انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے لاکھوں طلبہ و طالبات گذشتہ ایک سال سے سکول، کالج نہیں جا پائے رہے

بچے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرینگر کے مغربی ضلع بڈگام کے ایک پہاڑی علاقے خان صاحب میں رضاکار اساتذہ نے پُرانے طرز کی اوپن ایئر کلاسز کا اہتمام کر کے سینکڑوں بچوں کے تعلیمی مستقبل کو بچانے کا بیڑا اُٹھا لیا ہے۔

جموں کشمیر میں گذشتہ ایک برس سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ گذشتہ سال پانچ اگست کو کشمیر کی آئینی خود مختاری ختم کر دی گئی جس سے عوام کی زندگی بے حد متاثر ہوئی ہے۔

کشمیری اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بہت حساس ہیں۔ گذشتہ سال پیش آئے واقعات سے ابھی کشمیر پوری طرح سنبھل نہیں پایا تھا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر وادی میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا جو کئی ماہ سے جاری ہے۔

جموں کشمیر میں تیس سالہ مسلح شورش کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ وادی کے لاکھوں طلبہ و طالبات ایک سال سے سکول، کالج یا یونیورسٹی نہیں جا سکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایسے وقت میں جب کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ پر پابندی عائد ہے، آن لائن کلاسز بھی ممکن نہیں ہو پا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں اساتذہ اور طلبا نے تعلیم جاری رکھنے کے نئے نئے راستے ڈھونڈ لیے ہیں۔

سکول

خان صاحب بڈگام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے کھلے آسمان تلے بچوں کو پڑھانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ اس مہم کو شروع کرنے والے ظہور احمد کہتے ہیں کہ ’ویسے بھی ہمارا علاقہ پسماندہ ہے۔ انٹرنیٹ پر کلاسز کی تجویز تو حکومت دیتی ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہتی ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ پر پابندی برقرار رہے گی۔ آن لائن کلاسز کے لیے دو بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے، ایک تو بچوں کے پاس سمارٹ فون ہونا چاہیے اور دوسرا قابل بھروسہ اور تیز رفتار نیٹ ورک۔ اِن دونوں کی غیرموجودگی میں ہم یہ سب نہیں کر سکتے۔‘

ظہور اور اُن کے ساتھیوں نے باغیچوں میں بچوں کو پڑھانے کا اہتمام کیا ہے۔

رضاکار اُستانی فہمیدہ محی الدین کہتی ہیں کہ ان کلاسز میں سماجی دُوری، ہاتھ دھونے اور سینیٹائز کرنے کا باقاعدہ خیال رکھا جاتا ہے۔

’اساتذہ اور طالب علم دونوں ہی ماسک پہنتے ہیں۔ ہم سرکاری ضوابط کو فالو کرتے ہیں، لیکن ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے۔ بچوں کا پہلے ہی بہت وقت ضائع ہو چکا ہے۔ کورونا لاک ڈاؤن تو چند ماہ پہلے کی بات ہے یہاں پچھلے سال اگست میں جو کچھ ہوا اس کے نتیجہ میں سب کچھ ٹھپ ہے، بچوں نے ایک سال سے سکول یا کالج میں کوئی کلاس اٹینڈ نہیں کی ہے۔‘

فہمیدہ محی الدین
،تصویر کا کیپشنفہمیدہ محی الدین: ’ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے۔ بچوں کا پہلے ہی بہت وقت ضائع ہو چکا ہے‘

بچوں کے لیے بھی یہ ایک دلچسپ تجربہ ہے۔

دسویں جماعت کی طالبہ صنوبر گُل کہتی ہیں کہ ’میں نے دادا جی سے سُنا تھا کہ کسی زمانے میں سکولوں کے صحن میں بچے پڑھتے تھے۔ ہم لوگ بہت خوش ہیں، کھلی ہوا ہے، اور ہم کلاس کو انجوائے کرتے ہیں۔‘

صنوبر کہتی ہیں کہ انھوں نے جیسے تیسے موبائل فون کا انتظام کر لیا تھا لیکن انٹرنیٹ کی سُست رفتار کی وجہ سے وہ آن لائن کلاسز میں شمولیت نہیں کر پائی ہیں۔

معروف ماہر تعلیم اور کشمیر میں موجود نجی سکولوں کی انجمن کے سربراہ جی این وار کہتے ہیں کہ گذشتہ ایک سال کے دوران کشمیر کا تعلیمی نظام نصف صدی پیچھے چلا گیا ہے۔

ظہور احمد
،تصویر کا کیپشنظہور احمد: ’انٹرنیٹ پر کلاسز کی تجویز تو حکومت دیتی ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہتی ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ پر پابندی برقرار رہے گی‘

’کشمیر میں بارہویں درجے تک 14 لاکھ بچے نجی اور سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ صرف مسئلہ یہ نہیں وہ ایک سال سے سکول نہیں جا پائے، مسئلہ نظام میں تبدیلی کا ہے۔ پورے انڈیا میں تیزرفتار انٹرنیٹ کے ذریعہ بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے اور امتحانات بھی آن لائن ہی منعقد ہو رہے ہیں مگر ہمارے بچے کسی شمار قطار میں ہی نہیں رہے، وہ کیا مقابلہ کریں گے؟‘

انھوں نے کہا کہ ’چھ سال یہاں سیلاب کی صورتحال ہوئی، پھر برہان وانی کا مسئلہ ہوا اور اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں ایک بھی کشمیری نوجوان سول سروس امتحانات کو پاس نہ کر سکا۔ بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے تعلیم کا۔‘