور نہ ہی کشمیر پر بھارت کی سیاسی گرفت قائم ہوسکی۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل راوت نے اعلان کیا ہے کہ ’پاکستان کے خلاف ایک اور سرجیکل سٹرائیک کی ضرورت ہے۔‘
صحافی بلال فرقانی کہتے ہیں: ’پاکستان کو کشمیر سے الگ کرکے ڈیل کرنے کی پالیسی ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1971 میں جب پاکستان دو لخت ہوگیا تو چند سال کے اندر ہی کشمیر میں علیحدگی پسندی کی لہر پھیل گئی جو بعد میں خطرناک مسلح شورش پر منتج ہوئی۔" فرقانی کہتے ہیں کہ جب جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن رہا ہے کشمیر بھی پرسکون رہا ہے۔‘
محقق بسمابٹ کہتی ہیں کہ بھارتی قیادت کو ایسے آپریشن پر جشن منانا چاہیے جس کے اہداف حاصل ہوچکے ہوں۔ " پاکستان پہلے سے زیادہ کشمیر پر فعال ہے، اور کشمیر میں پوری آبادی ملی ٹینسی کی حمایت میں کھڑی ہے۔ حملے بھی ہو رہے ہیں اور کشمیری لڑکے اب فورسز کی بندوقیں چھین کر ان پر حملے کرتے ہیں۔ اگر واقعی سرجیکل سٹرائک ہوئی ہے تو دوسری سالگرہ پر حکومت ہند کو جشن نہیں منانا ہے بلکہ اپنا محاسبہ کرنا ہے۔‘
اب تک کی بھارتی حکومتوں کا موقف یہی رہا ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ پاکستان کی پراکسی تحریک ہے، پاکستان ہی مسلح تشدد کی پشت پناہی کررہا ہے اور اگر کوئی مسئلہ ہے بھی تو وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ معاملہ ہے۔ لیکن مودی حکومت کا موقف یہ ہے کہ اب تک سبھی حکومتوں نے پاکستان اور کشمیر کے تئیں نرم روی کا مظاہرہ کیا۔ مودی کے قومی سلامتی مشیر نے تو پہلے ہی "اوفینسیو ڈیفینس" یعنی جارحانہ دفاع کا ڈاکٹرین پیش کیا ہے۔
لیکن پاکستان اور کشمیریوں کے تئیں اس نئی پالیسی نے نہ صرف یہ کہ ہلاکتوں اور کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے بلکہ ہندنواز سیاست کو پہلی مرتبہ شدید عوامی بیزاری کا سامنا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اگر مبینہ سرجیکل سٹرائیکس کا مقصد کشمیر کے تنازعہ کو جڑسے ختم کرنا تھا، تو یہ مقصد اُلٹے نتائج پیدا کرچکا ہے کیونکہ پہلی مرتبہ ایسا لگتا ہے کہ مضبوط فوجی پکڑ کے باوجود کشمیر پر بھارت کی سیاسی گرفت نہایت کمزور پڑ گئی ہے۔








