انڈیا: کشمیر میں ہلاکتوں کے بعد ہڑتال، حالات کشیدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو شدت پسند اور چار شہریوں کی ہلاکت کے بعد ہڑتال ہے اور حکام نے انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی ہے۔
اتوار کی شب جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں حالات اُس وقت کشیدہ ہوگئے جب کھیتوں سے ایک شدت پسند کی لاش برآمد ہونے کے بعد ایک کار سے تین شہریوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں بھی ملیں۔
سرینگر میں تعینات بھارتی فوج کی 15ویں کور کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کا کہنا ہے کہ شوپیان کے پوہو گاؤں میں فوج کے ایک قافلے پر شدت پسندوں نے فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں ایک شدت پسند مارا گیا جس کی تحویل سے ایک رائفل بھی ملی۔
یہ بھی پڑھیے
کرنل کالیا کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں سہیل، شاہد اور شہنواز نامی شوپیان کے ہی تین شہری مارے گئے جو شدت پسندوں کے سہولت کار تھے۔ مارے جانے والے شدت پسند کی شناخت شوپیان کے عامر خان کے طور کی گئی۔
پیر کی صبح تصادم کی جگہ کے قریب ہی گوہر نامی ایک دوسرے شہری کی لاش بھی ملی۔ جس کے بعد میں پولیس نے بتایا کہ عاشق حسین نامی لشکرطیبہ کے ایک اور شدت پسند کی لاش شوپیان کے ہری پورہ علاقے سے ملی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس ترجمان منوج کمار کا کہنا ہے کہ عاشق کی موت پوہو گاوں میں ہونے والے تصادم کے بعد ہونے والے پر تشدد واقعات کی کڑی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں ایک شدت پسند زخمی ہوا تھا تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے
اس واقعے کے خلاف جنوبی کشمیر کے شوپیان، پلوامہ اور کولگام میں کشیدگی کی لہر پھیل گئی ہے اور لوگوں نے جگہ جگہ مظاہرے کیے۔
پولیس نے لاشیں لواحقین کے سپرد نہیں کی اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر قانونی کارروائی پوری کیے جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
علیحدگی پسندوں کی 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے اس واقعہ کو 'قتل عام' قرار دے کر پیر کو وادی بھر میں ہڑتال کی کال دی ہے۔
مظاہروں کو روکنے کے لیے حکام نے جنوبی کشمیر اور سرینگر کے بیشتر علاقوں کی ناکہ بندی کردی ہے، انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا ہے اور امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔
کشیدگی کے باعث اندرونی ریل سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسند اور فوج کے درمیان تصادم کے بعد وقفہ ہوا تھا اور بعد میں فائرنگ ہوئی اور کار میں سوار تین شہری مردہ پائے گئے۔
شوپیان کے پوہو میں رہنے والے ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'یہ انتقامی کارروائی تھی جس کے تحت تین معصوم شہریوں کو قتل کیا گیا۔'











