پلوامہ میں شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مارچ سے قبل کشمیر میں کرفیو

سرینگر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناحتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے حکام نے سرینگر کے بادامی باغ میں واقع فوجی چھاؤنی کے ارد گرد دس کلومیٹر کے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام نے شہری ہلاکتوں کے خلاف سرینگر میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر کی جانب عوامی مارچ روکنے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنماؤں گذشتہ ہفتے پلوامہ میں تصادم کے دوران سات مظاہرین کی ہلاکت کے خلاف پیر کو سرینگر میں تعینات ہندوستانی فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر کی طرف عوامی مارچ کی کال دی تھی۔

سرینگر سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق علیحدگی پسندوں کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی فورم' کے رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک کی کال پر ہونے والے مارچ کو روکنے کے لیے بادامی باغ میں واقع وادی کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی کے گردونواح میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فورم کے بیان میں کہا گیا تھا: 'بھارت روزانہ نہتے عوام کو تہہ تیغ کررہا ہے، لہٰذا ہم چاہتے ہیں بھارتی فوج ایک ساتھ ہم سب کو مار دے، اسی لیے فوجی چھاؤنی کی طرف مارچ اب ناگزیر ہے۔'

تاہم فوجی ترجمان نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کال پر توجہ نہ دیں۔ ترجمان کے مطابق، 'پاکستان اور کشمیر میں اس کے حمایتی لوگوں کو فوج کے سامنے کھڑا کر کے خون خرابے کو ہوا دے رہے ہیں۔ فوج ہمیشہ ضبط سے کام لیتی ہے، اس لیے عوام کو چاہیے کہ ان کی گمراہ کن باتوں میں نہ آئیں۔'

سرینگر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپلوامہ میں تصادم کے دوران سات مظاہرین کی ہلاکت کے خلاف پیر کو سرینگر میں تعینات ہندوستانی فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر کی طرف عوامی مارچ کی کال دی گئی ہے

خیال رہے کہ گذشتہ سنیچر کو پلوامہ کے گاؤں سرنو میں ایک تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے کمانڈر ظہور ٹھوکر اپنے دو ساتھیوں سمیت مارے گئے، جسکے بعد جائے تصادم کے قریب ہزاروں لوگوں نے مظاہرے کیے۔ فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں سات افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ ان ہلاکتوں کے بعد کشمیر میں تین روزہ ہڑتال ہوئی۔

احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے حکام نے سرینگر کے بادامی باغ میں واقع فوجی چھاؤنی کے ارد گرد دس کلومیٹر کے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ پلوامہ اور دیگر اضلاع میں بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔

میر واعظ عمرفاروق اور سید علی گیلانی کو گھروں میں نظربند کیا گیا ہے تاہم محمد یاسین ملک گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے ہیں تاکہ وہ مارچ کی قیادت کر سکیں۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ مارچ کو ناکام بنانے کی خاطر ہر طرح کا حربہ آزمایا جارہا ہے۔

پلوامہ میں ہونے والی ہلاکتوں سے ہند نواز سیاسی خیمے میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رہنما علی محمد ساگر نے کہا کہ 'بھارت کشمیر کو فوجی کالونی سمجھتا ہے اور ایک سازش کے تحت یہاں لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے تاکہ ملک میں الیکشن کی تیاری کی جا سکے۔'

کشمیر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں مشترکہ مزاحمتی فورم نے تین روزہ ہڑتال کی کال دی

سابق رکن اسمبلی انجینیئر رشید نے بھی اتوار کو اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر کی طرف احتجاجی مارچ کیا تاہم انھیں گرفتار کرکے ذیلی جیل کوٹھی باغ میں قید کیا گیا۔ انھوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے مبصرین کی ٹیم کو فوراً کشمیر روانہ کرے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت کشمیر میں 230 عسکریت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف 'آپریشن آل آؤٹ' جاری ہے۔ یہ سال عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنوں کے حوالے سے نہایت خونی رہا۔

پولیس کے مطابق اب تک 240 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ نامعلوم مسلح افراد نے سات سیاسی کارکنوں کو بھی ہلاک کیا۔ اس کے علاوہ جائے تصادم کے قریب مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے متعدد واقعات میں اس سال 46 افراد مارے گئے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔