انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کی کارروائی میں تین عسکریت پسند اور آٹھ شہری ہلاک

کشمیر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکام کی طرف سے متعدد بار متنبہ کیے جانے کے باوجود فوجی کارروائیوں کے دوران مقامی لوگ محصور عسکریت پسندوں کو بچانے کے لیے جائے تصادم کے قریب جاکر مظاہرے کرتے ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں تین عسکریت پسند اور آٹھ نوجوان ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فوج کی جانب سے فائرنگ کا اقدام اس وقت کیا گیا جب مقامی آبادی نے فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان پلوامہ میں جاری آپریشن آل آوٹ کے خلاف مظاہرہ کیا۔

فوج نے عسکریت پسندوں کو اس علاقے میں محصور کیا اور اس کے بعد انھیں ہلاک کیا۔

نوجوانوں اور عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

واضح رہے کہ حکام کی طرف سے متعدد بار متنبہ کیے جانے کے باوجود فوجی کارروائیوں کے دوران مقامی لوگ محصور عسکریت پسندوں کو بچانے کے لیے جائے تصادم کے قریب جاکر مظاہرے کرتے ہیں۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننوجوانوں اور عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے

فورسز مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولیوں اور چھروں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ دو سال قبل مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا۔ جائے تصادم کے قریب مظاہرین کے فورسز کی فائرنگ میں اس سال 46 افراد مارے گئے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت کشمیر میں 230 عسکریت پسند سرگرم ہیں جنکے خلاف ’آپریشن آل آوٹ‘ جاری ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک 240 عسکریت پسند مارے گئے۔ نامعلوم مسلح افراد نے سات سیاسی کارکنوں کو بھی ہلاک کیا۔

سنیچر کو ہونے والی جھڑپ میں مارے گئے نوجوانوں میں سے عابد احمد لون انڈونیشیا سے ایم بی اے کی ڈگری لے کر لوٹے تھے۔ انھوں نے وہاں شادی بھی کرلی تھی اور ان کے بچے کی عمر تین ماہ ہے۔

متحدہ مزاحمتی قیادت کی اپیل: تین روزہ سوگ اور احتجاج کا اعلان

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں متحدہ مزاحت کے قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے پلوامہ میں فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے سات شہریوں کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے تین روزہ ہڑتال کی اپیل جاری کی ہے۔

کشمیری ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ مزاحمت کے قائدین نے پیر کو سری نگر کے چھاونی کے علاقے بادامی باغ کی طرف مارچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے ایک ٹویئٹر پیغام میں کہا ہے کہ آج سے کشمیر بھر میں تین روزہ سوگ اور بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ انڈین حکومت نے کشمیریوں کو فوج کے ذریعے ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور متحدہ مزاحمت کی قیادت اور عوام پیر کو بادامی باغ کی چھاونی کی طرف مارچ کریں گے اور حکومت سے مطالبہ کریں گے تمام کشمیریوں کو ایک ساتھ ہلاک کر دیں۔