انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ، ضمنی انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔
ان ہلاکتوں کے خلاف پیر اور منگل کو علیحدگی پسندوں نے ہڑتال کی اپیل کر رکھی ہے۔ پیر کے روز ہڑتال کے دوران جگہ جگہ نوجوانوں نے بھارت مخالف مظاہرے بھی کیے۔
تیس سال میں پہلی بار ووٹنگ کی شرح نہایت کم یعنی سات فیصد رہی اور الیکشن پر علیحدگی پسندوں کی طرف سے دی گئی بائیکاٹ کی کال کا اثر حاوی رہا۔
الیکشن آفیسر شانت منو کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ہزار پولنگ مراکز میں سے کم از کم دو سو مراکز پر دھاوا بولا گیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادموں کے دوران سکیورٹی فورسز کے سو اہلکار بھی زخمی ہو گئے ہیں۔
سرینگر کی پارلیمانی نشست سرینگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع پر مشتمل ہے۔ اسے وسطی کشمیر کہتے ہیں کہ 30 سال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ یہاں لوگوں نے پولنگ مراکز کا رُخ نہیں کیا اور پرتشدد مظاہرے کیے۔
ہلاکتوں اور خوف کے ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے بھائی تصدق مفتی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے اپیل کی ہے کہ بدھ کو جنوبی کشمیر کی سیٹ کے لیے ہونے والے انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کئی ہند نواز سیاسی رہنماوں نے بھی انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انسانی جانیں ووٹ سے زیادہ قیمتیں ہیں۔
الیکشن آفیسر شانت منو کا کہنا ہے کہ انتخابات کی شرح ان کے لیے مایوس کن تھی۔ حالانکہ علیحدگی پسندوں کو کئی ہفتوں سے گھروں یا جیلوں میں نظربند کیا گیا لیکن انتخابات پر بائیکاٹ کا اثر پھر بھی غالب رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مبصرین کہتے ہیں کہ نئی دلی میں ہندو قوم پرست بی جے پی کی حکومت کو کشمیریوں کے تئیں سخت رویے کی مجبوری نے کشمیر میں حالات کو خطرناک رُخ دے دیا ہے۔
صحافی اور تجزیہ نگار گوہر گیلانی کہتے ہیں: ’ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی حکومت ہند علیحدگی پسندوں یا پاکستان کے ساتھ بات چیت کرتی تھی، کشمیر میں حالات پرسکون ہوتے تھے لیکن جب سے مودی سرکار آئی حکومت کا رویہ سخت گیر ہو گیا ہے اور لوگوں میں اس کا ردعمل اس سے بھی زیادہ سخت دیکھا جارہا ہے۔‘
واضح رہے گذشتہ سال جنوری میں جب سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کا انتقال ہوا تو اُس وقت ان کی بیٹی محبوبہ مفتی جنوبی کشمیر سے منتخب بھارتی پارلیمینٹ کی ممبر تھیں۔
والد کے انتقال کے بعد انھوں نے بطور وزیر اعلیٰ حلف اُٹھایا تو جنوبی کشمیر کے چار اضلاع پر مشتمل پارلیمانی نشست خالی ہو گئی۔ چند ماہ بعد محبوبہ کے قریبی ساتھی طارق قرہ پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوگئے۔ وہ سرینگر سیٹ سے رکن پارلیمان تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کئی ماہ کی تاخیر کے بعد گذشتہ ماہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان دونوں نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کا اعلان کیا۔
جنوبی کشمیر کی نشست پر محبوبہ کے بھائی تصدق مفتی کا مقابلہ کانگریس کے غلام احمد میر سے ہو رہا ہے۔
انتخابات بدھ کو ہوں گے لیکن پیر سے ہی جنوبی کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
جنوبی کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح بھی باقی علاقوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ’یہ انتخابات بہت بڑا چیلنج ہیں۔ اگر وسطی کشمیر میں یہ حالت رہی تو جنوبی کشمیر میں کیا ہوگا لیکن ہم پوری طرح تیار ہیں۔‘
مبصرین کہتے ہیں کہ اگر زمینی صورتحال اور سیاسی حلقوں کی اپیلوں کو الیکشن کمیشن نے سنجیدگی سے لیا تو بدھ کو ہونے والے انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں۔









